ضمنی انتخابات: بی جے پی اور سنگھ کا بگڑتا کھیل

اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو مستقبل کا ہندوتواچہرہ بنانے کی جو کوشش بی جے پی اور سنگھ کی جانب سے کی جا رہی تھی اس کو شدید جھٹکا لگا ہے ۔

By سید خرم رضا

اتر پردیش کی دو اور بہار کی ایک پارلیمانی سیٹ پر ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج نے تری پورہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی جیت پر پانی پھیر دیا۔ادھر بی جے پی اور سنگھ کی اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو مستقبل کے لئے ہندوتواکا چہرہ بنانے کی جو کوشش کی جا رہی تھی اس کو شدید جھٹکا لگا ہے ۔ ان نتائج نےبہار کے عظیم اتحاد کو چھوڑ کر جانے والے نتیش کمار کو بھی ایک بڑا پیغام دیا ہے۔ گجرات اسمبلی انتخابات کے نتائج نے اس جانب واضح اشارہ کر دیا تھا کہ ملک کی عوام مودی اور ان کی قیادت میں چل رہی مرکزی حکومت سے ناراض ہیں۔گجرات انتخابات کے بعد راجستھان و مدھیہ پردیش میں ہوئے ضمنی انتخابات نے بھی عوام کی اس ناراضگی نے مہر لگا دی تھی لیکن تری پورہ اسمبلی انتخابات کی کامیابی نے نہ صرف بی جے پی کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی تھی بلکہ اس جیت کا نشہ ایسا چڑھ گیا تھا کہ مخالفین تو مخالفین بی جے پی کارکنان کواپنے مخالفین کے مجسمہ بھی برے لگنے لگے۔ مجسموں سے جس طرح نفرت کا مظاہرہ کیا گیااس کا رد عمل پورے ملک میں ہوا اور پھر ایک دوسرے کے مجسموں کی بے حرمتی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

ارریہ کے ضمنی پارلیمانی چناؤ کے نتائج نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بہار میں لالو پرساد یادو آج بھی ایک بڑی سیاسی قوت ہیں۔ لالو کے جیل میں رہنے کے باوجود اگر آر جے ڈی امیدوار اسمبلی اور پارلیمنٹ میں کامیابی حاصل کرتے ہیں تو پھر اس پر کسی کو رتی بھر بھی شک نہیں ہونا چاہئے کہ لالو بہار کے ایک قد آور سیاسی رہنما ہیں۔

ارریہ میں تو جو ہوا سو ہوا لیکن جو اتر پردیش میں ہوا ہے اس کے تعلق سے تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ ’بات بہت دور تلک جائےگی‘۔ بی جے پی اور سنگھ کی حکمت عملی یہ ہے کہ یوگی کو بڑا ہندوتوا چہرا بنایا جائے اور ان کو مستقبل کی سیاست کا برینڈ بنایا جائے۔ اس کے لئے بی جے پی اور سنگھ نے ایک مہم چلائی تھی کہ ہندوستان میں کہیں بھی انتخابات ہوں وہاں یوگی آدتیہ ناتھ کو انتخابی مہم کے لئے بھیجا گیا اور نتائج کے بعد اس بات کی تشہیر کی گئی کہ جہاں یوگی جی جاتے ہیں وہاں بی جے پی کامیاب ہوتی ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ کہ مستقبل کے لئے بی جے پی ان کوپارٹی اور ہندوتوا کا چہرا بنانا چاہتی ہے لیکن ضمنی انتخابات کے جو نتائج آئے ہیں اس نے اس منصوبہ پر فی الحال تو پانی پھیر دیا ہے کیونکہ جس شخص کے تعلق سے یہ کہا جاتا رہا ہو کہ وہ جہاں بھی انتخابی مہم میں شریک ہوتے ہیں وہاں بی جے پی جیت جاتی ہے لیکن وہ اب اپنی پارلیمانی سیٹ جس پر ان کا بیس سال سے قبضہ تھا اور موجودہ اسی ریاست کے وزیر اعلی بھی ہیں وہ بی جے پی کو کامیابی سے ہمکنار نہیں کروا پائے ۔ اس کے علاوہ اتر پردیش کے نائب وزیر اعلی کیشو پرساد موریہ کی سیٹ بھی ہارنے کا مطلب ہے کہ عوام میں بی جے پی کو لے کر زبردست غصہ ہے۔

غصہ ایک پہلو ہے لیکن دوسرا بڑا پہلو یہ ہے کہ ان انتخابات میں ایس پی اور بی ایس پی کے ساتھ آنے سے حزب اختلاف کا ووٹ تقسیم نہیں ہوا۔ پھول پور پارلیمانی سیٹ کے تعلق سے مبصرین نے یہ کہا تھا کہ بی جے پی نے عتیق احمد انصاری کو مسلم ووٹ کاٹنے کے لئے کھڑا کیا تھا ۔ دوسری جانب اس بات پر بھی کھل کر تبصرہ کیا گیا کہ حزب اختلاف نے بھی ایک چال چلی اوربی جے پی کا براہمن ووٹ کاٹنے کے لئے کانگریس سے براہمن امیدوار کو کھڑا کیا گیا جو پیچھے سے ایس پی امیدوار کی حمایت تھی۔ ان انتخابات میں حزب اختلاف کی حکمت عملی کامیاب رہی اور اگر یہی حکمت عملی رہی تو بی جے پی کے اچھے دن جلد ختم ہو تے نظر آ رہے ہیں ۔

گجرات اسمبلی انتخابات کے بعد سے حزب اختلاف میں حوصلہ اور جوش نظر آ رہا ہے جبکہ اس کے بر عکس این ڈی میں بکھراؤ واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے۔ شیو سینا اور ٹی ڈی پی کی ناراضگی سب کے سامنے ہے، کسانوں کا انتہائی کامیاب مارچ ، ضمنی انتخابا ت میں بی جے پی کی زبردست شکست، بینک گھوٹالہ، بے روزگاری اور سونیا گاندھی کے ڈنر میں حزب اختلاف کے بڑے رہنماؤں کی شرکت ۔گزشتہ کچھ دنو ں کی یہ خبریں جو اب چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ بی جے پی کے لئے ہوا کا رخ بدل رہا ہے اور اس رخ کو بدلنے کے لئے مودی اور امت شاہ کے پاس اب وقت بہت کم ہے چونکہ گاڑی بھی بہت دور نکل گئی ہے۔