شکست کا خوف اور مودی کی بوکھلاہٹ...سہیل انجم

ان انتخابات نے یہ بات بھی ثابت کر دی ہے کہ دروغ گوئی کے ساتھ ساتھ سطحی بیان بازی میں بھی مودی کا کوئی ثانی نہیں۔ اگر اس فن کی کوئی عالمی چمپئن شپ ہو تو ٹرافی ہندوستان ہی کے قبضے میں آئے گی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سہیل انجم

اس الیکشن نے ایک بار پھر یہ بات ثابت کر دی کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو فراٹے سے جھوٹ بولنے کا ملکہ حاصل ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ انھیں اپنی اس ”خوبی“ پر بڑا ناز ہے۔ وہ جب کوئی جھوٹ بولتے ہیں اور پھر پکڑے جاتے ہیں تو انھیں شرمندگی کے بجائے فخر ہوتا ہے کہ ان کے بیان پر لوگ بحث کر رہے ہیں اور ان کی باتیں میڈیا میں چھائی ہوئی ہیں۔ انھیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ ان کی یہ ”خوبی“ وزیر اعظم کے منصب کے وقار کو ملیا میٹ کر رہی ہے۔ انھیں اس منصب کے وقار کی کبھی کوئی پروا رہی ہی نہیں۔

ان انتخابات نے یہ بات بھی ثابت کر دی ہے کہ دروغ گوئی کے ساتھ ساتھ سطحی بیان بازی میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں۔ اگر اس فن کی کوئی عالمی چمپئن شپ ہو تو ٹرافی ہندوستان ہی کے قبضے میں آئے گی۔ کوئی کتنا ہی بڑا لسان اور چرب زبان کیوں نہ ہو اور اس نے کتنے ہی ڈبیٹ اور تقریری مقابلوں میں حریفوں کے چھکے چھڑائے ہوں لیکن وہ عامیانہ زبان استعمال کرنے اور وقار و شائستگی سے بلا جھجک نیچے اتر آنے میں مودی کا مقابلہ نہیں کر پائے گا۔ اگر جھوٹ بولنے کا کوئی عالمی مقابلہ ہو تو اس میں بھی چمپئین مودی ہی ثابت ہوں گے۔


یوں تو انتخابی مہم کے آغاز کے بعد سے ہی ان کی زبان بتدریج تہذیب و شائستگی کا دامن چھوڑتی اور ایک ایک پائیدان نیچے اترتی جا رہی تھی لیکن حد تو اس وقت ہو گئی جب انھوں نے کانگریس دشمنی میں آنجہانی وزیر اعظم راجیو گاندھی تک کو گھسیٹ لیا اور کہہ دیا کہ ان کی زندگی کا خاتمہ ”بھرشٹاری نمبر ون“ کی حیثیت سے ہوا۔ ان کا اشارہ بوفورس توپ سودے کی جانب تھا۔ حالانکہ یہ دنیا جانتی ہے کہ راجیو گاندھی کی زندگی کا خاتمہ کس دردناک انداز میں ہوا تھا۔ ان کی اس موت کو دنیا نے شہادت کے طور پر دیکھا اور سمجھا۔

جہاں تک بوفورس توپ سودے میں دلالی کے الزام کی بات ہے تو سی بی آئی سولہ برسوں تک خاک چھانتی رہی مگر اسے دلالی کا ایک معمولی سا بھی ثبوت نہیں ملا۔ بالآخر دہلی ہائی کورٹ نے ان کو اس الزام سے بری کر دیا اور اپنے فیصلے میں کہا کہ بوفورس توپ سودے میں رشوت ستانی کا کوئی ثبوت ہی نہیں ہے۔ ابھی پچھلے سال بی جے پی کے ایک لیڈر نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرکے اس نام نہاد اسکینڈل کے بھوت کو پھر زندہ کرنے کی کوشش کی لیکن عدالت عظمیٰ نے اس اپیل کو خارج کر دیا۔


لیکن اس کے باوجود بی جے پی لیڈران اور خاص طور پر نریند رمودی بوفورس توپ سودے میں مبینہ رشوت ستانی کا الزام لگا کر کانگریس کو برا بھلا کہتے رہتے ہیں۔ مہذب سماج کا یہ ایک عام اصول ہے کہ اگر کوئی شخص دنیا سے چلا جائے تو اس کی اچھائیوں کو بیان کیا جاتا ہے برائیوں کو نہیں۔ اس پر کوئی الزام تراشی بھی نہیں کی جاتی۔ کیونکہ بحث کا یہ قاعدہ ہے کہ جو شخص اپنے اوپر عاید کیے جانے والے الزامات کا جواب دینے کے لیے موجود نہیں ہے اس پر کوئی الزام نہ لگایا جائے۔

