مودی بریگیڈ ہی نہیں، اویسی کے لیے بھی تاریخ ساز رہا 2019 کا اِنتخابی نتیجہ

ایسا پہلی بار ہوا ہے جب آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے دو لیڈران پارلیمنٹ پہنچے ۔ مہاراشٹر سے امتیاز جلیل کی کامیابی نے ظاہر کر دیا ہے کہ پارٹی اب تلنگانہ کے باہر بھی اپنی طاقت بڑھا رہی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

تنویر احمد

عام انتخاب 2019 کے نتائج سے مودی بریگیڈ میں خوشی کی لہر ہے، لیکن ایک مودی مخالف پارٹی ایسی بھی ہے جس کے لیے انتخابی نتیجہ خوشخبری لے کر آیا ہے۔ اس پارٹی کا نام ہے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین یعنی اے آئی ایم آئی ایم۔ دراصل اے آئی ایم آئی ایم کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے جب اس کے دو لیڈران پارلیمنٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں، اوریہ اس پارٹی کے لیے بڑی خوشخبری ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ پارٹی سربراہ اسدالدین اویسی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’مہاراشٹر میں امتیاز جلیل کی فتح نے ثابت کر دیا ہے کہ صحیح مسلم لیڈروں کو امیدوار بنایا جائے تو وہ بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔‘‘

اے آئی ایم آئی ایم کے جو دو لیڈران اس بار پارلیمنٹ میں پہنچے ہیں ان میں پارٹی سربراہ اسدالدین اویسی اور امتیاز جلیل شامل ہیں۔ اپنی باتوں کو بے باک انداز میں کہنے والے اور پی ایم مودی کی پرزور مخالفت کرنے والے اسدالدین اویسی نے اپنی روایتی سیٹ حیدر آباد (تلنگانہ) سے کامیابی حاصل کی جب کہ امتیاز جلیل نے مہاراشٹر کے اورنگ آباد پارلیمانی حلقہ سے جیت حاصل کر سبھی کو حیران کر دیا۔ صحافت سے اپنا کیریر شروع کرنے والے امتیاز حالانکہ 2014 میں اورنگ آباد سے اے آئی ایم آئی ایم کی ٹکٹ پر رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے لیکن لوک سبھا سیٹ جیتنا ان کے لیے بہت بڑی کامیابی ہے۔

جہاں تک اسدالدین اویسی کا سوال ہے تو ان کی کامیابی کا اندازہ تو سبھی کو پہلے سے ہی تھا۔ ایسا اس لیے کہ وہ 2004 سے ہی اس سیٹ سے کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ 2014 میں جب مودی لہر چل رہی تھی، اس وقت بھی اسدالدین نے بی جے پی امیدوار بھگونت راؤ کو 3 لاکھ سے زائد ووٹوں سے ہرایا تھا۔ اس بار بھی بی جے پی نے بھگونت کو ہی ان کے مقابلے میں کھڑا کیا تھا اور ایک بار پھر انہیں شکست ہاتھ لگی۔ لیکن اس بار جیت اور ہار کا فرق 3 لاکھ سے کچھ کم کا رہا۔

2019 کی یہ کامیابی اے آئی ایم آئی ایم کی تاریخی کامیابی ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ اویسی نے ملک بھر کے مسلمانوں کے درمیان اپنی سیاسی طاقت کو بڑھایا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ حیدر آباد سے باہر اسدالدین اویسی کی سیاست مسلم اور دلت ووٹوں کے سہارے آگے بڑھ رہی ہے جو آئندہ دنوں میں مزید حیران کن نتائج دے سکتی ہے۔ حالانکہ اسدالدین اویسی کے تلخ اور شعلہ انگیز بیانوں کی کئی لوگ تنقید کرتے ہیں لیکن اس سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ان کے بیانات ہی ایک بڑے طبقہ کو ان کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ اے آئی ایم آئی ایم کے دیگر لیڈران بھی تلخ بیانی کے لیے مشہور ہیں لیکن اسدالدین اویسی اور ان کے چھوٹے بھائی اکبرالدین اویسی بے خوف اور بے باک انداز میں اپنی بات لوگوں کے سامنے رکھتے رہے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ اس فیملی پر کئی لوگ، خصوصاً ہندوتوا ذہنیت والے افراد فرقہ وارانہ کشیدگی کو فروغ دینے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ دوسری طرف اے آئی ایم آئی ایم کے حامی انھیں بی جے پی اور دوسری ہندو تنظیموں کا جواب دینے والی طاقت کی شکل میں دیکھتے ہیں۔

بہر حال، ہندوستان کی آزادی سے قبل قائم ہوئی ایک تنظیم نے آزادی کے بعد نئی شکل و صورت کے ساتھ جو سفر شروع کیا تھا وہ کافی دور تک پہنچ گیا ہے۔ دیکھا جائے تو اویسی خاندان کی قیادت میں اے آئی ایم آئی ایم کا سیاسی سفر 1960 میں شروع ہوا تھا جب اسدالدین اویسی کے والد صلاح الدین اویسی حیدر آباد نگر پالیکا کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ پھر دو سال بعد ہی وہ اسمبلی کے رکن بنے۔ اس وقت سے آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کی طاقت لگاتار بڑھتی ہی رہی۔ صلاح الدین اویسی کی پارلیمنٹ تک رسائی 1984 میں ہوئی جب وہ بطور آزاد امیدوار حیدر آباد سے لوک سبھا انتخاب میں کامیاب ہوئے۔ اس کے بعد سے اس پارلیمانی حلقہ پر اویسی فیملی کی ہی بادشاہت برقرار ہے۔ لگاتار 6 بار تو خود صلاح الدین اویسی یہاں سے رکن پارلیمنٹ رہے جب کہ 2004 کے بعد سے اب تک اسدالدین کی طوطی بول رہی ہے۔

Published: 26 May 2019, 9:10 PM