قانون کے رکھوالوں کو اپنے نظریات کا حامل بنانے والی گندی سیاست... اعظم شہاب

یوں تو دہلی فساد میں 46 سے زائد لوگوں کو اس منصوبہ بند تشدد میں اپنی جان گنوانی پڑی ہے، لیکن فیضان کا معاملہ ان سب سے اس لئے بھی علیحدہ ہے کہ اس میں حملہ آور کوئی بھیڑ نہیں بلکہ پولیس ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اعظم شہاب

دوستو! قومی آواز کے آج کے اس کالم کا موضوع حکومت مہاراشٹر کا وہ فیصلہ تھا جس میں ریاست کے مسلمانوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں 5 فیصد ریزرویشن دینا طئے کیا گیا ہے اور جسے قانونی حیثیت دینے کے لیے اقلیتی فلاح وبہبود کے وزیر نواب ملک نے جلد آرڈیننس لانے کا بھی اعلان کیاہے۔ لیکن دہلی فساد کی کچھ کربناک خبریں ریزرویشن کی مذکورہ بالا خبر پر حاوی ہوگیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ دہلی کے کردم پوری علاقے کا رہنے والا فیضان بالآخر اپنی زندگی کی جنگ ہار گیا۔ آپ نے سوشل میڈیا پر وہ ویڈیو کلپ ضرور دیکھی ہوگی، جس میں پانچ نوجوان زمین پر بے ہوشی کی عالم میں پڑے ہوئے ہیں، جن میں سے کچھ لوگ قومی ترانہ گارہے ہیں اور پولیس انہیں بے رحمی سے مار رہی ہے۔ اسی دوران یہ کہتے ہوئے بھی سنا جاسکتا ہے کہ ’ تمہیں آزادی چاہیے، یہ لو آزادی‘ ۔ جبکہ ایک خبر یہ بھی ہے کہ پولیس انہیں مارتے ہوئے قومی ترانہ ’جن گن من‘ اور ‘وندے ماترم‘ گانے کے لیے بھی کہتے ہے اور یہ نوجوان گاتے بھی ہیں، لیکن پولیس انہیں مارتی ہی رہتی ہے۔اگر آپ نے یہ کلپ نہیں دیکھی ہے تو نیچے کی لنک پر کلک کرکے دیکھ سکتے ہیں۔

یوں تو 46 سے زائد لوگوں کو اس منصوبہ بند تشدد میں اپنی جان گنوانی پڑی ہے، لیکن فیضان کا معاملہ ان سب سے اس لئے بھی علیحدہ ہے کہ اس میں حملہ آور کوئی بھیڑ نہیں بلکہ پولیس ہے۔ پولیس ان نوجوانوں کو بچانے کے بچائے انہیں مارتی ہوئی نظر آتی ہے۔ معلوم نہیں وہ کون جیالا تھا، جس نے اس پورے معاملے کی فلمبندی کردی کہ جس سے پولیس کا یہ بھیانک چہرہ عوام کے سامنے آگیا، وگرنہ ہمیشہ کی طرح پولیس اپنی اس کرتوت کو بھی سماج دشن عناصر سے منسوب کردیتی۔ لیکن وہ کہاوت تو آپ نے بھی سنی ہوگی کہ ’پاپ بلندی پر چڑھ کر آواز دیتا ہے‘ سو یہاں بھی یہی ہوا کہ پولیس کی غیرقانونی وغیرانسانی حرکت اسی طرح عوام کے سامنے آگئی جس طرح جامعہ ملیہ اسلامیہ کے لائبریری میں اس کا تشدد سامنے آیا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ پولیس اپنی ان غیرقانونی وغیرانسانی حرکتوں کو کسی طور قبول نہیں کررہی ہے۔ شمالی مشرقی دہلی کے ڈی سی پی ویدپرکاش سوریہ کا اس معاملے کی اور اس ویڈیو کی تفتیش شروع کرادی گئی ہے، لیکن پھر یہاں سو جواب کا ایک سوال کہ تفتیش کرنے والے آخر کون لوگ ہونگے؟ وہی پولیس والے نا کہ جن کے ہی درمیان کے کچھ اہلکار اس غیرانسانی عمل کے مرتکب ہوئے ہیں؟ تو پھر تفتیش چہ معنی دارد؟

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پولیس نے ان نوجوانوں کو کیوں مارا اور یہ غیرانسانی حرکت کیوں کی؟ تو اس کا جواب دہلی فسادات کے دوران ہرگلی محلے میں ہرکسی کو ملا کہ پولیس قانون کی حکمرانی، فساد پر قابو پانے یا فرقہ پرست عناصر کو روکنے کے لیے سرگرم نہیں تھی بلکہ وہ مسلمانوں کو چن چن کر مارنے اور ان کی املاک کو تباہ کرنے کے درپے تھی۔ یہاں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ میں کچھ زیادہ الزام لگارہا ہوں، لیکن اگر آپ نیچے دی ہوئی لنک پر کلک کرکے یہ ویڈیو کلپ دیکھ لیں تو آپ کو یقین ہوجائے گا پولیس فسادیوں کو روک نہیں رہی تھی بلکہ ان کا ساتھ دے رہی تھی۔ لنک یہ ہے

