بی جے پی حکومت میں انصاف کی تلاش!... نواب اختر

ملک میں تیار کیے گئے ماحول سے باشندگان وطن خوف زدہ ہیں جس کا احساس خود حکومت کو بھی ہے مگرسربراہان ملک موجودہ حالات کے’ناگفتہ بہ‘ ہونے کا اعتراف کرکے اپنے ’راشٹر بھکتوں‘ کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

نواب علی اختر

بی جے پی کے مرکزی اقتدار پر قابض ہونے کے بعد سے لگاتار کئی ایسے فیصلے اور معاملے سامنے آرہے ہیں جن کے نتائج سے ملک کا مہذب سماج سکتہ میں ہے شاید یہی وجہ ہے کہ حکومت اور عدالت کے فیصلوں سے متاثر ہو کرحکمراں طبقہ کے حامی ’راشٹر بھکتوں‘ نے ’مسلم مکت بھارت‘ کے خطرناک منصوبے پر کام کرنا شروع کردیا ہے۔ حکومت اور اس کے حامیوں کی طرف سے ملک میں تیار کیے گئے ماحول سے باشندگان ملک خوف زدہ ہیں جس کا احساس خود حکومت کو بھی ہے مگر سربراہان ملک اعلانیہ طور پر موجودہ حالات کے’ناگفتہ بہ‘ ہونے کا اعتراف کر کے اپنے ’راشٹربھکتوں‘ کو ناراض کرنا نہیں چاہتے۔

حکومت کے اسی رویئے کی وجہ سے ایسا پہلی بار ہو رہا ہے جب کثیرالمذاہب اورسیکولر ملک کے طور پر دنیا میں مشہور ہندوستان کے خلاف غیرممالک کو بولنے کا موقع مل گیا ہے۔ ہندوستان کو بین الاقوامی سطح پر اقلیتوں کی حفاظت، مسلمانوں کے خلاف حملے روکنے اور انسانی حقوق کا تحفظ کرنے کا سبق پڑھایا جا رہا ہے۔ ان سب کے باوجود حکومت ہند کو کنٹرول کرنے والی حکمراں پارٹی کسی کی تنقید کو خاطرمیں لانے اور اپنے منصوبے پر نظرثانی کرنے کو تیارنہیں ہے۔

سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گردانہ معاملہ ہو یا سہراب الدین اور عشرت جہاں جیسے کم ازکم نصف درجن فرضی انکاؤنٹر،ان سبھی معاملوں میں آرہے فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہیں مگر یاد رکھنا چاہیے کہ مودی حکومت میں کہیں بھی، کبھی بھی اور کچھ بھی ہوسکتا ہے اور کوئی غیر یقینی نتیجہ بھی آجائے تو اب عوام اور خاص کر اقلیتوں کو کوئی حیرانی نہیں ہو رہی ہے کیونکہ آئے دن سرے عام جرم کرنے والے ملزموں کو با عزت بری کیا جارہا ہے اور اسی تناظر میں پہلو خان مقدمہ میں ہوئے فیصلے سے کوئی حیرت نہیں ہوئی لیکن مایوسی ضرور ہوئی ہے۔

یکم اپریل 2017 کو راجستھان کے الور میں ایک پک اپ وین روک کر 52 سالہ ڈیری تاجر پہلو خان کو اتارا جاتا ہے، خود ساختہ گئو رکشک اس ضعیف کو بری طرح پیٹتے ہیں، اس حیوانیت کی ویڈیو بھی بنتی ہے لیکن دو سال بعد 14 اگست 2017 کو جب الور ضلع وسیشن کورٹ کا فیصلہ آتا ہے تو قتل جیسے سنگین معاملے میں گرفتار لوگوں کو بری کر دیا جاتا ہے۔ اتنا ہی نہیں فیصلہ آتے ہی عدالت کے باہر ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے لگتے ہیں مگر اس بات کو لے کر افسوس کا احساس نہیں ہے کہ کسی شہری کو سرعام مار کر بھی قاتل بچ سکتے ہیں۔

عدالت نے یہ نہیں کہا کہ قتل نہیں ہوا یا جو مارا گیا وہ پہلو خان نہیں تھا بلکہ یہی کہا کہ اس معاملے میں جوملزم اس کے سامنے لائے گئے ہیں انہیں مجرم ثابت کرنے کے لئے کافی ثبوت نہیں ہیں اس لئے وہ بری کیے جاتے ہیں۔ ملزم بری ہوئے ہیں، پہلو خان کو انصاف نہیں ملا ہے، ہماری عوامی رائے میں انصاف کی یہ جگہ ہے۔ جس کا قتل ہوگا اس پر زبان بند رکھی جائے گی، ملزم بری ہوں گے تو ’بھارت ماتا کی جے‘ کا نعرہ لگا کر اپنی اخلاقی شکست کو فتح کے طور پرمنوانے کی کوشش کی جائے گی۔ اب تک یہی دیکھا گیا ہے کہ ’مسلمانوں سے نفرت‘ کے اظہار کے لئے ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے لگائے جاتے رہے ہیں لیکن اب شاید انسانیت کا خون ہوتے دیکھ کر بھی ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے لگا نے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

