موج پور کی طرح سڑکوں پر مت اتریئے ورنہ بال و پر جل جائیں گے... ظفر آغا

یاد رکھیے۔ بی جے پی شاہین باغ سے شروع ہونے والی تاریخ ساز تحریک کو ہندو-مسلم رنگ دینے کے لیے تیار بیٹھی ہے۔ اس لیے کوئی بھی تحریک موج پور کی طرح نہیں بلکہ ’شاہین باغ ماڈل‘ پر ہونی چاہیے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

ظفر آغا

کل یعنی 23 فروری (اتوار) سے دہلی کے موج پور علاقے سے یہ خبریں آ رہی ہیں کہ وہاں شہری ترمیمی قانون اور این آر سی و این پی آر کے خلاف چل رہے احتجاج میں کچھ ہنگامہ بپا ہو گیا۔ خبروں کے مطابق اس سلسلے میں موج پور میں جو دھرنا چل رہا تھا اس میں شرکت کرنے والے افراد سڑکوں پر آ گئے۔ اس کی مخالفت میں فوراً بی جے پی کے علاقائی لیڈر کپل مشرا فوراً ایک جلوس لے کر وہاں پہنچ گئے۔ پھر دونوں گروہوں میں پتھراؤ ہوا اور پولس کو ایکشن لینا پڑا۔ اسی قسم کی خبریں دہلی کے حوض رانی اور علی گڑھ کے اوپر کورٹ علاقے سے بھی موصول ہوئیں جہاں احتجاجیوں اور پولس کے درمیان گڑبڑ ہوئی۔ موج پور سے آج بھی کچھ تشفی بخش خبریں نہیں موصول ہو رہی ہیں۔

دراصل 23 فرروری کو دلت لیڈر اور بھیم آرمی چیف چندر شیکھر آزاد نے ’بھارت بند‘ کی کال دی تھی۔ موج پور اور حوض رانی اور غالباً علی گڑھ کے سی اے اے، این آر سی و این پی آر مخالفین اس کال پر اپنے احتجاج کی جگہ سے اٹھ کر اس بند میں شرکت کے لیے سڑک پر نکل پڑے۔ اور بس پولس متحرک ہو گئی۔ موج پور میں بی جے پی کے ممبران نے اس کا فائدہ اٹھا کر حالات بگاڑ دیئے۔ اور اس طرح وہ دھرنا جو بے حد پرامن طریقے سے چل رہا تھا، مخالفین کو اس کو بدنام کرنے کا موقع مل گیا۔ اور یہ بات افسوسناک ہی نہیں بلکہ تشویش ناک بھی ہے۔

دراصل شاہین باغ سے جو شہریت ترمیمی قانون اور این پی آر و این آر سی مخالف تحریک شروع ہوئی ہے وہ ایک مثالی تحریک ہے۔ اس تحریک کے تین اہم پہلو ہیں جس کے سبب اس تحریک نے پورے ملک کو اپنی چپیٹ میں لے لیا ہے۔ اب یہ عالم ہے کہ ملک میں سو جگہوں سے زیادہ شاہین باغ کے طرز پر یہ احتجاج چل رہا ہے۔ اس تحریک کی سب سے پہلی اہم بات یہ ہے کہ اس میں عورتیں آگے آگے ہیں۔ دوسری سب سے اہم بات جس نے شاہین باغ تحریک کی ساری دنیا میں واہ واہی کروا دی ہے وہ یہ ہے کہ یہ تحریک پوری طرح پرامن ہے اور گاندھیائی طرز پر چل رہی ہے۔ حد یہ ہے کہ شاہین باغ میں تحریک مخالف عناصر نے وہاں مخالف مجمع کو طرح طرح سے اشتعال دلوانے کی کوشش کی لیکن شاہین باغ میں اکٹھا مجمع مشتعل نہیں ہوا۔ یعنی شاہین باغ ماڈل پر چلنے والا احتجاج نہ تو اپنی جگہ سے باہر نکلا اور نہ ہی تمام کوششوں کے باوجود وہ مجمع مشتعل ہوا۔ تیسری بات جو شاہین باغ تحریک کو منفرد کردار بخشتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ تحریک پوری طرح سے سیکولر ہے۔ اس میں کسی طرح کی کوئی مذہبی نعرہ بازی، مثلاً ’اللہ اکبر‘ نہیں ہو رہی ہے، اور ان ہی تین باتوں کی وجہ سے شاہین باغ تحریک میں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سب ہی برابر کے شریک ہیں۔

