دہلی اسمبلی کے نتائج اقلیتوں کے لئے لائیں گے بری خبر... سید خرم رضا

دہلی الیکشن میں اقلیتوں کے سامنے کوئی انتخابی حکمت عملی نہیں ہے جس کی وجہ سے خوف کے سائے میں جی رہے رائے دہندگان کے ذہن میں صرف یہ ہے کہ ووٹ تقسیم ہونے سے کہیں بی جے پی بر سر اقتدار نہ آ جائے

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

سید خرم رضا

پرسوں دہلی اسمبلی کے لئے ووٹنگ ہے، آج انتخابی تشہیر بند ہو جائے گی اور دہلی کے سیاسی ماحول میں جو ہر نئے دن زہر گھولا جا رہا تھا وہ آج بند ہو جائے گا۔ ویسے تو کسی بھی جمہوریت میں سب سے اچھا چناؤ وہ ہوتا ہے جس میں رائے دہندگان اچھے امیدوار اور اچھی پارٹی کا انتخاب کریں، لیکن اس کو بد قسمتی ہی کہیں گے کہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی جمہوریت میں ان اقدار پر عمل نہیں کیا جاتا اور لوگ امیدوار منتخب کرتے وقت اپنی وفاداری، تعلقات، طبقاتی، مذہبی اور مسلکی قربت کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

دہلی اسمبلی کے انتخابات میں بھی اسی طرح کے رجحانات نظر آ رہے ہیں اور یہ میں اس لئے کہنے پر مجبور ہوں کہ جن علاقوں کا میں نے دورہ کیا وہاں رائے دہندگان نے بہت صاف الفاظ میں کہا کہ امیدوار تو بہت خراب ہے لیکن ہم تو قائد کو ووٹ دے رہے ہیں، ہم تو اپنے کو ووٹ دے رہے ہیں، پارٹی بہت اچھی ہے لیکن ہم اس کو ووٹ نہیں دے سکتے، کیونکہ ہماری اس سے قربت نہیں ہے۔ جب ملک کی تعلیم یافتہ راجدھانی دہلی میں ان بنیادوں پر ووٹر اپنے لئے امیدوار منتخب کرے گا تو جمہوریت کے مستقبل پر سوال اٹھنے لازمی ہیں۔

جیسے ملک کے بجٹ کی اہمیت ختم ہوتی جا رہی ہے کیونکہ پورے سال معاشی پالیسیوں میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے، ویسے ہی اب پارٹی کے انتخابی منشور کی بھی اہمیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ دہلی کی بر سر اقتدار پارٹی نے تو اپنا منشور ہی ووٹنگ سے پانچ دن پہلے جاری کیا اور منشور جاری کرتے وقت کسی صحافی کا کوئی سوال نہیں لیا۔ ستر سال تک حکومت کرنے والی پارٹی نے لوک سبھا انتخابات میں بھی اور اسمبلی انتخابات میں بھی بہت محنت کی، لیکن جیسے لوک سبھا میں’ نیائے‘ بالاکوٹ کے حملہ میں دب گیا تھا ویسے ہی شاہین باغ کے شور میں’ بے روزگاری بھتہ‘ بھی دب کررہ گیا۔ بی جے پی کے انتخابی منشور میں جو کچھ کہا گیا اس کا خود بی جے پی نے ذکر نہیں کیا اور پارٹی کے ہر رہنما نے بس بات کی تو شاہین باغ اور مسلمانوں کی۔

امریکہ میں جیسے دو بڑے میڈیا گھرانے ’فاکس‘ اور ’سی این این‘ الگ الگ پارٹی لائن پر منقسم نظر آتے ہیں ویسا ہی کچھ حال ہندوستانی میڈیا کا بھی ہے۔ جہاں ایک مخصوص طبقہ صرف ’زی‘ اور ’ری پبلک‘ ٹی وی کو’ گیتا‘ سمجھتا ہے وہیں دوسرا طبقہ’ این ڈی ٹی وی‘ کی خبروں کی قسمیں کھاتا ہے۔ ایسے میں صحیح کو صحیح کہنے اور لکھنے کا رجحان ختم ہو رہا ہے اور اپنے کو صحیح اور مخالف کو غلط کہنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ شعوری یا لا شعوری طور پر کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔

