بی جے پی کی خوش آمدی کا دلت نوجوانوں پر کوئی اثر نہیں

دہلی سے ملحق مغربی اتر پردیش میں دلت سیاست کی سرگرمی بڑھ گئی ہے۔ دلت نوجوانوں میں بی جے پی کے تئیں بہت ناراضگی دیکھنے کو مل رہی ہے جس سے مودی بریگیڈ کے لیے 2019 کی راہ مشکل معلوم پڑ رہی ہے۔

میرٹھ: میرٹھ میں بی جے پی نے بھلے ہی دلتوں کو خوش کرنے کی کوشش کی ہو لیکن دلت نوجوانوں پر اس کا رنگ چڑھتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ دلت نوجوان حکومت سے ناراض ہے۔ ان کو یہ بات بہت بری لگ رہی ہے کہ چندر شیکھر راون کو اب تک راسوکا لگا کر جیل میں رکھا گیا ہے جب کہ اس نے شبیر پور میں ہوئے ظلم کے خلاف ایک جائز مطالبہ کیا تھا۔ میرٹھ میں بھی سابق رکنا سمبلی یوگیش ورما کو راسوکا میں بند کیے جانے پر اسی طرح کی ناراضگی ہے۔ میرٹھ کے دلت نوجوان مانتے ہیں کہ میرٹھ میونسپل کارپوریشن انتخاب میں دلت خاتون سنیتا ورما کی فتح کے بعد دلت کا عروج بی جے پی والوں کو گلے نہیں اترا اور اقتدار کا غلط استعمال کر ہر طرح سے ظلم پر اتر گئی۔ بی جے پی کی دلتوں سے محبت جھوٹی ہے۔ اس کا اصل ووٹر دلتوں سے نفرت کرتا ہے اور بی جے پی اپنے اصل کو کبھی ناراض نہیں کر سکتی۔ اسی طرح کی ناراضگی مظفر نگر میں بھی ہے جہاں دلت مظالم کے کئی واقعات ہوئے ہیں۔

2019 کے لوک سبھا انتخاب کے نزدیک آتے ہی مغربی اتر پردیش میں دلتوں میں اس اُبال کو ہر ایک سیاسی پارٹی سمجھ رہی ہے۔ حال ہی میں کانگریس کے نمائندہ وفد نے مغربی اتر پردیش میں متاثرہ دلتوں سے ملاقات کی تھی۔ رکن اسمبلی جگنیش میوانی یہاں خفیہ طریقے سے کئی بار کیمپ کر چکے ہیں۔ کانگریس صدر راہل گاندھی اور مایاوتی بھی یہاں دورہ کر چکی ہے اور حال ہی میں دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے بھی چندر شیکھر راون سے ملنے کی خواہش ظاہر کی جسے قبول نہیں کیا گیا حالانکہ کیجریوال پھر بھی سہارنپور آ رہے ہیں اور وہ چندر شیکھر کی فیملی سے ملیں گے۔

یہ سب واقعات یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ 2019 کے انتخابات کا دار و مدار دلتوں پر ہے۔ مایاوتی کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ شروعات میں بھیم آرمی اور مایاوتی کے درمیان اختلافات کی بات کہی جا رہی تھی لیکن اب بھیم آرمی سمیت تمام دلت تنظیموں نے مایاوتی کی مخالفت نہ کرنے کا پیغام دیا ہے۔ بھیم آرمی کے سہارنپور کے ضلع صدر کمل والیا کہتے ہیں کہ ’’دلتوں نے اپنے اوپر ہو رہے مظالم کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے۔ اب ہم متحد ہو کر 2019 میں جواب دینے کا وقت ہے۔‘‘

دلتوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش میں مصروف بی جے پی کو یہ بھی خوف ہے کہ کہیں دلتوں کو زیادہ خوش کرنے کی کوشش میں ان کا اصل ووٹر نہ ناراض ہو جائے۔ ایسی حالت میں اعلیٰ ذات کے لوگ کانگریس کا رخ کر سکتے ہیں۔ بغیر دلتوں کے تعاون کے بی جے پی کا دوبارہ اقتدار میں آنا بھی مشکل ہے اس لیے دہلی کے نزدیک مغربی یو پی ایک بار پھر تجربہ گاہ بن گیا ہے اور اس بار نشانے پر دلت ہیں۔ ان مشکل حالات سے نجات دلانے کے لیے بی جے پی کی مددگار و معاون آر ایس ایس بھی میدان میں اتر گئی ہے۔

