گجرات بی جے پی میں بحران! مودی-شاہ ابھی سے متحرک، ووٹروں میں ناراضگی پیدا کرنے والے منصوبے التوا میں ڈالے گئے

گجرات کے قبائلی علاقوں میں جس طرح سے احتجاجی مظاہرے کئے گئے، اس کے سبب مرکزی حکومت پار، تاپی، نرمدا دریایوں کو جوڑنے کے کام کو التوا میں ڈالنے پر مجبور ہو گئی ہے

گجرات میں مودی - شاہ / Getty Images
گجرات میں مودی - شاہ / Getty Images
user

آر کے مشرا

وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنی آبائی ریاست کے دفاع اور اپوزیشن کو چیلنج پیش کرنے کا کام شروع کر دیا ہے، لہذا گجرات میں انتخابات کی گرمی ابھی سے عروج پر ہے۔ گجرات اور ہماچل پردیش میں اس سال نومبر-دسمبر میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ روایتی طور پر ان دونوں ریاستوں میں کانگریس اور بی جے پی میں ہی مقابلہ رہا ہے لیکن اس بار عام آدمی پارٹی نے بھی جوش و خروش کے ساتھ میدان میں اترنے کا اعلان کیا ہے۔

واضح ہے کہ مودی 2024 میں تیسری بار وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہوں گے۔ اس لیے ان کے لیے گجرات کا الیکشن اہم ہے۔ اسمبلی میں 182 سیٹیں ہیں۔ 2017 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے 77 سیٹیں جیتی تھیں اور بی جے پی کو 100 سے کم سیٹوں پر محدود کر دیا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ بعد میں کانگریس کے کئی ایم ایل اے مستعفی ہو کر بی جے پی میں شامل ہو گئے اور دوبارہ الیکشن لڑا، جس کے نتیجہ میں ایوان میں پارٹی ممبران کی تعداد 111 ہو گئی۔


مودی کی پوری شخصیت حملے اور احتجاج و مظاہرہ پر مبنی ہے۔ یہ اٹل بہاری واجپائی-لال کرشن اڈوانی کے دور سے بالکل مختلف ہے۔ اروند کیجریوال کی قیادت والی عام آدمی پارٹی کی حکمت عملی بھی یہی ہے۔ وہ بھی ان علاقوں میں احتجاج و مظاہرے کی سیاست کر رہی ہے، جہاں حزب اختلاف کا دخل ہے۔ اس سے ایسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے کہ مودی کی پارٹی کو اسی حکمت عملی کا سامنا ہے جس پر وہ چلتی رہی ہے۔ عام آدمی پارٹی اور کانگریس - دونوں آزادانہ طور پر میدان میں ہیں لیکن بہت سے معاملات پر دونوں کی ایک ہی رائے ہے۔

پچھلے سال فروری میں سورت میونسپل انتخابات میں عام آدمی پارٹی نے 27 سیٹیں جیتی تھیں۔ اس سے ان کے اسمبلی میں جگہ بنانے کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔ ویسے فروری کے انتخابی نتائج کے بعد انہوں نے راجدھانی گاندھی نگر کے میونسپل انتخابات میں بھی اپنے امیدوار کھڑے کئے لیکن انہیں کامیابی نہیں ملی۔ یہاں بی جے پی کو کبھی کامیابی نہیں ملی تھی لیکن اس مرتبہ اس نے 44 میں سے 41 سیٹیں جیت لیں۔ 2011 میں جب انتخابات ہوئے تھے تو بی جے پی نے 15 سیٹیں جیتی تھیں جبکہ کانگریس نے 18 سیٹیں جیتی تھیں۔ لیکن بعد میں کانگریس کے تین کونسلر بشمول میئر بی جے پی میں چلے گئے تھے۔ 2016 میں دونوں پارٹیوں کو 16-16 سیٹیں ملی تھیں لیکن بعد میں، کانگریس کے ایک کونسلر نے بی جے پی کو حمایت کر دی، پارٹی نے انہیں میئر کے عہدے پر فائز کیا۔


یوں تو گاندھی نگر میں کانگریس اور عام آدمی پارٹی کا مشترکہ ووٹ شیئر 49.79 ہے جبکہ بی جے پی کا 46.49 فیصد ہے۔ اگرچہ ان انتخابی نتائج پر زیادہ توجہ نہیں دی جانی چاہیے لیکن یہ آنے والے اسمبلی انتخابات کے بارے میں کچھ اشارے ضرور دیتے ہیں۔ ایسے میں یہ بات بھی ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ ایم پی اسد الدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) بھی اس بار انتخابات کی تیاری کر رہی ہے۔ اس طرح مسلم ووٹوں کی مزید تقسیم کا خطرہ ہے۔

اس کے باوجود عام آدمی پارٹی کے ذہن میں کوئی اپوزیشن یکجہتی یا اتحاد نہیں ہے اور وہ مجموعی انتخابی نتائج سے بالکل بھی پریشان نہیں ہے۔ گجرات کے پارٹی انچارج سندیپ پاٹھک ایک سائنسی سروے کا حوالہ دے رہے ہیں اور اس کی بنیاد پر اپنی پارٹی کے 58 سیٹیں جیتنے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ پارٹی نے دہلی کے اسکولوں کی مثال دے کر پنجاب میں کامیابی حاصل کی اور سوچتی ہے کہ وہ گجرات میں بھی ایسا ہی کرے گی۔ حال ہی میں دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا اور گجرات کے وزیر تعلیم جیتو واگھانی کے درمیان اس معاملے پر بحث ہوئی تھی۔ بعد میں واگھانی نے کہا کہ جنہیں گجرات کا نظام تعلیم پسند نہیں ہے، وہ کسی دوسری ریاست میں جا کر تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔


بی جے پی اس وقت پریشان نظر آ رہی ہے۔ گجرات کے قبائلی علاقوں میں جس طرح کے مظاہرے ہوئے، اس نے مرکزی حکومت کو پار، تاپی اور نرمدا ندیوں کو آپس میں جوڑنے کے کام کو روکنے پر مجبور کر دیا۔ اس کا اعلان مرکزی وزیر خزانہ نے بجٹ میں کیا تھا۔ جب احتجاج میں شدت دیکھی گئی تو ریاستی حکومت نے مرکزی حکومت سے اسکیم کو روکنے کی درخواست کی تھی۔

اسی طرح کا مسئلہ شہری علاقوں میں آوارہ جانوروں کا ہے۔ 31 مارچ کو ریاستی حکومت نے اسمبلی میں اس سلسلے میں ایک بل پیش کیا اور اسے منظور کرایا لیکن مویشی پالنے والی برادریوں نے اس کے خلاف مہم چلاتے ہوئے یہ دھمکی بھی دی کہ وہ بی جے پی کو ووٹ نہ دینے کی مہم چلائیں گے۔ وزیر تعلیم اور حکومت کے ترجمان جیتو واگھانی نے آخر کار 8 اپریل کو اعلان کیا کہ اس بل کو اس وقت تک روک دیا جا رہا ہے جب تک کہ تمام فریقین کے خدشات دور نہیں ہو جاتے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