یوگی حکومت کے ستائے ڈاکٹر کفیل خان کی کہانی انہی کی زبانی

ڈاکٹر کفیل خان

انسیفلائیٹس نے گزشتہ کئی برسوں میں ہزاروں بچوں کو نگل لیا ہے اوراگر ڈاکٹر ہی یہاں سے چلے جائیں گے تو مزید ہزاروں بچے موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔

ڈاکٹر کفیل خان کو کون بھول سکتا ہے جنھوں نے گزشتہ سال اگست مہینے میں بی آر ڈی میڈیکل کالج گورکھپور میں متعدد بچوں کی جان بچائی تھی۔ جنھوں نے آکسیجن ختم ہو جانے پر سیما سرکشا بل (ایس ایس بی) کے ایک ٹرک سے مضافات کے اسپتالوں سے 250 آکسیجن سلینڈر اکٹھا کیے تھے اور موت کے منہ میں چلے جانے والے بہت سے بچوں کو نئی زندگی دی تھی۔ جن کو دس اور گیارہ اگست کو 60 بچوں کی موت کے معاملے میں یو پی کی یوگی حکومت نے پہلے معطل کیا اور پھر گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا تھا۔ جن کو گورکھپور اور آس پاس کے لوگ مسیحا کی حیثیت سے دیکھتے تھے۔ مگر یوگی حکومت کی مہربانیوں سے جن کی نیکی کو بدی میں بدل دیا گیا اور جن کو جیل میں ڈال کر ایک ہیرو سے ویلن بنا دیا گیا۔ جب یوگی کو اس سانحے کی خبر ملی تو وہ کیرالہ میں بی جے پی کی ایک ریلی میں شرکت کر رہے تھے۔ وہ گورکھپور پہنچے اور جب کفیل خان کی مسیحائی کے قصے سنے اور اخباروں میں پڑھے تو ان سے نہیں رہا گیا اور انھوں نے ان سے کہا کہ تم سلینڈر اکٹھا کرکے ہیرو بن رہے ہو اور تم کیا یہ سمجھتے ہو کہ بچ جاؤ گے۔

وہی ڈاکٹر کفیل خان اب ضمانت پر رہا ہوگئے ہیں۔ وہ میڈیا سے بہت کم بات کرتے ہیں۔ لیکن رہائی کے بعد انھوں نے پچھلے دنوں دہلی میں اخباری نامہ نگاروں سے ملاقات کی اور گورکھپور اور مضافات میں جاپانی بخار یعنی انسیفلائیٹس سے ہونے والی بچوں کی دردناک اموات، گزشتہ سال کے سانحے اور اپنی گرفتاری اور اہل خانہ کی بربادی کی کہانی تفصیل سے بیان کی۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ انھوں نے کیا کہا:

’’مجھے کیوں گرفتار کیا گیا اور جیل میں کیوں ڈالا گیا اس کے بارے میں میں کچھ نہیں جانتا۔ اس سلسلے میں وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ ہی بتا سکتے ہیں۔ اگر بی آر ڈی میڈیکل کالج سے میری معطلی ختم کر دی جاتی ہے تو میں پھر سے خدمات انجام دینے کے لیے تیار ہوں۔ اور اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو میں نجی تنظیموں کی مدد سے اپنا انسیفلائیٹس کلینک کھولوں گا۔ میرے کلینک میں مفت علاج ہوگا اور وہاں ادویات کی بھی کمی نہیں ہوگی۔ اس سانحے کے بعد میرے پاس پورے ملک سے اور دنیا کے دیگر ملکوں سے بھی فون کالس آئے ہیں اور وہ میری خدمات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن میں نہ تو ہندوستان چھوڑوں گا اور نہ ہی گورکھپور چھوڑوں گا۔ انسیفلائیٹس نے گزشتہ کئی برسوں میں ہزاروں بچوں کو نگل لیا ہے او راگر ڈاکٹر ہی یہاں سے چلے جائیں گے تو مزید ہزاروں بچے موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔

’’گورکھپور کئی دہائیوں سے انسیفلائیٹس کی گرفت میں ہے۔ صرف بی آر ڈی میڈیکل کالج ہی ایک ایسا اسپتال ہے جہاں اس مرض کا علاج ہوتا ہے۔ اس علاقے میں کہیں کوئی اور سہولت نہیں ہے جس کی وجہ سے گورکھپور لاشیں ڈھیر کرنے والا مقام بن گیا ہے۔ بیماری کے سیزن میں شرح اموات بڑھ جاتیں ہیں۔ پچھلے سال دس اور گیارہ اگست کو یعنی 48 گھنٹے میں تیس بچوں کی موت ہوئی تھی۔ مذکورہ مرض میں مبتلا مریضوں کے لیے آکسیجن بے حد ضروری ہے۔ ان دنوں بچے آکسیجن کی قلت کی وجہ سے ہر گھنٹے مر رہے تھے۔ سانحے کی شام ساڑھے سات بجے تمام سلینڈر ختم ہو گئے تھے۔ اس دن میں پیشگی اجازت کے ساتھ چھٹی پر تھا۔ لیکن جب میں نے اس بحران کے بارے میں سنا تو فوراً اسپتال پہنچ گیا۔ جب مجھے اور نرسوں اور دوسرے جونئیر ڈاکٹروں کو سلینڈر نہیں ملے تو ہم نے ایس ایس بی سے ایک ٹرک دینے کے لیے کہا۔ اس ٹرک سے آس پاس کے اسپتالوں اور دوسرے مقامات سے ڈھائی سو سلینڈر لائے گئے۔

