کشمیر: خدارا اب بندوق پھینک دیجیے! ...ظفر آغا

شجاعت بخاری کو سب سے بہتر خراج عقیدت یہی ہوگی کہ کشمیری، پاکستان کی دی ہوئی بندوق اب اٹھا کر پھینک دیں اور پھر دیکھئے وادی کشمیر جلد وادی بہشت بن جاتی ہے یا نہیں!

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

ظفر آغا

کشمیری صحافت کا سرتاج شجاعت بخاری مارا گیا! جی ہاں، شجاعت کوئی معمولی صحافی نہیں تھا وہ ’ ہندو‘ جیسے سنجیدہ اخبار کا برسوں بیورو چیف رہا، پھر اس نے خود اردو اور انگریزی اخبار کی شروعات کی۔اس کا انگریزی اخبار روزنامہ ’رائزنگ کشمیر‘ قلیل مدت میں وادی کی آواز بن گیا۔ ابھی حال میں جب حکومت ہند کی جانب سے وادی کشمیر میں جنگ بندی کا اعلان ہوا تو شجاعت نے اس کا خیر مقدم کیا۔ اس پر کشمیری انتہا پسند حلقوں میں اس کی مذمت ہوئی اور بس عین عید سے دو دن قبل شجاعت نے اپنے آفس سے جیسے ہی باہر قدم نکالے اس کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔

شجاعت کو کس نے مارا اور کیوں مارا؟ اس کا سیدھا اور سادہ جواب اس مضمون کے لکھے جاتے وقت تک نہیں مل سکا تھا اور شاید کبھی مل بھی نہ سکے! کشمیر میں پتہ بھی کھڑکے تو وہاں فوراً سازشی تھیوری چل پڑتی ہے اور شجاعت کی ناگہانی موت کے سلسلے سے بھی یہی جاری ہے۔ لیکن ایک بات میں ضرور کہہ سکتا ہوں اور وہ یہ کہ شجاعت بخاری کے قتل نے کشمیریوں کے ضمیر کو جھنجوڑ دیا ہے۔ ذرا ملاحظہ فرمایئے یہ ٹوئٹ’’ آج شجاعت بخاری کے جنازے میں مجھ کو اس بات کا احساس ہوا کہ کشمیر میں ہر زندگی موت کی کگار پر کھڑی ہے۔ اب ہم (کشمیری) سوگوار مجمع کی طرح ایک گھر سے دوسرے گھر اور ایک قبرستان سے دوسرے قبرستان کے سفر میں مشغول رہتے ہیں اور ہم میں ہر فرد اس سفر کے دوران اپنی موت کا منتظر رہتا ہے‘‘۔

اس ٹوئٹ کو کرنے والے کا نام شاہ فیصل ہے اور ایسی سیکڑوں کیا ہزاروں ٹوئٹس کشمیر میں سوشل میڈیا پر گشت کر رہی ہیں لیکن میں نے خاص طور پر اس ٹوئٹ کو اس لئے رقم کیا کیونکہ یہ ٹوئٹ شجاعت بخاری اور اسی کے ساتھ پورے کشمیر کے المیہ کی عکاسی کرتا ہے۔بے شک پورے کشمیر کو اب یہ نہیں معلوم کہ وہ کب مار دیا جائے گا۔ کبھی وہ ہندوستانی سیکورٹی کی گولی کا شکار ہوسکتا ہے اور کبھی کسی وقت وہ کشمیری انتہا پسند وں کے ہاتھوں مارا جاسکتا ہے اور اگر وہ سرحد کے پاس رہتا ہے تو پھر شاید پاکستانی گولا باری اس کے لئے لقمہ اجل بن سکتا ہے۔ الغرض ہر کشمیری اسی موت وزندگی کی کشمکش کے درمیان جی رہا ہے جس میں زندگی کب موت بن جائے اس کا اندازہ اس کو نہیں ہے۔ایک پورا سماج جب اس موت وزندگی کی بے یقینی منزل کو پہنچ جائے تو اس سماج کے لئے یہ سب سے بڑا المیہ ہے۔کشمیر آج اسی موت و زندگی کی کشمکش کے درمیان جی رہا ہے۔ اس بے یقینی میں کب وہ بھی دوسرا شجاعت بخاری بن جائے اس کو پتہ نہیں۔

لیکن یہ کیوں اور کیسے! آخر اس کا ذمہ دار کون ہے! وہ کون طاقتیں ہیں جنہوں نے کشمیریوں کو ایک زندہ لاش کی حیثیت تک پہنچا دیاہے۔کسی کشمیری سے پوچھئے تو وہ حالات کا ذمہ دار ہندوستانی حکومت کو ٹھہرائے گا، اس بات میں کسی حد تک وزن بھی ہے۔ ہماری سیکورٹی جس بے رحمی سے کشمیریوں کے ساتھ پیش آرہی ہے اس کے بعد کشمیری اگر شکایت کرے تو یہ کوئی بیجا بات نہ ہوگی۔ لیکن سیکورٹی والوں سے پوچھئے کہ بھائی کیا آپ کے پاس گولی بندوق کے سوا مسئلہ کشمیر کا کوئی حل نہیں تو وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ جب ہم پر گولی چلتی ہے تو کیا ہم خاموش تماشائی بنے رہیں۔ حکومت ہند سے اس مسئلہ پر بات کیجئے تو جواب ملتا ہے کہ بھائی آپ ہم سے سوال کیوں کر رہے ہیں ، ذرا پاکستان سے پوچھئے۔ ہم نے کتنی بار پاکستان کی طرف امن کا ہاتھ بڑھایا لیکن ہم کو اس کا جواب ممبئی تاج حملوں جیسے واقعات سے ملا۔ لیکن اس تمام توتو میں میں کے بیچ بے چارہ کشمیری پچھلی تین دہائیوں کے بیچ زندہ لاش بن کر رہ گیا۔