اس متفقہ اصول پر پوری دنیا عمل پیرا ہے۔ لیکن کیا کیا جائے کہ بوکھلاہٹ اور الیکشن جیت لینے کی ہوس نے وزیر اعظم مودی کو ان تمام اصولوں کو بالائے طاق رکھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ویسے بھی وہ کسی اصول و ضابطے کو کہاں مانتے ہیں۔ ان کے نزدیک قانون کا بھی کوئی احترام نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے زندوں کو نشانہ بناتے بناتے مُردوں تک کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ اس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ کسی بھی بہانے سے عوام کو کانگریس سے برگشتہ کیا جائے۔


اسی درمیان انھوں نے ایک اور جھوٹ بولا۔ انھوں نے الزام عاید کیا کہ راجیو گاندھی نے آئی این ایس وراٹ کو ذاتی ٹیکسی کے طور پر استعمال کیا۔ لیکن مودی جس دورے کا حوالہ دیتے ہیں اس کے بارے میں حقائق سامنے موجود ہیں۔ بحریہ کے سابق سینئر افسران نے مودی کے جھوٹ کو بے نقاب کیا اور بتایا کہ وہ ذاتی نہیں بلکہ سرکاری دورے پر گئے تھے۔

وزیر اعظم مودی بار بار کہتے ہیں کہ 70برسوں میں کانگریس نے ملک کو لوٹا اور ملک میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا۔ لیکن اور سب چھوڑ دیجیے صرف راجیو گاندھی کے دور حکومت کو ہی لیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس دور میں بھی بڑی ترقی ہوئی تھی۔ جب راجیو گاندھی نے مغربی ملکوں کو دیکھ کر ہندوستان میں بھی کمپیوٹر لانے کی بات کی تھی تو لوگ ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ لیکن وہ اپنے موقف پر قائم رہے اور ان کے ساتھیوں نے جن میں سیم پترودہ قابل ذکر ہیں، جن کے ایک بیان پر بی جے پی والوں نے ہائے توبہ مچائی ہوئی ہے، ان کی خواہش کے مطابق ملک میں کمپیوٹر کا پروگرام شروع کیا۔


اس طرح ملک میں کمپیوٹر انقلاب آگیا۔ آج پورا ملک کمپیوٹر پر منحصر ہے اور بہت سے ترقیاتی پروجکٹ کمپیوٹر سے منسلک ہیں۔ آج بیشتر گھروں میں کمپیوٹر موجود ہے، لیپ ٹاپ موجود ہے۔ آج کوئی بھی شعبہ حیات ایسا نہیں ہے جو کمپیوٹر کا محتاج نہ ہو۔ اسے راجیو گاندھی کی دین کہا جا سکتا ہے۔ اس انقلاب سے آج خود مودی جی کتنا فائدہ اٹھا رہے ہیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔

راجیو گاندھی نے ووٹ دینے کی عمر کو 22 سال سے گھٹا کر 18 سال کر دیا تھا جس کی وجہ سے کروڑوں نوجوان ووٹر بن گئے تھے اور آج بھی 18 سال کی عمر کے جو لوگ ووٹ ڈال رہے ہیں وہ راجیو گاندھی کی دین ہے۔ راجیو گاندھی نے پنچایتی راج سسٹم کو مربوط کیا۔ اس کے علاوہ نودیہ اسکولوں کا ملک بھر میں جال بچھا دیا۔ اور بھی متعدد ترقیاتی کام ہیں جو صرف راجیو گاندھی کے دور میں ہوئے۔


جہاں تک کرپشن اور مالی بدعنوانی کا تعلق ہے تو بوفورس سودے کے علاوہ کوئی اور داغ ان کے دامن پر نہیں ہے۔ بوفورس میں بھی عدالت ان کو کلین چٹ دے چکی ہے۔ اس کے باوجود اس کے بھوت کو مار مار کر زندہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سیاسی مخالفت اپنی جگہ پر لیکن انسانیت بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔

اس الیکشن نے یہ بات بھی ثابت کی ہے کہ مودی کے مقابلے میں کانگریس صدر راہل گاندھی انتہائی شرافت و شائستگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یہ ان کی خاندانی شرافت ہے کہ وہ مودی کے جھوٹ اور ان کی ہفوات کو بھی بڑے تحمل کے ساتھ برداشت کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس پوری مہم میں کوئی ہلکی بات نہیں کہی۔ دونوں رہنماؤں کے بیانات یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ خاندانی شرافت ہر شخص میں نہیں پائی جاتی اور کم از کم گھر سے بھاگ جانے والے میں تو بالکل ہی نہیں پائی جاتی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 12 May 2019, 8:10 PM