گھبرائیے مت، یہ وقت بھی گزر جائے گا!

ہندوستان ایک عظیم الشان ملک ہے۔ اس پر کبھی مسلم لیگ کے پرچم تلے وار ہوا اور اب سنگھ کی قیادت میں وار ہو رہا ہے۔ ہندوستان ان تمام مراحل سے پہلے بھی گزر چکا ہے اور آئندہ بھی گزر جائے گا۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

ظفر آغا

گجرات فسادات کو 16 برس گزر گئے۔ اس قلیل مدت میں گجرات تو بدلا ہی بدلا، ہندوستان بھی بدل گیا۔ وہ نریندر مودی جن کے دور میں گجرات میں مسلم نسل کشی ہوئی وہی نریندر مودی آج ہندوستان کے وزیر اعظم ہیں۔ اور کیسے وزیر اعظم! نریندر مودی ہندوستان کے وہ پہلے وزیر اعظم ہیں جو خود کو بافخر ہندو لیڈر پوز کرتے ہیں۔ جواہر لال نہرو سے لے کر نریندر مودی تک سب ہی وزرائے اعظم ہندو ہوئے لیکن نریندر مودی وہ پہلے وزیر اعظم ہیں جو اپنی اقلیت دشمنی کا ڈنکا پیٹتے ہیں۔ مثلاً، جب گجرات میں فسادات ہوئے تو انھوں نے فسادات کے بارے میں کہا کہ ’گودھرا میں جو ہوا، باقی گجرات میں ہندوؤں نے اس کا بدلا لیا‘۔ ان کے اس بیان ’ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے‘ کا اس وقت یہی معنی تھے۔ مودی نے یہ نہیں کہا کہ وہ سہی تھا یا غلط اور اس طرح انھوں نے یہ بھی اشارہ کر دیا کہ جو گجراتی مسلمان کے ساتھ ہوا وہ ٹھیک تھا۔

پھر سنہ 2014 میں جب نریندر مودی بی جے پی کی جانب سے لوک سبھا انتخابات کے لیے وزیر اعظم کے نمائندے منتخب ہوئے تو انھوں نے انتخابی تشہیر کے دوران کہا ’’مجھ کو گجرات فسادات میں مارے جانے والوں کی موت کا اتنا ہی صدمہ ہے جتنا ایک کار کے نیچے کتے کے پلے کے دب کر مر جانے کا صدمہ ہوتا ہے۔‘‘ یعنی مودی نے وزیر اعظم منتخب ہونے سے قبل ہی یہ اشارہ کر دیا گیا کہ ان کے ہندوستان میں اقلیتوں کے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو گجرات میں ہو رہا تھا۔

مودی کے ہندوستان میں ہوا بھی وہی۔ آج اس ملک کا مسلمان خوف کی زندگی جی رہا ہے۔ اس کو یہ نہیں معلوم کہ وہ کب اور کہاں اخلاق اور جنید بتا دیا جائے گا۔ مودی کے ہندوستان میں آذان پر پابندی کی مانگ ہو رہی ہے۔ حج ہاؤس پر تالا لگایا جا رہا ہے اور ہزاروں قصاب خانے بند پڑے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ بغیر رسمی سرکاری اعلان کے اس ملک کی اقلیت اور بالخصوص مسلمان دوسرے درجے کے شہری بن چکے ہیں تو کوئی بہت مبالغہ آرائی غلط نہیں ہوگی۔ بھلے ہی آئین مسلم اقلیت کو برابر شہری ہونے کا حق عطا کرتا ہو۔ لیکن سنگھ کے مختلف عناصر نے ملک میں ایسی فضا بنا دی ہے کہ مسلمان خود اپنے حقوق کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈرتا ہے۔ بالفاظ دیگر گجرات کی طرح پورے ہندوستان کی مسلم اقلیت خود کو دوسرے درجے کا شہری محسوس کر رہی ہے۔

افسوس یہ کہ یہ سب جواہر لال نہرو کے ہندوستان میں ہو رہا ہے۔ وہ جواہر لال نہرو جنھوں نے بٹوارے کی فرقہ پرستی کی تلخی ختم کر اس ملک کو سماجی اور سیاسی سطح پر ایک گنگا-جمنی تہذیبی رنگ عطا کیا تھا اور جو اس ملک کا تہذیبی اور ثقافتی مزاج رہا ہے۔ ہندوستان سینکڑوں زبانوں، درجنوں قسم کے کھان پان اور پہناوے اور تہواروں کا ملک رہا ہے۔ یہاں ہر مذہب میں یقین رکھنے والا گردن اٹھا کر چلتا رہا ہے۔ تب ہی تو یہاں سیکولرزم کے معنی ہر مذہب کا برابر احترام سمجھا جاتا ہے۔

لیکن مودی کے راج میں سب بدل گیا۔ آج سنگھ کی وچاردھارا کا ڈنکا بج رہا ہے جس میں ’ہندو، ہندی، ہندو استھان‘ کا شور صاف سنائی پڑ رہا ہے۔ سخت صدمہ تو یہ ہے کہ جو شور اسلام اور مسلمان کے نام پر پڑوس میں پاکستان میں سنائی پڑتا ہے وہی اب ہندوتو کے نام پر ہندوستان میں بھی ہو رہا ہے۔ جیسے وہاں non-state actors جہاد کا نعرہ بلند کر پاکستان کو ایک جہادی اسلامی ملک بنا رہے ہیں ویسے ہی طرح طرح کے ہندو non-state actors ہندوستان کو ’ہندو پاکستان‘ کی شکل دے رہے ہیں۔

گجرات فسادات کے سولہ برس بعد ہندوستان کچھ ہندو پاکستان سا لگنے لگا ہے۔ یہ وہی سیاست ہے جس کو گجرات فساد نے جنم دیا تھا۔ آج اس گجرات فساد کی کوکھ سے جنمی منافرت کی سیاست سارے ملک پر چھائی ہے۔ دیکھیں ہندوستان کی صدیوں پرانی گنگا -جمنی تہذیب اس سیاست کا کیسے مقابلہ کرتی ہے۔ لیکن ہندوستان ایک عظیم الشان ملک ہے۔ اس پر کبھی مسلم لیگ کے پرچم تلے وار ہوا اور اب سنگھ کی قیادت میں وار ہو رہا ہے۔ ہندوستان ان تمام مراحل سے پہلے بھی گزر چکا ہے اور آئندہ بھی گزر جائے گا۔ گجرات فسادات کا سایہ ہمیشہ اس ملک پر برقرار نہیں رہ سکتا۔ کم از کم تازہ انتخابی رجحان اسی بات کا اشارہ کر رہے ہیں۔ اس لیے گھبرائیے مت، یہ وقت بھی کٹ جائے گا اور ہندوستان اپنی رنگا رنگ تہذیب برقرار رکھے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