کیرالہ میں مسلمانوں کی اقتصادی اورخواندگی شرح بہتر

ملک سے وابستہ وسیع مقاصدکوحاصل کرنے کے لئے حکومت کواقلیتوں کےتئیں اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانا چاہیے تاکہ خواتین کی حالت کو بہتر بنایا جاسکے۔

By نواب علی اختر

نئی دہلی: مسلمانوں میں غربت اور پسماندگی کے لئے اعلیٰ تعلیم میں کم حصہ داری اور آبادی میں اضافے کواہم سبب ماناجاتا ہے لیکن ایک تازہ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ کیرالہ میں یہ دلیل غلط ثابت ہوتی ہے۔ حالانکہ کیرالہ میں مسلمانوں کی اقتصادی حالت اورخواندگی شرح بہترہونے کے باوجود ان کی آبادی میں اضافے کی شرح قومی اوسط سے کچھ زیادہ ہے۔’سینٹرفارپالیسی اینالیسس:ہندوستان کی اقلیتی پالیسی اورملک میں مسلم طبقے کی سماجی اور اقتصادی حیثیت کی تشخیص‘عنوان سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کیرالہ کی آبادی 2011 کے مقابلے میں2015میں 3.18 کروڑ سے بڑھ کر3.34 کروڑ درج کی گئی جوتقریباً15 لاکھ کا اضافہ ظاہرکرتاہے۔اس میں مسلم آبادی میں 10.10 لاکھ اضافہ، ہندوؤں کی آبادی میں 3.62 لاکھ اور عیسائیوں کی آبادی میں 84 ہزار کااضافہ درج کیاگیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کیرالہ میں مسلمان اقتصادی طور سے خوشحال ہیں اور ان کی خواندگی کی شرح بھی قومی اوسط سے بہتر ہے۔

ریاست میں ہندوؤں کی آبادی 54.9 فیصد ، مسلمانوں کی آبادی 26.6 فیصد اور عیسائیوں کی آبادی 18.4 فیصد ہے۔حالانکہ سال 2015 میں بچوں کی پیدائش میں ہندوؤں کا حصہ 42.87 فیصد ، مسلمانوں کا 41.5 فیصد اور عیسائیوں کا 15.42 فیصد تھا۔اس میں کہا گیا ہے کہ عام طورپرمسلم طبقے میں غربت اور پسماندگی کے لئے اعلیٰ تعلیم میں کم حصہ داری اور آبادی میں اضافے کواہم سبب مانا جاتا ہے لیکن کیرالہ کے معاملے میں یہ دلیل غلط ثابت ہوجاتی ہے۔ مسلم طبقے میں خواتین کی شرح خواندگی اورملازمتوں میں حصہ داری دونوں میں پیچھے رہنے کا ذکر کرتے ہوئے ایک رپورٹ میں حکومت سے اقلیتوں سے متعلق اس سنگین مسئلے پرسنجیدگی سے غورکرنے اورایماندارانہ اقدامات کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملک میں اقلیتوں سے متعلق کئی اسکیمیں چل رہی ہیں لیکن عملدرآمد کی سطح پرخامیوں کی وجہ سے مطلوبہ نتائج نہیں مل پارہے ہیں۔2011 کی مردم شماری کے مطابق قومی سطح پر ملازمتوں میں خواتین کی شراکت کی شرح 24.64 فیصد ہے جبکہ مسلم طبقے میں یہ شرح سب سے کم15.58 فیصد ہے۔اس میں کہاگیاہے کہ کم شرح خواندگی اقتصادی مواقع کی دستیابی کو کم کرتی ہے جس کے سبب ملازمت میں حصہ داری کی شرح گھٹتی ہے۔

غورطلب ہے کہ کسی بھی طبقے میں غریبی کو خواندگی اورملازمت میں شراکت کے مجموعی اثر کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔مسلم طبقہ دونوں میدان میں پیچھے ہے۔ مسلم طبقے میں’خواتین کی حالت‘اس کی ایک اہم وجہ ہے۔رپورٹ کے مطابق جوسماج خواتین کے ساتھ مساوات اور احترام کے رویئے کے ساتھ سلوک کرتا ہے اس میں خواتین کے تئیں امتیازی رویہ اپنانے والے سماج کے مقابلے میں ترقی کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔

2011 کی مردم شماری کے اعداد و شمار کی بنیادپر کہا گیا ہے کہ ہندوؤں میں ناخواندگی کی شرح 36.39 فیصد ہے، جس میں 44 فیصد خواتین اور 29.22 فیصد مردشامل ہیں۔ مسلمانوں میں 42.72 فیصدناخواندگی ہے جس میں48.1 فیصد خواتین اور 37.59 فیصد مردشامل ہیں۔ عیسائیوں میں 25.65 فیصدناخواندہ ہیں جس میں 28.03 فیصد خواتین اور 23.22 فیصد مرد شامل ہیں۔ سکھوں میں 32.49 فیصدناخواندہ ہیں جس میں خواتین 36.71 فیصد اور مرد 28.68 فیصد ہیں۔اس رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ملک سے وابستہ وسیع مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے حکومت کواقلیتوں کے تئیں اپنی پہل میں تبدیلی لاناچاہیے تاکہ خواتین کی حالت کوبہتربنایاجاسکے۔