دہلی تشدد: قتل تو نہیں بدلا، قتل کی ادا بدلی ... سید خرم رضا

دہلی کے رائے دہندگان خاص طور سے اقلیتیں اس وقت خود کو چھلا ہوا محسوس کر رہی ہیں اور ان کو محسوس ہو رہا ہے کہ ان کا کیجریوال کو دیا گیا ووٹ دراصل مودی کو ہی گیا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سید خرم رضا

سال 2013 سے قبل پورے ملک میں ایک قسم کی کانگریس مخالف لہر تھی اور اس لہر کو بنانے اور ہوا دینے میں جہاں حزب اختلاف پیش پیش تھا وہیں انا ہزارے، اروند کیجریوال، رام دیو اور شری شری روی شنکر بھی جم کر بلے بازی کر رہے تھے۔ دہلی میں اسمبلی انتخابات ہونے تھے اور شیلا دیکشت کے لاکھ اچھے کام کرنے کے باوجود ان کے خلاف بھی ناراضگی تھی کیونکہ وہ دہلی میں 15 سال سے لگاتار اقتدار میں تھیں۔ جس نسل نے ان کو کرسی پر بٹھایا تھا اس کے وہ مسائل مسائل حل ہو چکے تھے جن سے وہ دوچار تھی اور ان رائے دہندگان کے بچے اب نئے ووٹر ہو گئے تھے۔ ان نئے رائے دہندگان کا ان مسائل سے واستہ نہیں پڑا تھا جن کو شیلا دیکشت حکومت نے حل کیا تھا اس لئے ان کو صحیح فیصلہ لینا تھوڑا مشکل تھا۔ ان سیاسی حالات کو نظر میں رکھتے ہوئے شیلا دیکشت اس بات سے مطمئن تھیں کہ عام آدمی پارٹی کی شکل میں کوئی نئی سیاسی پارٹی میدان میں آ رہی ہے اور وہ حکومت کے خلاف ناراضگی کے ووٹ کو تقسیم کرنے میں کامیاب رہے گی۔ جب میں نے شیلا دیکشت کے اس موقف کی اجے ماکن کے سامنے وکالت کی تو اجے ماکن نے مجھ سے کہا کہ کیجریوال کی پارٹی کے جو ووٹر بن رہے ہیں وہ تمام ووٹر کانگریس کے ہیں بی جے پی کے نہیں ہیں اس لئے نئی پارٹی کا اگر کسی کو نقصان ہوگا تو وہ کانگریس کو ہوگا۔ اجے ماکن صحیح ثابت ہوئے اور ایسا ہی ہوا۔

سال 2013 کے انتخابات ہوئے اور اس میں بی جے پی نے سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کیں اور دوسرے نمبر پر عام آدمی پارٹی کو 28 سیٹیں حاصل ہوئیں، جبکہ کانگریس کو صرف 8 سیٹیں ملیں،یہ تمام سیٹیں وی تھیں جہاں مسلم ووٹر فیصلہ کن تھے۔ لیکن ان انتخابات کے بعد دہلی کے مسلمانوں کو لگا کہ وہ اگر ساتھ دے دیتے تو بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کرنے والی یہ پارٹی اقتدار میں آجاتی۔ سال 2013 میں حکومت چھوڑ کر کیجریوال نے مودی کے خلاف مورچہ سنبھالا، کیجریوال مسلمانوں کے ہیرو بن گئے اور سال 2015 میں جب دہلی میں اسمبلی انتخابات ہوئے تو سماج کے ہر طبقہ نے کیجریوال کو تاریخی جیت سے ہمکنار کرایا۔ جیت کے بعد بہت جلد دہلی والوں کی سمجھ میں آ گیا کہ کیجریوال بھی دیگر سیاست دانوں کی ہی طرح ہیں اور جن تبدیلیوں کی انہیں امید تھی وہ امیدیں سب چکنا چور ہو گئیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نوجوانوں نے دہلی یونیورسٹی طلباء یونین انتخابات میں کیجریوال کی پارٹی کو ووٹ نہیں دیا، کارپوریشن انتخابات میں بہت کم سیٹیں دیں اور اسمبلی کے ہر ضمنی انتخابات میں اس پارٹی کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔

