وزیر اعظم جی! جمہوریت اور جمہوری اقدار سے آپ واقف ہیں؟

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تسلیم خان

وزیر اعظم نریندر مودی ہفتہ کے روز صحافیوں سے ملے۔ انھوں نے اس موقع پر کہا کہ میڈیا کو جمہوریت اور جمہوری اقدار سے لوگوں کو مطلع کرانا چاہیے۔ لیکن اصل سوال تو یہ ہے کہ کیا جمہوریت اور اس کے اقدار میں وہ یقین رکھتے ہیں؟

وزیر اعظم نریندر مودی نے صحافیوں سے ملاقات کے دوران کہا کہ انھیں یاد ہے کہ کس طرح وزیر اعظم بننے سے قبل وہ میڈیا والوں کی تلاش کرتے تھے، پانچ سات لوگوں سے نزدیکی بنا لی تو گاڑی نکل جاتی تھی، لیکن اب اس کا دائرہ بڑھ گیا ہے۔ درست کہہ رہے ہیں وزیر اعظم جی، پہلے آپ میڈیا کو تلاش کرتے تھے، اب تو لگتا ہے پورا میڈیا آپ کا ہو گیا ہے۔

آپ نے درست فرمایا کہ پہلے آپ کی تقریروں کو کبھی کبھی ہی میڈیا میں جگہ ملتی تھی، اب تو آپ کے علاوہ کسی کو کوئی جگہ ہی نہیں ملتی۔ آپ صحیح کہہ رہے ہیں کہ دونوں طرف سے امیدیں ہیں، دونوں طرف سے شکایتیں ہیں، کیونکہ زیادہ تر میڈیا کو آپ سے اور آپ کے سارے میڈیا سے ایک ہی امید ہے کہ وہ آپ کی تعریف کریں اور کچھ میڈیا سے آپ کو اور کچھ میڈیا کو آپ سے شکایت ہے کہ آپ اپنا کام اچھی طرح نہیں کر رہے ہیں۔ اچھے کام کی تعریف آپ کی اپنی ہے اور میڈیا کی بھی اپنی۔

وزیر اعظم جی آپ نے یہ بھی درست فرمایا کہ سیاسی پارٹیوں میں جمہوریت اور جمہوری اقدار پر مباحثہ ہونا چاہیے۔ اس کی ضرورت غالباً آپ کو زیادہ ہے، کیونکہ آپ کے اور آپ کی حکومت کے لیے تو جمہوریت اور جمہوری اقدار کے معنی ہی کچھ دیگر ہیں۔ دوسری پارٹیوں اور تنظیموں کی بات تو بعد میں کیجیے گا وزیر اعظم جی، پہلے اپنی ہی پارٹی کے اندر جمہوریت اور جمہوری اقدار کا محاسبہ کر لیجیے۔ یہ آپ کے جمہوری اقدار ہی ہیں جو آپ نے ان لیڈروں اور سینئرس کو حاشیہ پر دھکیل دیا ہے جنھوں نے آپ کو انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا، جنھوں نے آپ کی غلطیوں کو چھپایا، جنھوں نے آپ کے لیے یقینی ہو چکی سزا کو اپنی قوت پر خارج کرایا۔ وزیر اعظم جی، کیا آپ ان جمہوری اقدار کی بات کر رہے ہیں جب آپ کو ’راج دھرم‘ کی یاد دلائی گئی تھی۔

وزیر اعظم جی جمہوریت اور جمہوری اقدار کو ذرا اپنی حکومت میں ہی متعارف کرا دیجیے، جہاں سوا سو کروڑ لوگوں کے مفاد سے منسلک فیصلے صرف اور صرف آپ ہی کرتے ہیں۔ آپ جمہوریت کی اس تعریف کو بھی سامنے رکھ دیجیے جس میں خارجہ پالیسی آپ ہی طے کرتے ہیں اور وزیر خارجہ کے حصے میں صرف پڑوسی ممالک کے لوگوں کو ویزا دینے کا کام آتا ہے۔ آپ اس جمہوریت کے معنی بھی بتا دیجیے جس میں محکمہ مالیات سے منسلک فیصلے آپ کے وزیر مالیات نہیں بلکہ آپ اور آپ کی آبائی ریاست سے آئے پارٹی صدر کرتے ہیں۔