ان انتخابات کے نتائج کچھ بھی آئیں اور کوئی بھی پارٹی اقتدار میں آئے، لیکن یہ نتائج ملک کی جمہوریت اور ملک کی اقلیتوں کے لئے بری خبر ہی لے کر آئیں گے۔ آزاد خیال اور ملک کی خوفزدہ اقلیتیں جہاں یہ دعائیں مانگ رہی ہیں کہ شہریت ترمیمی قانون لانے والی حکومت کی پارٹی ان انتخابات میں شکست سے دو چار ہو اور اگر ان کی دعائیں قبول بھی ہو گئیں تو بھی ان کے لئے اچھی خبر نہیں ہے کیونکہ بی جے پی کو ہرانے والی پارٹی وہ ہوگی جس نے اس لڑائی میں جیتنے کے لئے نہ صرف سمجھوتے اور مصلحت سے کام لیا ہے بلکہ خود کو اس لڑائی میں اتنا دور رکھا ہے کہ جب جے این یو میں مبینہ اے بی وی پی کے نقاب پوشوں نے طلباء کو تشدد کا شکار بنایا تب بھی انہوں نے پر اسرار خاموشی بنائے رکھی۔

اگر شہریت ترمیمی قانون بنانے والی فرقہ پرست جماعت شاہین باغ کے نام پر بر سر اقتدار آجاتی ہے تو پھر جمہوریت اور ملک کی اقلیتوں کی نہ صرف شکست ہوگی بلکہ وہ مزید مایوسی کا شکار ہو جائیں گے۔ دونوں صورتوں میں جمہوریت کے بنیادی تقاضوں سے سمجھوتہ اور اقلیتوں سے دوری کا فائدہ سامنے آئے گا جو اس ملک کی اقلیت اور اکثریت میں مزید فاصلہ بڑھائے گا کیونکہ سیاسی پارٹیوں کو یہ نتائج پیغام دینے میں کامیاب رہیں گے کہ اب ملک کی اقلیتیں اور ان کے مسائل انتخابی سیاست کے لئے اچھوت ہوگئے ہیں اور بہت ممکن ہے کہ جو سیاسی پارٹیاں جمہوریت اور اقلیتوں کی فکر کرتی آج نظر آرہی ہیں وہ شکست کی صورت میں خود کو ان سے دور کرکے یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہو جائیں کہ ان کے لئے اب اقلیتوں کے مسائل سے دوری اختیار کرنے میں ہی بہتری ہے۔

مسلم دانشوروں کی اقلیتوں کے مسائل سے دوری اور علماء کی سیاسی بے شعوری و خوف کی وجہ سے اقلیتوں کے سامنے کوئی انتخابی حکمت عملی نہیں ہے جس کی وجہ سے خوف کے سائے میں جی رہے رائے دہندگان کے ذہن میں صرف یہ ہے کہ ووٹ تقسیم نہ ہو جائیں، کہیں بی جے پی بر سر اقتدار نہ آجائے۔ یعنی قیادت کے عدم فقدان، جذبات اور خوف کی وجہ سے اقلیت بغیر سوچے سمجھے اپنے ہمدرد اور دشمن میں تفریق کرنے میں ناکام رہی اور اس گڑھے میں گر گئی جہاں ان کی شہریت پر سوال اٹھانے والے ان کو بھیجنا چاہتے تھے۔ ملک کی اقلیتوں کے لئے اور ملک کی جمہوریت کے لئے آنے والے دن انتہائی تکلیف دہ ہونے والے ہیں۔ اقلیتوں کے پاس اس ساری صورتحال میں خود کو تسلی دینے کے لئے اس جملہ سے بڑی حکمت عملی کوئی نہیں ہے ’دنیا میں مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کے لئے اس کی اسلام سے دوری اور اس کے اعمال ہیں۔ شاباش، اسے کہتے ہیں موثر حکمت عملی!

Published: 6 Feb 2020, 3:11 PM