’’آکسیجن سپلائی کرنے والی کمپنی مہینوں سے بقایا رقوم کی ادائیگی کا مطالبہ کرتی رہی۔ لیکن یہ مطالبہ ایک شخص سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے پر ٹالا جاتا رہا۔ میں اپنے محکمے میں جونئیر ڈاکٹر تھا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ سلینڈر ختم ہونے والے ہیں۔ مجھے اس کے بارے میں واٹس ایپ سے معلوم ہوا تھا۔ ہم نے دو دنوں میں پانچ سو سلینڈر مہیا کیے۔ اسی روز ایک بی جے پی قانون ساز ایک نیوز چینل اس بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کر رہا تھا۔ اگلے 48 گھنٹوں کے دوران تمام اسٹاف بغیر آرام کیے کام کرتا رہا اور بچوں کی زندگی بچانے کی کوشش کرتا رہا اور مریض بچوں کے والدین کو دلاسہ دیتا رہا۔ لیکن ان کی خدمات کا انھیں کوئی صلہ نہیں ملا۔ یوگی آدتیہ ناتھ اس وقت کیرالہ میں بی جے پی کی ایک ریلی میں شرکت کر رہے تھے۔ وہ فوری طور پر گورکھپور پہنچ گئے۔ انھوں نے اسپتال کا دورہ کیا اور مجھ سے کہا کہ تم سمجھتے ہو کہ تم نے کچھ سلینڈر حاصل کر لیے ہیں تو تم ہیرو بن گئے ہو۔

(خان کو فوری طور پر ان کے ساتھیوں نے اسپتال سے گھر بھیج دیا۔ ان سے کہا گیا کہ وہ خاموش رہیں اور ہو سکے تو کہیں چلے جائیں۔ اس کے بعد ہی ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی اور انھوں نے خود کو پولس کے حوالے کر دیا۔ اس کے بعد سے ہی ان کے اہل خانہ کی اذیتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا)۔

’’جب میں نے سرینڈر کر دیا تو مجھے دھمکی دی جانے لگی کہ تمہارے اوپر این ایس اے لگا دیا جائے گا۔ میں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو میں میڈیا سے بات کروں گا۔ یو پی پولس نے مجھ پر بے ارادہ قتل کا الزام لگایا۔ لیکن عدالت میں میرے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔ اس کے باوجود مجھے ضمانت کے لیے آٹھ ماہ تک انتظار کرنا پڑا۔ میری رہائی کے بعد میرے اہل خانہ نے میری بہت مدد کی۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ میں نے لوگوں کی مدد کی ہے۔لیکن مجھے افسوس ہے کہ میں مزید بچوں کی جان کیوں نہیں بچا سکا۔

’’میرے بھائی اور دوست احباب میری ضمانت کی کوششیں کرتے رہے۔ وہ مجھ سے کہتے کہ بس اب تم جلد ہی باہر آنے والے ہو۔ جیل میں مجھے انتہائی اذیت ناک حالات میں رکھا گیا۔ حکومت میری ضمانت کی مخالفت کرتی رہی۔ اس نے عدالت میں کہا کہ اسپتال میں سلینڈروں کی کوئی کمی نہیں تھی اور بچوں کی موت سلینڈروں کی قلت کی وجہ سے نہیں ہوئی۔ اس کے بعد حکومت نے میڈیکل کالج کے پرنسپل راجیو مشرا کی ضمانت کی بھی مخالفت کی اور یہ الزام لگایا کہ سلینڈروں کی قلت اسپتال میں کرپشن کی وجہ سے تھی۔ مشرا اور ان کے دوسرے ساتھی اب بھی جیل میں ہیں۔ میں ان آٹھ مہینوں کو نہیں بھول سکتا۔ یہ وقفہ میرے پورے خاندان کے لیے تباہی کا سامان لے کر آیا۔ میری گرفتاری کے بعد میرے دونوں بھائیوں کا بزنس تباہ ہو گیا۔ وہ اب بھی اپنے مسائل کے حل کے لیے گورکھپور سے الہ آباد اور دہلی ایک کیے ہوئے ہیں۔ میں اب بھی ایک قسم کے خوفناک حالات سے گزر رہا ہوں‘‘۔

سب سے زیادہ مقبول