وزیر اعظم جی، آپ نے اپنے خیالات کھل کر ظاہر کرنے کے جمہوری حق کا تذکرہ کیا، اسے کا مطلب بھی آپ ہی بتا دیجیے جس میں آپ کے ہی سینئر اگر کسی ایشو پر کچھ کہتے ہیں تو انھیں ان کی عمر یاد دلائی جاتی ہے۔ رشتوں اور ناتوں کی بات تو آپ رہنے ہی دیجیے، انھیں آپ سمجھ ہی نہیں سکتے۔ اگر سمجھ سکتے تو ایک والد کے خیالات کے خلاف ان کے بیٹے سے بیان نہیں دلواتے۔

وزیر اعظم جی، آپ نے بالکل درست فرمایا ہے کہ ’’ملک کے لوگ سیاسی پارٹیوں کے طریقہ کار کے مختلف پہلوؤں سے واقف نہیں ہیں۔ لوگ داخلی جمہوری عمل، فیصلہ لینے اور داخلی عمل سے بھی واقف نہیں ہیں۔‘‘ لوگوں کو اگر داخلی جمہوری عمل کے بارے میں معلوم ہوتا تو انھیں پتہ چل جاتا ہے کہ نوٹ بندی جیسا فیصلہ کس بنیاد پر لیا گیا تھا۔ فیصلہ لینے کے عمل میں اگر شفافیت ہوتی تو آپ کے وزراء کو پتہ ہوتا کہ عوام کے درمیان نوٹ بندی جیسے فیصلے کی کیا وجہ شمار کرائیں گے۔ آپ جانتے ہیں کہ نوٹ بندی کے جتنے بھی اسباب آپ نے 8 نومبر 2016 کی شب گنائے تھے، انھیں اب آپ خود ہی یاد نہیں رکھنا چاہتے، بے چارے وزیر تو کتنی بار کتنے بہانے بنا چکے ہیں اس فیصلے کے تعلق سے۔

وزیر اعظم جی، یہ صحیح ہے کہ لوگوں کو نہیں معلوم کہ آپ فیصلے کس طرح اور کس بنیاد پر لیتے ہیں، اسی لیے آپ کے وزیر کسی بھی فیصلے کی ایک بنیاد اور وجہ بتا کر ابھی پریس کانفرنس ختم بھی نہیں کر پاتے کہ آپ اسی فیصلے کی نئی بنیاد اور نئی وجہ سامنے رکھ دیتے ہیں۔ جب آپ کے وزیر ہی نہیں سمجھ پاتے تو عام لوگ کیسے سمجھیں گے وزیر اعظم جی!

وزیر اعظم جی آپ نے درست کہا کہ لوگوں کی تقرریوں میں شفافیت کے بارے میں مطلع کرایا جانا چاہیے، انھیں معلوم ہے اس بارے میں۔ بالکل درست ہے، کیونکہ اگر جمہوری اقدار کی بنیاد پر آپ نے تقرریاں کی ہوتیں تو لوگوں کو یہ بھی معلوم لگ جاتا کہ آپ نے ان لوگوں کو ریاستوں کا گورنر یا عدالتوں کا جج کیوں بنایا جنھوں نے آپ سے یا آپ کی پارٹی کے سربراہ سے متعلق کچھ معاملوں میں اہم فیصلے لیے تھے یا پیروی کی تھی۔

وزیر اعظم جی یہ بھی آپ نے درست ہی فرمایا ہے کہ لوگوں کو سیاسی پارٹیوں کے طریقہ کار کے بارے میں نہیں معلوم۔ پتہ ہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ آپ کسی ایسے شخص کو تعلیم جیسی اہم وزارت کی ذمہ داری نہیں دیتے جس کے گریجویٹ ہونے پر بھی شبہ ہو۔ آپ کسی بھی ایسے شخص کو ملک کی اطلاعات و نشریات وزارت کی ذمہ داری نہیں دیتے جس نے دوسروں کی لکھی اسکرپٹ پڑھ کر ہی زندگی بھر اطلاعات اور نشریات کو سمجھا ہو۔

