’پلاننگ کمیشن‘ کو اچانک ختم کرنے کی بڑی قیمت ادا کر رہا ہے ہندوستان

ترقیاتی منصوبہ کی ضرورت پہلے سے کم نہیں ہوئی بلکہ مزید بڑھ گئی ہے۔ ایسے میں پلاننگ کمیشن کو ختم کرنا بہت ہی نامناسب اور مضر فیصلہ تھا۔ اس فیصلہ کی وجہ سے آج ملک بہت بڑے چیلنج سے نبرد آزما ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

بھرت ڈوگرا

آج سے پانچ سال پہلے این ڈی اے حکومت نے اچانک یہ اعلان کر دیا تھا کہ 6 دہائیوں سے بھی زیادہ وقت سے ملک کی منصوبہ بند ترقی میں اہم کردار نبھا رہے پلاننگ کمیشن کو ختم کر دیا جائے۔ سال 2014 میں این ڈی اے حکومت کے بنتے ہی یہ فیصلہ انتہائی جلد بازی میں لیا گیا اور اس کے مختلف زاویوں پر قومی سطح کے صلاح و مشورہ کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ اس قدم کو اٹھانے سے پہلے ہر پہلو پر غور و خوض کرنا ضروری تھا۔ مختلف ریاستوں کے بھی اپنے پلاننگ کمیشن اور محکمے رہے ہیں۔ ریاستی سطح کے بھی منصوبے بنتے رہے ہیں۔ ضروری بات ہے کہ ریاستی اور مرکزی سطح کے منصوبوں میں تال میل بنایا جاتا تھا۔

اس لیے اس موضوع پر ریاستوں کے نظریات کو اچھی طرح جاننا اور پلاننگ کمیشن پر کوئی بھی فیصلہ لینے میں انھیں مناسب اہمیت دینا بہت ضروری تھا۔ اس کے علاوہ منصوبہ بند ترقی سے جڑے مختلف سینئر اور معروف ماہرین معاشیات کا مشورہ حاصل کرنا بھی ضروری تھا۔ لیکن ان چیزوں کے لیے حکومت نے وقت ہی نہیں دیا۔

اس طرح سے یہ سوال اٹھنا لازمی تھا کہ آخر یہ فیصلہ لینے کے لیے اس وقت اتنی جلدی کیا تھی؟ اگر تقریباً 63 سال سے چل رہے قومی ادارہ کو ختم کرنا بھی تھا تو تقریباً دو سال اس کے اور بنے رہنے میں بھلا کیا نقصان ہو سکتا تھا؟ ان دو سال میں صحیح مشورے تو ہو جاتے، ریاستی حکومتوں اور ماہرین کے نظریات سامنے آ جاتے۔ پہلے سے چل رہی 12ویں پنج سالہ منصوبہ ختم کے نزدیک آ جاتا، اس کا ایک مڈ ٹرم جائزہ (جو اس وقت تیاری کے دور میں تھا) وہ بھی ٹھیک سے تیار ہو جاتا۔ لیکن یہ دو سال کا ضروری وقت بھی صلاح و مشورہ کے لیے نہیں دیا گیا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ فیصلہ پہلے سے لیا جا چکا تھا کہ پلاننگ کمیشن کو تو ہٹانا ہی ہے۔

ہندوستان میں منصوبہ بند ترقی کی بنیاد آزادی کے پہلے ہی رکھ دی گئی تھی اور اس سمت میں شروعاتی کوششوں سے سبھاش چندر بوس اور جواہر لال نہرو جیسے سرکردہ لیڈر جڑے تھے۔ سال 66-1950 کے دوران آزاد ہندوستان نے پہلی تین سالہ پنج سالہ منصوبے مکمل کیے۔ سال 69-1966 کے معاشی بحران کے بعد 70-1969 میں چوتھا پنج سالہ منصوبہ شروع ہوا لیکن اس میں بہت تخفیف کرنا پڑا۔

اس کے بعد پانچویں منصوبہ کو 1977 میں نومنتخب جنتا پارٹی حکومت نے ’رالنگ منصوبہ‘ میں بدل دیا۔ چھٹا منصوبہ 1980 میں شروع ہوا اور 1990 تک ساتواں منصوبہ پورا ہو گیا۔ 92-1990 کی سیاسی غیر یقینی میں منصوبہ کا عمل کچھ دور ہو گیا۔ لیکن 1992 کے بعد آٹھواں منصوبہ شروع ہوا تو آگے نویں (2002-1997)، دسویں (2007-2002) اور گیارہویں (2012-2007) منصوبوں کا کام مستقل چلتا رہا۔

سال 2012 میں جب 12واں منصوبہ بہت تیاریوں اور تحقیقوں کے ساتھ شروع ہو گیا تو کسی نے یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ اتنی محنت سے تیار کیے گئے منصوبہ کو جلد ہی بیچ بھنور میں چھوڑ دیا جائے گا اور ساتھ میں منصوبہ تیار کرنے اور عملی جامہ پہنانے کے پورے عمل کو ہی منتشر کیا جائے گا۔

پلاننگ کمیشن کو ایسے وقت میں ختم کیا گیا ہے جب ماحولیاتی تبدیلی کے دور میں ترقیاتی منصوبہ کی ضرورت پہلے سے بڑھ گئی ہے۔ اس دور میں طرح طرح کی موسمی تبدیلی، بڑھتے قدرتی آفات، زراعت اور صحت جیسے اہم شعبوں میں نئے مسائل اور چیلنجز کے سبب زیادہ احتیاط سے کیے گئے منصوبوں کی ضرورت اور بڑھ گئی ہے۔

ایک جانب سبھی لوگوں کی بنیادی ضرورتوں کو مضبوطی کے ساتھ پورا کرنے کا انتہائی اہم چیلنج پہلے سے سامنے تھا، اب اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہو گیا ہے کہ یہ ہدف ایسی راہ پر چلتے ہوئے حاصل کیا جائے جس میں ساتھ ساتھ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج بھی کم ہو سکے۔

واضح ہے کہ ترقیاتی منصوبہ کی ضرورت پہلے کے مقابلے کم نہیں ہوئی ہے بلکہ مزید بڑھ گئی ہے۔ اس لیے اس دور میں پلاننگ کمیشن کو ختم کرنا بہت ہی نامناسب اور مضر فیصلہ تھا۔ آج جب ملک بہت بڑے چیلنج سے نبرد آزما ہے، پلاننگ کمیشن کی غیر موجودگی بہت بھاری پڑ رہی ہے اور اس نامناسب فیصلہ کی بڑی قیمت ملک کو ادا کرنی پڑ رہی ہے۔

Published: 22 Jun 2019, 10:10 AM