پہلوخان کی لنچنگ کے وقت بنائی گئی ویڈیو کے سہارے پورا واقعہ سامنے آیا تھا، کوئی بھی دیکھ سکتا ہے کہ کچھ لوگ پہلو خان اور اس کے بیٹے کو پک اپ وین سے اتار کر لاٹھی ڈنڈوں سے بری طرح پیٹ رہے ہیں۔ اسی ویڈیو کی بنیاد پر راجستھان کی کرائم برانچ اور سی آئی ڈی نے 9 ملزمان بشمول تین نابالغوں کو نامزد کیا اور گرفتار بھی کیا۔ اس پورے معاملے میں مقدمے کی سماعت ہوئی اور پھر ان سبھی کو راجستھان ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی۔ ہائی کورٹ میں سب نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ لوگ موقع واردات پر موجود نہیں تھے۔ پولس نے اس پورے معاملے میں پہلو خان کے دونوں بیٹوں کو گواہ بنایا تھا جو اس وقت موقعہ واردات پر موجود تھے۔ پولس کی ناکامی رہی کہ جس شخص نے ویڈیو بنائی تھی وہ کبھی بھی بیان دینے نہیں آیا اور نہ ہی اس موبائل کو(عدالت کے فیصلے کے مطابق) قبضہ میں لیا گیا جس سے ویڈیو بنائی گئی تھی۔ گواہ منحرف ہو گیا لیکن ویڈیو تو اب بھی محفوظ ہے۔ پولس نے یہ نہیں کہا ہے کہ ویڈیو فرضی ہے۔ ملزمان کے وکیل نے کہا کہ ویڈیو میں جو لوگ ہیں ان کے چہرے ملزم سے نہیں ملتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہی کہا کہ ویڈیو میں ملزمان کی شکل صاف نہیں ہے اور ویڈیو بنانے والے نے کورٹ میں گواہی نہیں دی۔

پہلو خان نے مرنے سے پہلے جن چھ لوگوں کے نام لئے تھے انہیں سی بی سی آئی ڈی نے پہلے ہی بری کر دیا تھا یعنی ان کے خلاف چارج شیٹ ہی نہیں داخل نہیں کی۔ ان سب سے صاف پتہ چل رہا ہے کہ پولس کی تفتیش میں کتنی خامیاں ہیں۔ پولس پر بھروسہ نہیں رہا ہوگا یا پھر کسی طرح ’سانٹھ گانٹھ‘ ہوگئی ہوگی، کوئی سبب ضرور رہا ہوگا جس کی وجہ سے ویڈیو بنانے والا گواہی سے منحرف ہوگیا۔ اس کا انحراف ہمارے نظام عدل پر بھی تنقید کرتا ہے جس ویڈیو کی بنیاد پر گرفتاری ہوئی اسی ویڈیو کی بنیاد پر ملزم بری ہو گئے لیکن اسی معاملے پرمیڈیا کی طرف سے تیارکیا گیا ایک ’حقیقی‘ ویڈیو اورسامنے آیا تھا جس میں ملزم وپن شکلا پک اپ روکنے سے لے کر پہلو خان کو قتل کرنے کی بات قبول کر رہا ہے لیکن عدالت نے اس ویڈیو کا نوٹس نہیں لیا۔

اس پورے واقعہ کو لے کر پولس کی تحقیقاتی رپورٹ پر کئی سوال اٹھائے گئے۔ ایک رپورٹ میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ پولس نے اپنی ایف آئی آر میں قتل کی کوشش (دفعہ307 ) نہیں لگائی۔ بلکہ دفعہ 308 غیر ارادتاً قتل کی دفعہ لگا دی۔ پہلو خان کے قتل کا ویڈیو گنہگاروں کو خواہ نہ پکڑوا سکا مگر اس ویڈیو میں شامل لوگ زندگی بھر اپنے گناہ کو کیسے چھپائیں گے۔ وہ جہاں بھی ہوں گے جب بھی اس ویڈیو کو دیکھیں گے کانپ اٹھیں گے۔

پہلو خان کا قتل موب لنچنگ کے ابتدائی واقعات میں سے تھا۔ اس کے بعد ایک ایسا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا جس میں بھیڑ نے گائے کی حفاظت کے نام پر کئی لوگوں کی پیٹ پیٹ کرجان لے لی۔ زیادہ تر کیس پولس کی جانچ کی وجہ سے دم توڑ گئے۔ 2009 اور 2014 کے درمیان موب لنچنگ کا ایک کیس ہوا تھا جبکہ 2014 سے 2019 کے درمیان میں موب لنچنگ کے 109 معاملے درج ہوئے ہیں۔ اس میں 40 لوگوں کی موت اور 123 زخمی ہوئے ہیں۔ انصاف کتنا مشکل ہے، تاریخ بھی ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔ اسی لئے حکومتیں تاریخ کی کتاب بدل دیتی ہیں، انصاف اپنے آپ بدل جاتا ہے۔ ہندوستان میں گزشتہ چند سالوں میں اخبار کے صفحے ارشاد، محمداخلاق، تبریز انصاری جیسوں کی کہانیوں سے پٹے پڑے ہیں۔ حال میں ہی شائع ہوئی ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق مئی 2015 اور دسمبر 2018 کے درمیان ہندوستان کے 12 صوبوں میں کم از کم 44 افراد ہلاک ہو گئے جن میں 36 مسلمان تھے۔ اس مدت میں 20 صوبوں میں 100 سے زائد الگ الگ واقعات میں تقریبا 280 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ہندوستان میں ’گئورکھشا کے نام پرتشدد‘ نام سے شائع ہوئی ہیومن رائٹس واچ کی کئی واردات کا حوالہ دینے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ تقریباً تمام معاملات میں شروع میں پولس نے جانچ روک دی، عمل کو نظر انداز کیا اور یہاں تک کہ قتل اور جرائم پر لیپا پوتی کرنے میں ان کی ملی بھگت رہی۔ پولس فوری طور پر تحقیقات اور مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کے بجائے، انسداد گئوکشی قوانین کے تحت متاثرین، ان کے خاندان اور گواہوں کے خلاف معاملے درج کرنا ہی اپنی ڈیوٹی سمجھا۔

Published: 18 Aug 2019, 10:10 PM