آر ایس ایس اپنی سماجی برابری مہم پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ اسے آر ایس ایس کے ڈیجیٹل تشہیری ذریعہ سے سمجھا جا سکتا ہے جن پر جیوتبا پھولے، ڈاکٹر امبیڈکر اور گوتم بدھ کی تصویر لگائی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک نعرہ دیا گیا ہے اور نعرہ ہے ’سمرستا منتر کے ناد سے ہم بھر دیں گے سارا تریبھون۔‘ ریٹائرڈ پروفیسر کیرتی بھوشن شرما کہتے ہیں کہ ’’آر ایس ایس یہ بات سمجھتی ہے کہ ہندو اگر ذات میں تقسیم ہو گئے تو 2019 میں ان کی حکومت نہیں آ پائے گی اس لیے وہ ’سمرستا‘ یعنی برابری جیسی مہم لے کر آئی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعہ دلتوں کو اعلیٰ ذات کے برابر عزت مل پائے گی؟ مودی-یوگی والی دونوں حکومتوں میں تو ابھی تک دلت صرف شکایت کرتے ہی نظر آ رہے ہیں۔

حال ہی میں ناگپور میں آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت دلتوں کو اپنا بھائی بتا چکے ہیں جب کہ آر ایس ایس کے اہم عہدیدار سریش بھیا جی جوشی پنچکولہ میں کہہ گئے کہ ہمیں ذات پات والی سوچ سے اوپر اٹھ کر ملک کے مفاد میں سوچنا چاہیے۔ اس سال آر ایس ایس نے وارانسی، آگرہ اور میرٹھ میں تین بڑے پروگرام کیے جن میں روی داس، کبیر داس اور گوتم بدھ کے کٹ آؤٹ لگائے گئے۔ میرٹھ کے ’راشٹرودے‘ سمیلن میں سنت بالمیکی کے خلاف قابل اعتراض ہورڈنگ پر زبردست تنازعہ ہوا تھا اور میرٹھ کا والمیکی سماج سڑکوں پر اتر آیا تھا جس کے بعد ہورڈنگ اتار لیے گئے تھے۔

غور طلب ہے کہ 2014 میں بہوجن سماج پارٹی لوک سبھا میں اپنا کھاتہ نہیں کھول پائی تھی جب کہ مغربی اتر پردیش کی تقریباً 17 لوک سبھا سیٹیں پر دلتوں کا ووٹر فیصلہ کن ہوتا ہے۔ قبل میں بی ایس پی سپریمو مایاوتی بجنور، کیرانہ اور سہارنپور سے انتخاب لڑ چکی ہیں۔ اس بار سماجوادی پارٹی ان کے ساتھ مل کر لڑے گی۔ اس سے مسلم اور دلت ووٹوں کا بکھراؤ رک جائے گا۔ اگر ٹکٹوں کی تقسیم صحیح طریقے سے ہو گئی تو جانکاروں کے مطابق اتحاد 60 سے زیادہ لوک سبھا سیٹ جیت سکتا ہے۔ اسی ایک اندازے نے بی جے پی خیمے کو فکر مند کر دیا ہے کیونکہ اس کی جیتی جاگتی مثال گورکھپور، پھول پور اور کیرانہ سے مل چکی ہے۔ گورکھپور میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، پھول پور میں نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ اپنی سیٹ ہار گئے جب کہ کیرانہ اور نور پور میں ہمدردی کا کارڈ بھی بی جے پی کے لیے کارگر نہیں رہا۔

یہی سبب ہے کہ بی جے پی نے دلتوں کو اپنے پالے میں کھینچنا شروع کر دیا ہے۔ سابق رکن پارلیمنٹ ہریندر ملک کے مطابق دلتوں کے ساتھ مظالم کی بات حقیقت ہے لیکن بی جے پی حکومت سے کسان سب سے زیادہ پریشان ہیں اس لیے اونچ نیچ کی کوئی پالیسی کامیاب نہیں ہو پائے گی۔

ان سب کے بیچ ایک اہم بات یہ ہے کہ بی جے پی کے زیادہ تر دلت رکن پارلیمنٹ خود بی جے پی سے ناراض ہیں۔ نگینہ سے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر یشونت سنگھ دلتوں کے مظالم کی شکایت چٹھی لکھ کر کر چکے ہیں۔ انھوں نے سیدھے وزیر اعظم نریندر مودی کو کٹہرے میں کھڑا کیا تھا۔ اشوک دوہرے، اودت راج، چھوٹے لال کھروار اور ساوتری بائی پھولے بھی ناراضگی ظاہر کر چکے ہیں۔

غازی آباد کے دلت مفکر دھن پرکاش جاٹو کے مطابق دلتوں میں بہن جی کے تئیں بہت جوش ہے اور دلت نوجوان اپنے آبا و اجداد کے ساتھ ہوئے مظالم کو بھولنے لگے تھے جنھیں بی جے پی حکومت نے پھر سے یاد دلا دیا ہے۔

سب سے زیادہ مقبول