بزنس والو! کچھ دن تو گزارو اتراکھنڈ میں... مرنال پانڈے

پہاڑوں میں سپاٹ زمین کی قلت پرانی ہے۔ کاربیٹ پارک جیسے محفوظ زولوجیکل گارڈن میں سڑک بنانے کی تجویز تو ابھی بیدار عوامی تنظیموں نے رکوا دی، لیکن درختوں کا کٹنا جاری ہے۔

اتوار کے روز دہرادون میں ملک کے سرفہرست صنعت کاروں-سرمایہ کاروں کی موجودگی میں اتراکھنڈ کے پہلے انویسٹر سمٹ کا آغاز معزز وزیر اعظم جی کے ہاتھوں کیا گیا۔ زمینی سطح پر اب تک ان کی حکومت کے دو دیرینہ منصوبے ’میک ان انڈیا‘ اور ’اسٹارٹ اَپ انڈیا‘ پھسپھسے پٹاخے ہی ثابت ہوئے ہیں، پھر بھی اتراکھنڈ ریاست کی کارکردگی ٹھیک ٹھاک کہی جا سکتی ہے۔ عالمی بینک اور حکومت کا ’ڈِپ‘ (سرمایہ صنعت موضوعاتی پالیسی کو فروغ دینے والا) محکمہ ہر سال ایک رپورٹ جاری کرتا ہے جسے ریاستوں کو بھیجے ڈاٹا اور کچھ خاص (عالمی بینک سے تیار کردہ) پیمانوں پر جانچا جاتا ہے کہ کوئی ریاست رول ماڈل سرمایہ کاری مقام بننے کی دوڑ میں کہاں پر کھڑا ہے۔ اس کے لیے کچھ اہم مدے اس طرح ہیں:

• اس ریاست میں مشینری لگاتے وقت صنعت کاروں کے لیے مختلف محکموں سے ہری جھنڈی حاصل کرنا کتنا آسان ہے؟

• صنعتی مشینیں، تعمیری کاموں کے لیے لگاتار بجلی، پانی ملتا ہے کہ نہیں؟

• آمد و رفت اور مال ڈھلائی کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے کے تحت سڑکوں اور سفر کا انتظام کیسا ہے؟

• صنعت کے لیے قرض پانا اور ٹیکس ادا کرنا کتنا آسان یا مشکل ہے؟

• صنعتی تنازعہ کے نمٹارے کا نظام کتنا چست ہے؟

• اور جی ایس ٹی پر ریاست کی کارکردگی اور نظریہ کیسا رہا ہے؟

سال 2017 میں اتراکھنڈ ملک کی شاباشی پانے والی سرفہرست دس ریاستوں میں اور پہاڑی علاقے کی ریاستوں میں اعلیٰ مقام پر فائز تھا۔ اس سال جولائی میں جاری ہوئی رپورٹ میں وہ دو پائیدان نیچے کھسک کر 11ویں مقام پر آگیا ہے۔

انتخابات سر پر دیکھتے ہوئے جیسی کہ امید تھی، ٹی وی پر وزیر اعظم کی تقریر ہمیشہ کی طرح جارحانہ، خوش کن تفصیلات اور اپنی حکومت کی پیٹھ تھپتھپانے والی تھی۔ لیکن دلچسپ ہے کہ بڑی مشینریوں اور اداروں کی جگہ انھوں نے اتراکھنڈ کو خاص روحانی علاقہ بتاتے ہوئے وہاں مذہبی سیاحت کی اہمیت کو ہی زیادہ نشان زد کیا۔ بغیر ماحولیاتی سیکورٹی کی پروا کیے مذہبی سیاحت کو فروغ دیئے جانے اور اس کے لیے چار دھام یاترا جیسے پیکیجوں کو زمین پر اتارنے کے لیے ہو رہے تعمیری کاموں نے ریاست کے باشندوں کے لیے تمام دشواریاں پیدا کر دی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہاں ہر برسات میں زمین کھسکنے اور سیلاب کا نظارہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ٹھیکیدار خرچیلے ملبہ اٹھائی سے پیچھے ہٹتے ہوئے اسے پاس کی ندیوں میں پھینک رہے ہیں جس سے کئی ندیوں کا بہاؤ خطرناک طریقے سے رخنہ انداز ہو کر آبی دباؤ بنا رہا ہے۔ نینی تال میں لووَر مال کا بھربھرا کر بیٹھ جانا، گرمیوں میں تالاب اور جھیل کا خشک ہو جانا اور مسوری شہر میں زمین کھسکنا حال کے کچھ دردناک واقعات ہیں۔ یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ پہاڑوں میں منافع کمانے کے لیے قدرت سے بے وقوفانہ چھیڑ چھاڑ کتنی بھاری پڑے گی۔

پہاڑوں میں سپاٹ زمین کی قلت پرانی ہے۔ کاربیٹ پارک جیسے محفوظ زولوجیکل گارڈن میں سڑک بنانے کی تجویز تو ابھی بیدار عوامی تنظیموں نے رکوا دی، لیکن درختوں کا کٹنا جاری ہے۔ اڈانی جیسے بڑے صنعت کاروں کا جتنا زبردست استقبال کیا گیا اس سے کئی مقامی لوگ خوفزدہ ہیں کہ ان کی زمین پر بڑی صنعتیں آخر لگیں گی کہاں اور کس قیمت پر؟ عالمی بینک کی تازہ تحقیق کے مطابق اتراکھنڈ کی بجلی پروڈکشن اور تقسیم کے پیمانوں پر جھارکھنڈ اور بنگال جتناپسماندہ ہو گیا ہے۔ جہاں تک جی ایس ٹی کا مسئلہ ہے، رپورٹ بتاتی ہے کہ اس کا اثر زیادہ تر ریاستوں میں منفی پایا گیا۔ ان ریاستوں میں مدھیہ پردیش، تلنگانہ جیسی میدانی ریاست ہی نہیں، ہماچل اور اتراکھنڈ بھی شامل ہیں۔

وزیر اعظم نے جذباتی ہو کر اتراکھنڈ کو ہمالیہ کی گود میں بسا ہونے اور ماں گنگا کی ’کرپا‘ کا حقدار ہونے کے سبب ایک خاص روحانی زون ہونے کا فتویٰ بھی دے ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ اتراکھنڈ ریاست ماحولیات میں آ رہی تبدیلیوں، بڑھتے سیاحوں کی بھیڑ، تعمیرات عمارت اور قدرتی وسائل کے بے دماغ استعمال سے لگاتار اب پانی کی کمی سے نبرد آزما ہے۔ زیادہ تر قدرتی نالے، چھوٹے نالے غائب ہوتے جا رہے ہیں اور تالاب بھی۔

انویسٹر سمٹ میں ہمیشہ کی طرح وزیر اعظم کی تقریر میں انگریزی کا ایک نیا نعرہ بھی شامل تھا اور وہ نعرہ تھا ’ون ورلڈ، ون سن، ون گریڈ‘! یعنی ایک دنیا، ایک سورج اور ایک ہی بجلی نظام۔ نعرہ تو سننے میں اچھا ہے لیکن ’بِن پانی سب سُون‘۔ جس ریاست کے لیے مشہور ہے کہ وہاں کا پانی اور وہاں کی جوانی مقامی لوگوں کے کام نہیں آتی، جہاں ہزاروں گاؤں اجڑے ہوئے اور سنسان ہیں، وہاں ان نعروں کا لوگ کیا کریں؟۔

سب سے زیادہ مقبول