اس ویڈیو کلپ میں صاف طور سے دیکھا جاسکتا ہے کہ ہندوبھائیو کو للکارتے ہوئے ایک نوجوان علانیہ طور پر کہتا ہے کہ پولیس اس کے ساتھ ہے۔ وہ جئے شری رام کے نعرے لگاتا ہے اور پولیس انتظامیہ کا جئے جئے کار کرتا ہے۔ جبکہ اسی ویڈیو میں اسے اور اس کے کچھ ساتھیوں کو کچھ لوگوں کے ذریعے بچاتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ اسے دیکھنے کے بعد شاید ہی کسی شک کی گنجائش رہ گئی ہو کہ پولیس کا اس فساد میں کیا رول رہا ہے۔ جب پولیس ہی فسادی بن جائے، پولیس ہی لوگوں کو مارنے لگے، لوگوں کی املاک کو نذرِ آتش کرنے لگے تو پھر بھلا کس سے کوئی امید جاسکتی ہے۔معاملہ دراصل یہ ہے کہ ملک کو ہندومسلم کے خانے میں تقسیم کرنے کی وبا سے اب پولیس محکمہ بھی محفوظ نہیں رہ گیا ہے۔ دہلی پولیس پر اس کا خاص اثر ہوا ہے کہ وہ پہلے ہندو یا مسلمان ہے، بعد میں وہ پولیس ہے۔ اس لیے اسے جیسے ہی موقع ملتا ہے، اس کے اندر کا مذہبی وسیاسی جن باہر آجاتا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ مرکزی حکومت کے ماتحت ہونے کی بناءپر پولیس کا یہ رول سامنے آتا ہو جو بی جے پی کے عین مطابق ہے، لیکن اس طرح علانیہ طور پر فسادیوں کا ساتھ دینا کہیں نہ کہیں اس محکمے کی فرقہ پرستی کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔

فیضان کی موت کے معاملے میں پولیس کا یہ کہنا ہے کہ اسے فسادیوں نے مارا تھا اور اسپتال میں اس کی موت واقع ہوئی ہے، جبکہ جو خبریں آرہی ہیں، وہ اس کے بالکل برخلاف ہیں۔ بتایا جاتاہے کہ پولیس نے فیضان اور اس کے ساتھ دیگر چار لوگوں کو بری طرح پیٹ کر پولیس تھانے لے گئی اور وہاں بھی اسے بری طرح پیٹا گیا۔ اس کے گھروالوں کا کہنا ہے کہ جب وہ پولیس تھانے فیضان کو لینے گیے تو انہوں نے دیکھا کہ اس کے سرسے اور جسم کے دیگر حصوں سے بے تحاشہ خون بہہ رہا تھا۔ وہ درد سے کراہ رہا تھا اور بار بار یہی کہتا تھا کہ پولیس نے اسے بہت بری طرح مارا ہے۔ فیضان کے بڑے بھائی نعیم کے مطابق فیضان اس جگہ موجود تھا جہاں سی اے اے کے خلاف مظاہرہ چل رہا تھا کہ اچانک آنسو گیس گولے وہاں آکر پھٹنے لگے۔ اسی دوران پولیس والوں نے لوگوں کو پیٹنا شروع کردیا جس میں فیضان بھی تھا۔ پولیس والوں نے ان لوگوں کو اس بری طرح مارا کہ نوجوان بے ہوش ہوکر زمین پرگئے تھے، اس کے باوجود پولیس انہیں مارتی ہی رہی۔نعیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب ہمارے بھائی فیضان کو پولیس والے تھانے لے گئے اورہمیں خبر ہوئی تو ہم تھانے گئے جہاں پولیس والوں نے ہمیں ان سے ملنے تک نہیں دیا اورہمیں دھکے مار کر بھگادیا۔

ملک کے قانون کے ان رکھوالوں کے ان کرتوتوں کو دیکھ کر بھلا ایسا کون سا شہری ہوگا جس کا سرشرم سے نہ جھک جائے اور جسے غصہ نہ آجائے۔ لیکن ان سب کے باوجود بجائے پولیس والوں کو ان کی کرتوتوں کا ذمہ دار قرار دے کر ان کے خلاف کارروائی کرنے کے انہیں بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ کوشش محکمہ جاتی سطح سے لے کر حکومتی سطح تک پر ہورہی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چار مہینوں سے دہلی پولیس کا جو شرمناک چہرہ سامنے آرہا ہے وہ پوری دنیا میں ملک کی نیک نامی میں خوب اضافہ کررہا ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے پولیس کو جس طرح ہندو بنانے کی کوشش کی گئی ہے یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ پولیس فسادیوں کی ایک ایسی بھیڑ بن گئی ہے جسے حکومت کی سرپرستی وسربراہی حاصل ہے۔ یہ ہم ملک کی راجدھانی کو کس سمت لے جارہے ہیں؟ پولیس کی ان حرکتو ںسے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ انسانیت کے بھی درجے سے نیچے گرچکے ہیں اور اس کی تمام تر ذمہ داری ان حکومتوں پر عائد ہوتی ہے جو پولیس کو اپنے مہرے کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ لعنت ہے ایسی گندی سیاست پر جو قانون کے رکھوالوں کو بھی اپنے نظریات کا حامل بنا دے۔

Published: 1 Mar 2020, 8:11 PM