آپ نے یہ بھی صحیح کہا وزیر اعظم جی کہ ’’میڈیا کے دوست کسی دن یہ مطالعہ کریں گے اور اس بات کو سامنے لائیں گے کہ پارٹی کی تشکیل کیا ہے، پارٹی قیادت کس طرح کام کرتا ہے، کس طرح نئی نسل کو مواقع مل سکتے ہیں۔‘‘ وزیر اعظم جی تین چار سال پہلے تک میڈیا اس موضوع پر خوب مباحثہ کرتا رہا ہے، لوگوں کو بتاتا رہا ہے، سبھی سیاسی پارٹیوں کی تاریخ بھی بتائی جاتی رہی ہے، لیکن آپ درست کہہ رہے ہیں کہ اب میڈیا کو نئے سرے سے یہ سمجھنا ہوگا کہ پارٹی کی تشکیل کیا ہے، کیونکہ ابھی تک جس طریقے سے تشکیل ہوا کرتی تھی اب ایسا کچھ رہا ہی نہیں۔

وزیر اعظم جی آپ نے یہ تو درست فرمایا کہ ’’آپ ہمیں بتاتے ہیں کہ ہمیں کس چیز پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ اسے ہماری بحث کا ایشو بنانا چاہیے۔‘‘ لیکن آپ نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا کہ جن لوگوں نے آپ کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ کس چیز پر توجہ مرکوز کی جائے، ان آوازوں کو کیوں خاموش کر دیا گیا۔

وزیر اعظم جی آپ نے درست فرمایا کہ کچھ مسائل ہیں جن کے سبب آپ میڈیا سے نہیں مل پاتے، لیکن آپ کے پاس تو سیلفی سے لے کر ٹوئٹر تک کے وسائل ہیں، آپ اس کے ذریعہ بھی صرف انہی ایشوز پر کیوں بولتے ہیں جو آپ کے من کی بات ہے۔ آپ ان موضوعات اور ایشوز پر کیوں خاموش رہتے ہیں جو لوگوں کے من کی بات ہے۔

آپ نے یہ بھی صحیح کہا کہ ’’سیاسی پارٹیوں کی فنڈنگ میڈیا میں موضوع بحث ہے اور کئی چیزیں برسرعام ہو گئی ہیں۔‘‘ آخر اس پر بحث کیوں نہ ہوں جب کہ ملک کی کل سیاسی فنڈنگ کا قریب 80 فیصد صرف اور صرف آپ کی ہی پارٹی کے حصے میں آ رہی ہو؟ وزیر اعظم جی، آپ کہتے ہیں کہ ’’ہمیں آگے بڑھنے کے لیے درمیان کا راستہ نکالنے کی ضرورت ہے۔‘‘ لیکن آپ درمیان کا راستہ کہاں نکالتے ہیں، آپ درمیان میں سے ہی لوگوں کو ہٹا دیتے ہیں۔

وزیر اعظم جی، آپ تو درمیان کا راستہ صرف اپنے فائدے کے لیے ہی نکالتے ہیں۔ جی ایس ٹی جیسے امور میں آپ صرف انھیں چیزوں کی شرح میں تبدیلی کرواتے ہیں جن کا اثر ان ریاستوں کے کاروباریوں پر ہوتا ہے جہاں انتخابات ہونے والے ہیں۔ آپ نے یہ بھی بالک صحیح کہا کہ ’’گزشتہ یادوں میں گم ہونا قدرتی ہے، اس وقت کوئی مشکل یا پریشانی نہیں تھی۔‘‘ کیونکہ آج بہت مشکلیں ہیں اور اظہار رائے میں پریشانی ہی پریشانی ہے۔ آپ نے درست کہا کہ ’’صحافی ہمیں مشکلات کے بارے میں بتاتے ہیں۔ ہمیں بتاتے ہیں کہ ہمیں اصلاح کی کہاں گنجائش ہے۔‘‘ لیکن وزیر اعظم جی، مسئلہ یہ ہے کہ آپ کسی دوسرے کی سنتے ہی کہاں ہیں۔

اس لیے وزیر اعظم جی، ملک کی آواز سنیے، جمہوریت اور جمہوری اقدار کو ان کے اصل معنوں میں سمجھیے اور ان پر عمل کیجیے، کیونکہ مختلف تہذیب و ثقافت والے اس ملک نے امیدوں اور جذبات کے ساتھ آپ کا انتخاب کیا تھا، امیدیں آپ توڑ چکے ہیں، وعدے آپ پورے نہیں کر پائے۔ ایسے میں ملک کے من کی بات بھی سمجھیے اور جذبات بھی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 29 Oct 2017, 2:19 PM