دہلی اسمبلی الیکشن: الٹی ہو گئیں سب تدبیریں... ظفر آغا

دہلی نے یہ طے کر دیا کہ بی جے پی کو ہرانا ناممکن نہیں۔ لیکن اس کے لیے اپوزیشن یونٹی اور مسلم رول بہت ضروری ہے۔ دیکھیے آگے آگے ہوتا ہے کیا!

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

ظفر آغا

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں... جی ہاں، دہلی اسمبلی الیکشن جیتنے کی بی جے پی کی تمام تدبیریں الٹی پڑ گئیں اور آخر نریندر مودی اور امت شاہ کو کیجریوال کے ہاتھوں منھ کی کھانی پڑی۔ دہلی میں بی جے پی کی صرف ہار ہی نہیں بلکہ کراری ہار ہوئی۔ دہلی اسمبلی کی کل 70 سیٹوں میں سے بی جے پی کو محض 8 سیٹیں ملیں جب کہ کیجریوال کو 62 سیٹیں حاصل ہوئیں۔ آخر خود بی جے پی الیکشن کے روح رواں اور وزیر داخلہ امت شاہ نے قبول کیا کہ دہلی میں مسلم منافرت کی سیاست سے پارٹی کو نقصان ہوا۔ ارے صاحب حالیہ دہلی چناؤ میں بی جے پی نے جس قسم کی بیہودہ فرقہ پرستی کا مظاہرہ کیا اس کی نظیر آزاد ہندوستان میں نہیں ملتی ہے۔ شاہین باغ میں چل رہے شہریت ترمیمی قانون،این آر سی مخالف عورتوں کے مظاہرے کو ملک کے ’غداروں‘ سے تشبیہ دے کر جس قسم کی بیہودہ باتیں کہی گئیں، وہ جمہوریت مخالف تو تھی ہی ساتھ ہی وہ اس قدر نازیبا تھی کہ خود دہلی کے عوام کو بھی اس سے کراہیت ہو گئی۔ آخر دہلی کے ووٹروں نے بی جے پی کو چناؤ میں بری طرح خارج کر دیا۔

لیکن یہ بی جے پی کے ساتھ آخر ہوا کیا اور جو کچھ بھی ہوا وہ کیونکر ہوا! کیونکہ ابھی چند ماہ قبل اسی دہلی میں لوک سبھا چناؤ میں دہلی کی سات میں سے ساتوں سیٹوں پر زبردست کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ مشکل سے چھ ماہ بعد اسی دہلی نے بی جے پی کو ایسی شکست دی کہ چھکے چھوٹ گئے۔ آخر دہلی کا موڈ اس تیزی سے بدلا کیوں! حقیقت تو یہ ہے کہ سنہ 2019 کا محض ایک لوک سبھا الیکشن کے علاوہ گزشتہ دو برسوں میں بی جے پی کے لیے کوئی بھی صوبائی الیکشن جیت پانا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ اس سلسلے کی شروعات سنہ 2018 میں خود گجرات کے اسمبلی الیکشن سے ہوئی جہاں بی جے پی آخر میں بمشکل حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔ نریندر مودی کے گڑھ گجرات میں بی جے پی کو محض کچھ سیٹوں سے سبقت حاصل ہوئی۔ پھر اس کے بعد بی جے پی کرناٹک، راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ جیسے اہم صوبوں کا اسمبلی الیکشن ہاری۔ حالانکہ کرناٹک میں کانگریس اور جے ڈی ایس کی حکومت گرا کر بی جے پی وہاں پھر برسراقتدار آ گئی۔ اس درمیان پارلیمانی انتخاب ہوا جو بی جے پی نے بالاکوٹ کی آڑ میں پاکستان کا ہوّا کھڑا کر کے زبردست کامیابی کے ساتھ جیت لیا۔ اس کے بعد سے پھر ہونے والے تمام صوبائی چناؤ میں بی جے پی کو منھ کی کھانی پڑی۔ ہریانہ میں پارٹی ہاری مگر جوڑ توڑ سے حکومت بنا لی۔ مہاراشٹر میں اقتدار ہاتھ سے جاتا رہا۔ پھر جھارکھنڈ میں بھی ابھی دو ماہ قبل بی جے پی کی کراری ہار ہوئی اور اب دہلی نے بی جے پی کو پھر ہرا دیا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ صوبائی چناؤ میں دہلی کی طرح سب جگہ ہندو عوام منافرت کی سیاست کو ناکام بنا رہے ہیں۔

