مہاراشٹر: بی جے پی کی واشنگ مشین... اعظم شہاب

ایکناتھ کھڑسے 40 سالوں تک بی جے پی کو خون پسینے سے سینچتے رہے لیکن بی جے پی چھوڑتے ہی ان کی تفتیش شروع ہوگئی اور ان کی املاک ضبط کی جا رہی ہے۔ وہیں نارائن رانے کے بی جے پی میں شامل ہوتے ہی پاپ دھل گئے

نارائن رانے، تصویر آئی اے این ایس
نارائن رانے، تصویر آئی اے این ایس
user

اعظم شہاب

مہاراشٹر میں آج کل بی جے پی کے مرکزی وزیر نارائن رانے اور وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے درمیان ہونے والی ٹیلوفونک بات چیت کی ویڈیو وائرل ہے۔ نارائن رانے بی جے پی کے ذریعے نکالی گئی جن آشیرواد یاترا لے کر ریاست کے کوکن کے علاقے میں گھوم رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جس وقت راج ناتھ سنگھ نے رانے کو فون کیا، اس وقت میڈیا کے نمائندے انہیں گھیرے ہوئے تھے۔ اب یہ اتفاق تھا یا کچھ اور کہ راجناتھ سنگھ اور رانے کی گفتگو نہ صرف ریکارڈ ہوئی بلکہ مراٹھی نیوزچینلوں پر دکھائی بھی گئی۔ غالباً اس کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ بھلے ہی مہاراشٹر میں نارائن رانے کو ’کومبڑی چور‘ (مرغی چور) کہا جائے، ’کروکنگ فراگ‘ کہا جائے، سوراخ زدہ غبارہ کہا جائے، شیوسینا کے سربراہ آنجہانی بال ٹھاکرے کے ذریعے انہیں ’ناریا‘ کہہ کر مخاطب کیا جاتا رہا ہو، لیکن ان کا مقام یہ ہے کہ بی جے پی کے مرکزی وزیر دفاع خود انہیں فون کرکے ان کی خیریت دریافت کرتے ہیں۔

نارائن رانے کی گرفتاری کے بعد ریاست کے سابق وزیراعلیٰ دیوندر فڈنویس و بی جے پی کے ریاستی صدر چندر کانت پاٹل نے کہا تھا کہ نارائن رانے نے وزیراعلیٰ کے بارے میں جو باتیں کہی ہیں ہم اس کی حمایت نہیں کرتے ہیں لیکن جس طرح انہیں گرفتار کیا گیا ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں اور پارٹی پوری طرح سے نارائن رانے کے ساتھ ہے۔ ان لیڈران سے پوچھا جانا چاہئے کہ اگر آپ نارائن رانے کی گرفتاری کی مذمت کر رہے ہیں اور بی جے پی کو ان کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کر رہے ہیں تو پھر یہ بھی بتا دیجئے کہ نارائن رانے نے جو باتیں وزیراعلیٰ کے بارے میں کہی ہیں اس پر ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جانا چاہئے؟ کیا نارائن رانے صاحب سے یہ کہا جاناچاہئے تھا کہ حضور! آپ نے جو باتیں کہی ہیں، جو زبان استعمال کی ہے وہ غلط ہے، آپ انہیں واپس لے لیجئے اور آئندہ ایسی باتیں نہ کہا کیجئے؟ فڈنویس وپاٹل کو یہ بھی بتا دینا چاہئے کہ اگر مودی و امت شاہ کو کسی دیگر پارٹی کے لیڈر طمانچہ رسید کرنے کی بات کرتا تو کیا بی جے پی اس کو اخلاق وآداب کی تلقین کرتی؟ شاید وہ یہ بھول گئے کہ پارلیمانی الیکشن سے چند ماہ قبل مہاراشٹر کے ہی رتناگیری میں انہوں نے یہ اعلان فرمایا تھا کہ مودی کی مخالفت ملک کی مخالفت ہے۔ خیر سیاسی لیڈران کی یادداشت ان کے ہاضمہ کی بہ نسبت کمزور ہوتی ہے، اس لئے یادہانی بیکار ہے۔


اس معاملے میں لطف کی بات یہ رہی کہ راج ناتھ سنگھ، فڈنویس وچندرکانت پاٹل کی اس تشہیری سیاست میں بی جے پی کے ایک اور صاحب اچھل کود مچاتے نظر آئے۔ وہ صاحب ہیں بی جے پی کے باندرہ سے ایم ایل اے آشیش شیلار۔ وہ خیر سے بی جے پی ممبئی کے سابق صدر بھی رہ چکے ہیں اور فڈنویس سے ان کے گہرے روابط بتائے جاتے ہیں، اس لئے ان کے بیان کو شیوسینا کو دھمکی کے طور پر پیش کیا گیا۔ ضمانت پر رہائی کے بعد نارائن رانے نے آناً فاناً ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا تھا جس میں یہ شیلار صاحب بھی موجود تھے۔ اس موقع پر شیلار نے کہا کہ شروعات آپ نے کی ہے اور اختتام ہم کریں گے۔ یعنی کہ نارائن رانے کو گرفتار کرکے آپ نے (ادھو ٹھاکرے) بی جے پی سے کھلی دشمنی واضح کردی ہے اور اب ہم اس کا اختتام کریں گے۔ اسی طرح ریاست میں جب مہاوکاس اگھاڑی کی حکومت قائم ہونے والی تھی تو تینوں پارٹیوں کے ممبرانِ اسمبلی کی ایک مشترکہ تصویر میڈیا میں شائع ہوئی تھی۔ اس موقع پر بھی شیلار صاحب نے یہ کہا تھا کہ کیمرہ آپ کا، لوکیشن بھی آپ کی، لیکن فائنل شوٹ ہمارا ہوگا۔ یعنی کہ آپ جتنی چاہیں کوششیں کرلیں، سرکار بی جے پی کی ہی بنے گی۔ لیکن اتفاق سے سرکار مہاوکاس اگھاڑی کی بن گئی تھی۔ اس بار بھی انہوں نے ایسا ہی کچھ کہا ہے، اب دیکھنا ہوگا کہ اس کا اختتام کیا ہوتا ہے۔