لیکن دہلی کے موج پور اور حوض رانی علاقے میں 23 فروری کو جو ہوا وہ شاہین باغ ماڈل سے کچھ مختلف تھا۔ موج پور اور حوض رانی کے مظاہرین اپنے اپنے پارکوں سے نکل کر سڑک پر ایک مظاہرے کی شکل میں اپنے مقام سے باہر آ گئے۔ وہ بھیم آرمی کے بھارت بند کی حمایت میں باہر آ گئے تھے۔ جب کہ شاہین باغ کا دھرنا اسی طرح پرامن طریقے سے جاری رہا۔ راقم الحروف کی ادنیٰ رائے میں موج پور والوں کو اپنا احتجاج دھرنے کی شکل میں جاری رکھنا چاہیے تھا۔ کسی قسم کے جلوس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ جیسے ہی سڑکوں پر جلوس نکلا ویسے ہی بی جے پی کارکنان کو موقع مل گیا اور اس طرح دو گروہوں میں آپسی تصادم بھی ہوا۔ اور پھر پولس ایکشن بھی ہوا۔ اس طرح بی جے پی کو اس پوری تحریک کو ہندو-مسلم رنگ دینے کا موقع مل گیا۔

یاد رکھیے۔ بی جے پی شاہین باغ سے شروع ہونے والی تاریخ ساز تحریک کو ہندو-مسلم رنگ دینے کے لیے تیار بیٹھی ہے۔ دراصل شہری قانون میں ترمیم اور این پی آر و این آر سی کا قضیہ اسی لیے کھڑا کیا گیا ہے کہ اس نام پر سارا ملک ہندو-مسلم کے نام پر ویسے ہی بانٹ دیا جائے جیسے کبھی بابری مسجد اور رام مندر کے نام پر بانٹ دیا گیا تھا۔ بابری مسجد تحریک کی یہی غلطی تھی کہ وہ نعرۂ تکبیر اور مذہبی رنگ کے ساتھ چلائی گئی۔ بس وشو ہندو پریشد کو ’جے سیا رام‘ نعرہ لگانے اور ہندوؤں کو رام مندر کے نام پر بی جے پی کے پرچم تلے اکٹھا کرنے کا موقع مل گیا۔ اس کا جو خمیازہ مسلمانوں کو بھگتنا پڑا اس سے آپ صرف واقف ہی نہیں بلکہ اس کا تلخ تجربہ بھی آپ کو ہے۔

خیال رہے کہ اگر آپ ایک غلط قدم اٹھائیں گے تو بی جے پی اس کو منٹوں میں ہندو رد عمل میں تبدیل کر دے گی۔ اس ملک میں کوئی بھی مسلم مفاد میں چلنے والی تحریک پرتشدد یا مذہبی طرز پر چلے گی تو اس کا فائدہ صرف بی جے پی کو اور نقصان صرف مسلمان کا ہوگا۔ اس لیے خدارا شہریت قانون اور این آر سی و این پی آر مخالف تحریک سارے ملک میں محض شاہین باغ ماڈل پر پرامن طریقے سے ایک مقام پر دھرنے کی شکل میں ہی چلنی چاہیے۔ اگر آپ سڑکوں پر اتریں گے تو پھر بی جے پی بھی سڑکوں پر اترے گی جیسا کہ موج پور میں ہو رہا ہے۔ پھر تصادم ہوگا، پولس ایکشن میں آپ مارے جائیں گے اور پھر پوری تحریک ہندو-مسلم کا رنگ لے گی اور بابری مسجد تحریک کی طرح فائدہ صرف بی جے پی کو ہوگا۔

اس لیے صرف اور صرف شاہین باغ ماڈل پر چلتے رہیے اور موج پور ماڈل سے بالکل دور رہیے۔ اس تحریک کو سڑکوں پر جلسے و جلوس کی شکل دینے میں پوری تحریک ناکام ہوگی۔ اس لیے خواہ وہ موج پور ہو یا کوئی اور جگہ ہر جگہ صرف شاہین باغ ماڈل پر صرف پرامن دھرنا ہی اس تحریک کو کامیاب بنا سکتا ہے۔

Published: 24 Feb 2020, 5:11 PM