یہ بی جے پی کے لیے سنگین مسئلہ ہے کیونکہ نریندر مودی، امت شاہ اور موہن بھاگوت نفرت کی سیاست کے سوا کچھ جانتے ہی نہیں۔ وہ ہندو-مسلم کی کھائی پیدا کر کے ہی چناؤ جیت سکتے ہیں۔ کیونکہ مودی حکومت ملک کے مفاد میں کام کرنے یا عوام کی فلاح میں کام کرنے میں یقین کرتی ہی نہیں۔ اس کا واحد ایجنڈہ اس ملک کی مسلم آبادی کو دوسرے درجے کا شہری بنا کر ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانا ہے۔ تب ہی تو ملک کی معیشت مٹی میں مل گئی ہے۔ بے روزگاری کا بازار گرم ہے۔ دیہی علاقوں میں بکھمری پھیل رہی ہے اور کاروبا رکارخانے بند ہو رہے ہیں۔ ان سنگین حالات میں بی جے پی کے پاس عوام کو الجھائے رکھنے اور ان کو بنیادی مسائل سے بھٹکانے کے لیے مسلم منافرت کے سوا اور کچھ ہے بھی نہیں۔ یعنی دہلی میں منھ کی کھانے کے باوجود بی جے پی آئندہ تمام اسمبلی اور 2024 میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات تک اسی ہندو-مسلم کارڈ کا استعمال کرے گی۔ اور اب اس کارڈ کا استعمال نئےشہری قانون، این پی آر اور این آر سی کی شکل میں ہوگا۔ مسلم آبادی کا ہوّا کھڑا کر کے ہندو کو ڈرایا جائے گا۔ اور کسی طرح مسلمان کے نام پر ہندو ووٹ بینک کی سیاست تیز سے تیز تر ہوتی جائے گی۔

یعنی آنے والے تین چار سال ہندوستان کی سیکولر سیاست، ملک کے آئین اور اس ملک کی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے لیے سخت امتحان کا وقت ثابت ہوگا۔ شہری قانون اور این آر سی کے معاملے پر سارے ملک میں شاہین باغ کی طرز پر ہونے والے مظاہروں سے یہ طے ہے کہ اب مسلمان بھی خاموشی سے اپنے اوپر ہونے والے مظالم برداشت نہیں کرے گا۔ لیکن مسلمان جب جب سڑکوں پر نکلتا ہے بی جے پی تب تب اس کو ہندو-مسلم خوف پیدا کر کے ہندو ووٹ بینک بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ بس ابھی دہلی میں ہر سازش ناکام ہو گئی۔ اس کے دو اسباب تھے۔ اول یہ کہ دہلی کے مسلمانوں نے متحد ہو کر بی جے پی کو ہرانے کے لیے کیجریوال کو ووٹ دیا۔ اس کے ساتھ دہلی کے سیکولر مزاج پڑھے لکھے ووٹر نے بھی بی جے پی کو ہرانے کی حکمت عملی کا استعمال کر کے کیجریوال کو ووٹ ڈالا۔ اور وہاں کی غریب عوام نے بڑی تعداد میں کیجریوال کو ہی ووٹ دیا۔ اس طرح دہلی میں بی جے پی کی منافرت کی سیاست کے جواب میں بی جے پی ہراؤ سیاست کی ہوا چل گئی۔ پھر کانگریس پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے خاموشی اختیار کر کے اس سیاست کی کامیابی کا راستہ ہموار کر دیا۔ اس طرح بی جے پی کو دہلی میں منھ کی کھانی پڑی۔

اب آئندہ بھی کیا اسی حکمت عملی کا استعمال کر کے بی جے پی کو ہرایا جا سکتا ہے! اس حکمت عملی کی بنیاد یہ ہے کہ اگر بی جے پی مخالف ووٹ کو بٹنے سے روکا جائے تو بی جے پی کی ہار یقینی ہے۔ یعنی سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ اس کے لیے اپوزیشن کا اتحاد جلد از جلد عمل میں آئے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب تمام اپوزیشن پارٹیاں ذاتی مفاد کے بجائے قومی مفاد میں مل کر اتحاد کر لیں۔ اس سلسلے میں دہلی میں کانگریس نے ذاتی مفاد قربان کر کے مثال پیش کی ہے۔ اگر تمام اپوزیشن پارٹیاں اسی سوجھ بوجھ سے کام کریں تو مہاراشٹر اور دہلی کی طرح بی جے پی کو شکست دی جا سکتی ہے۔

بی جے پی کو آئندہ الیکشن ہرانے کے لیے مسلم رول بھی بے حد اہم ہے۔ شاہین باغ کی حکمت عملی دو دھاری تلوار ہے۔ اسی سے تو دہلی میں بی جے پی کو نقصان ہو ا، لیکن کوئی ضروری نہیں کہ ہر صوبہ میں وہی صورت حال ہو۔ مثلاً اتر پردیش سے جو خبریں آ رہی ہیں وہ بہت خطرناک ہیں۔ وہاں این آر سی کے نام بی جے پی منافرت کا بازار گرم کرنے میں بے حد کامیاب ہے۔ اس نکتہ نگاہ سے اب مسلمانوں کو شاہین باغ حکمت عملی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ یہ طے کرنا ہوگا کہ آیا خالص مسلم اسٹریٹ سیاست سے بی جے پی کو نقصان ہو رہا ہے کہ نہیں۔

دہلی نے یہ طے کر دیا کہ بی جے پی کو ہرانا ناممکن نہیں۔ لیکن اس کے لیے اپوزیشن یونٹی اور مسلم رول بہت ضروری ہے۔ دیکھیے آگے آگے ہوتا ہے کیا!

Published: 16 Feb 2020, 9:31 AM