اس پورے پسِ منظر سے ایک اور شیبہ بھی ابھر کر سامنے آئی اور وہ ہے سابقہ بی جے پی اور حالیہ این سی پی لیڈر ایکناتھ کھڑسے کی۔ ان کے خلاف ای ڈی کی تفتیش جاری ہے اور چند روزقبل ان کی تقریباً 5 کروڑ روپئے کی املاک ضبط کرلی گئی۔ ان املاک میں ان کی بیوی وان کے سالے و داماد کی املاک بھی شامل ہیں۔ یہ وہی ایکناتھ کھڑسے ہیں جو گزشتہ 40 سالوں تک بی جے پی کو اپنے خون پسینے سے سینچتے رہے ہیں، مگر سابقہ دیوندرفڈنویس حکومت میں جب وہ کسی طور فڈنویس کے مقابل آگئے تو نہ صرف وہ وزارت سے بے دخل ہوگئے بلکہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ انہیں بی جے پی کو بھی خیرباد کہنا پڑگیا۔ خیر! لیڈران پارٹیاں تبدیل کرتے رہتے ہیں، مگر یہ روایت صرف بی جے پی کے یہاں پائی جاتی ہے کہ جو اس میں شامل ہوتا ہے وہ راتوں رات گنگا اشنان کرکے پوتر ہو جاتا ہے اور جو باہر جاتا ہے وہ نہ صرف سب سے بڑا کرپٹ بن جاتا ہے، بلکہ اس کے خلاف تفتیش بھی شروع ہوجاتی ہے۔ یہی نارائن رانے جب کانگریس میں تھے تو بقول بی جے پی ریاست کے سب سے بڑے کرپٹ لیڈر تھے، لیکن جب بی جے پی میں شامل ہوئے تو مرکزی وزیر بنا دیئے گئے۔ان کے بے تکے بیانات سے عدم اتفاق کے اعلان کے باوجود پوری پارٹی ان کی حمایت میں کھڑی ہے۔ لیکن 40 سال تک بی جے پی کی خدمت کرنے والا اور بی جے پی کو مہاراشٹر میں کھڑا کرنے والا لیڈر ایکناتھ کھڑسے آج محض اس لیے ہدف بنا ہوا ہے کہ اس نے بی جے پی کو چھوڑ دیا ہے۔


رانے اور راج ناتھ سنگھ کی بات چیت کو وائرل کرنے میں چونکہ وہ مراٹھی نیوزچینل پیش پیش رہے جنہیں دیوندر فڈنویس کے زمانے میں ’لشکرِ فنڈنویس‘ کہا جاتا تھا، اس لیے یہ شک پیدا ہوتا ہے کہ یہ بی جے پی کی اس تشہیری مہم کا ایک حصہ ہے جو نارائن رانے کی وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے تئیں ہزیان گوئی کے بعد ڈیمیج کنٹرول کے لیے شروع کی گئی ہے۔ خیر اس سے بی جے پی کو کتنا فائدہ پہنچے گا اور نارائن رانے کی ناعاقبت اندیشی کے اثرات کو وہ کس حد تک کنٹرول کرسکے گا یہ تو بی جے پی اور رانے جانیں۔ مگر مذکورہ ویڈیو کو نارائن رانے کے حوارین ایک معراج کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ اور اگر چند روز قبل نارائن رانے کی گرفتاری اور ہزیمت کو پیشِ نظررکھا جائے تو یہ واقعتاً معراج ہوسکتا ہے کیونکہ اس گرفتاری کو روکنے کے لیے ممبئی سے لے کر دہلی تک کی ٹیلی فون کی گھنٹیاں بج اٹھی تھیں مگر اس گرفتاری کو نہیں روکا جاسکا۔ وہ وزیر دفاع جو سرحد پر کسی فوجی کی شہادت پر اس کے اہلِ خانہ کو فون کرنے کی زحمت تک نہ کرتے ہوں، ان کے ذریعے ایک ایسے مرکزی وزیر کو فون کرنا جس کی ہیکڑی ایک چھوٹے سے شہر کی پولیس نے اتار دی ہو، یقیناً اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی پارٹی ان کے ساتھ کھڑی ہے بھلے ہی وہ ان کی ہزیان گوئی کی مخالف ہو۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 30 Aug 2021, 9:11 AM