اس لئے میری ذاتی رائے میں مسئلہ کشمیر اب وہ گتھی بن چکی ہے جس کو حکومت ہند ، نہ ہماری سیکورٹی اور نہ ہی پاکستان کوئی بھی حل نہیں کرسکتا ہے۔ اب مسئلہ کشمیر اگر کوئی حل کر سکتا ہے تو کشمیری عوام خو د ہی حل کرسکتے ہیں۔ لیکن وہ کیسے! وہ تو بیچارے خود بے گناہ شجاعت بخاری کی طرح روز گولیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ وہ تو اب زندہ لاش کی حالت کو پہنچ گئے ہیں، بھلا وہ اس سنگین ہندو پاک تنازع کو کیسے حل کر سکتے ہیں۔ میرا جواب ابھی بھی یہی ہے کہ اس مسئلہ کو محض کشمیری عوام ہی حل کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لئے بڑی جرآت چاہئے ہوگی۔ اس سے پہلے ان کو اپنے دلوں میں جھانک کر دیکھنا ہوگا اور خود سے یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ آخر کشمیر کو اس نوبت تک پہنچایا کس نے!

اگر صدق دل سے اس سوال کا جواب پوچھا جائے تو جواب کوئی ایسا مشکل نہیں ۔ ارے وادی جنت ، وادی جہنم اس وجہ سے بن گئی کہ کچھ سر پھرے اور گمراہ نوجوانوں نے سن 1980 کی دہائی کے خاتمے پر حکومت ہند سے غصہ ہو کر بندوق اٹھا لی اور اعلان کردیا کہ ہم اپنے مسئلہ کا حل بندوق کے ذریعہ کر لیں گے، اب سوال یہ ہے کہ امن پسند کشمیری کے ہاتھوں میں بندوق دی کس نے! یہ بندوق حکومت ہند نے تو کشمیریوں کو دی نہیں ۔ دنیا واقف ہے کہ کشمیریوں کو بندوق پاکستانی فوج نے فراہم کروائی اور یہ وہی بندوق ہے جس نے پچھلی تقریباً تین دہائیوں میں ہزاروں بے گناہ شجاعت بخاری کو موت کی نیند سلا دیا۔

جی ہاں! اب کشمیری کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہےکہ اس کی موت کی ذمہ دار وہ بندوق ہے جو اس کے ہاتھوں میں پاکستانی فوج اور اس کے ایجنٹوں نے پہنچائی ہے۔ لیکن بھلا پاکستانی فوج نے یہ بندوق وادی جنت تک پہنچائی کیوں! یہ کوئی بڑی ایسی بات نہیں کہ جس کا جواب بہت مشکل ہو۔ سن 1971 میں ہندوستانی فوج کے ہاتھوں شکست اور بنگلا دیش کے قیام کے بعد پاکستانی فوج کو یہ بات بخوبی سمجھ میں آگئی کہ وہ ہندوستان سے جنگ نہیں جیت سکتی ہے۔ ہندوستان پھر پاکستان کے خلاف کوئی جنگ نہ چھڑے اس کا حل پاکستانی فوج کو چاہئے تھا ۔ اس کا بہترین حل ان کو سمجھ میں یہ آیا کہ کسی طرح ہندوستانی فوج کو کشمیر میں پھانس دو۔ بس اسی مقصد کے لئے پاکستانی فوج نے کشمیریوں کے ہاتھوں میں بندوق تھمادی۔ یہ وہی بندوق ہے جو معصوم شجاعت بخاری جیسوں کو آئے دن موت کی نیند سلا رہی ہے۔یاد رکھیے ادھر ادی کشمیر میں جب جب ایک ماں اپنے نونہال کی لاش پر روتی ہے تب تب سرحد پار پاکستانی فوجی جنرل قہقے لگا کر ہنستے ہیں کیونکہ ان کو یہ یقین ہو جاتا ہے کہ ہندوستانی سیکورٹی تو کشمیر میں پھنسی ہے اس لئے وہ محفوظ ہیں۔

اب کشمیریوں کو خود یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ہر روز ایک شجاعت بخاری کا جنازہ اپنے کندھوں پر اٹھانا چاہتے ہیں یا نہیں۔ میری ذاتی رائے میں شجاعت بخاری کو سب سے بہتر خراج عقیدت یہی ہوگی کہ کشمیری، پاکستان کی دی ہوئی بندوق اب اٹھا کر پھینک دے اور پھر دیکھئے وادی کشمیر جلد وادی بہشت بن جاتی ہے یا نہیں! لیکن یہ فیصلہ کشمیریوں کو خود کرنا ہوگا ، یہ فیصلہ دہلی یا اسلام آباد میں نہیں ہو سکتا۔یہ فیصلہ تو سری نگر میں ہی ہوگا اور اگر ابھی بھی یہ فیصلہ نہیں ہوتا تو کشمیری مانند زندہ لاش کب تک جیتا رہے اس کا کچھ پتہ نہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