دہلی کے غریب اور اقلیتوں میں مرکز کی مودی کی قیادت والی حکومت کے خلاف ناراضگی تھی ، اس کے باوجود انہوں نے کیجریوال حکومت کے کاموں کی بے انتہا تشہیر کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر کیجریوال کو دہلی کا اقتدار سونپ دیا۔ عام آدمی پارٹی جس کا جنم ہی تحریک اور مظاہروں سے ہوا تھا اس نے انتخابی مصلحت کا نام دیتے ہوئے سی اے اے اور این آر سی کے خلاف ہونے والے مظاہروں سے دوری برقرار رکھی یہاں تک کہ پارٹی میں شامل ہونے والے مسلم رہنماؤں کو بھی ان مظاہروں سے دور رہنے کی تاکید کی۔

جن لوگوں نے کیجرہوال کو ووٹ دیا تھا ان سب کو اور خاص طور سے دہلی کے اقلیتوں کو یہ امید تھی کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ شاہین باغ کے مظاہرین کے پاس جا کر ان سے اظہار یکجہتی کریں گے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ اس کے برعکس خود کو ہنومان بھکت ثابت کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔ جب دہلی میں ہندو-مسلم فرقہ وارانہ دنگے شروع ہوئے تو انہوں نے جو پراسرار خاموشی اختیار کی، اس نے تو ان کو ووٹ دینے والے لوگوں کے ذہنوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اس کے بعد کیجریوال کو جان دینے کی حد تک چاہنے والے ووٹروں کو اس وقت مزید دھکا لگا جب کیجریوال نے وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کرنے کے بعد واضح الفاظ میں کہا کہ دہلی کے دنگوں پر کوئی بات نہیں! حد تو اس وقت ہو گئی جب وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد کیجریوال نے دہلی پولیس پر کوئی تنقید نہیں کی بلکہ اس کی تعریف کی اور مرکز کے ساتھ مل کر کام کرنے کی بات کہی۔ اس دوران دوبارہ اقتدار میں آتے ہی کیجریوال نے ایک بڑا کام یہ کیا کہ جے این یو طلباء یونین کے سابق صدر کنہیا کمار کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت دے دی۔

یہاں اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ دہلی میں طبی سہولیات اور فائر سروسز دہلی حکومت کے پاس ہے اور اسپتالوں کی خدمات کی تو انتخابات سے قبل بہت تشہیر بھی ہوئی تھی لیکن نہ تو وقت پر فائر سروس پہنچی تاکہ گھر اور دوکانوں کو جلنے سے بچایا جا سکتا اور نہ ہی وقت پر اچھی طبی سہولیات ملیں۔ آج تک دہلی کے وزیر صحت زخمیوں سے ملنے اسپتال نہیں گئے اور نہ ہی وزیر اعلی نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔

دہلی کے رائے دہندگان خاص طور سے اقلیتیں اس وقت خود کو چھلا ہوا محسوس کر رہی ہیں اور ان کو محسوس ہو رہا ہے کہ ان کا کیجریوال کو دیا گیا ووٹ دراصل مودی کو ہی گیا۔ جو لوگ انتخابات سے قبل کیجریوال کے خلاف ایک لفظ سننے کے لئے تیار نہیں تھے، اب وہ سب کچھ کہہ رہے ہیں جو پہلے وہ سننے کے لئے تیار نہیں تھے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اتنی بڑی جیت کے بعد اتنے کم وقت میں کسی وزیر اعلی نے اتنی تیزی کے ساتھ مقبولیت کھوئی ہو۔ شائد ووٹر کی انتخابی نتائج کے بعد کوئی ضرورت ہوتی بھی نہیں، اب پانچ سل بعد دیکھیں گے۔ اس وقت تو مرکز کے ساتھ کام کرو اپنے اوپر لگے الزامات کو ختم کراؤ، باقی سب باتیں بعد میں!

قتل تو نہیں بدلا، قتل کی ادا بدلی

تیر کی جگہ قاتل ساز اٹھائے بیٹھا ہے

next