طنزومزاح: تقریروں اور جھوٹ سے ملک نہیں چلتا، لیکن مودی جی کہتے ہیں کہ بہت اچھی طرح چلتا ہے  

’میرا نام نریندر مودی ہے، میں اقتدار کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہوں اور کسی بھی حد کو پار کر سکتا ہوں۔ میں ایسے ہی نہیں جاؤں گا، جیسے اٹل جی سمیت دیگر وزیر اعظم گئے تھے۔

وشنو ناگر

لوگ کہتے ہیں کہ مودی جی، تقاریر اور جھوٹ سے ملک نہیں چلتا، لیکن میں کہتا ہوں، کیوں نہیں چلتا، اچھی طرح بلکہ بہت ہی اچھی طرح چلتا ہے، سچ تو یہ ہے کہ یہی واحد طریقہ ہے اس ملک کو چلانے کا، خاص طور پر ہندوستان جیسے وشوگرو(استاد) ملک کو چلانے کا تو اس سے اچھا طریقہ کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا، میں نے چلایا ہے اسی طرح گجرات کو بھی اور ملک کو بھی۔ اب آپ ہی بتایئے دوسرے اگر اس فن میں اتنے ماہر نہیں تھے اور آج بھی نہیں ہیں تو کیا یہ غلطی اس نریندر مودی کی ہے؟۔

بھائیوں-بہنوں، کیا مودی مجرم ہیں اس کے لئے؟ مودی نے ٹھیکے تو بہت لے رکھے ہیں مگر یہ ٹھیکہ لے کر کیا وہ اپنے ہاتھ پیر كٹواتے؟ اپنی آنکھوں کے سامنے وزیر اعظم دوسروں کو بننے دیتے؟ اڈوانی جی کے سامنے سر جھکا کر کہتے کہ ’استاد محترم آیئے اور آپ وزیر اعظم بنیے، کیونکہ کل تک آپ ہی میرے سیاسی آقا تھے؟ آپ کو لگتا ہے فرضی ڈگری کے باوجود اتنا بے وقوف ہوں میں!‘۔

دوسروں کو چھوڑیئے آپ اٹل جی کو یاد کیجیے، اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ بہت اچھی تقریر کرتے تھے لیکن یہ ان کی ناکامی تھی کہ وہ میری طرح اس میں جھوٹ کی ملاوٹ اتنے اچھے طریقے سے نہیں کر پاتے تھے، اب آپ ہی بتایئے کیا ان کی کلاس لینے مودی جاتے اور کہتے کہ مہاراج مجھ سے کچھ سيكھیے؟ اس وقت دو لات مار کر وہاں سے بھگا دیا جاتا اور کہا جاتا کہ ارے تجھے ہم نے غلطی سے وزیر اعلی بننے دیا اب تیری ہمت اتنی بڑھ گئی کہ تو اٹل جی کو سیاست سکھائے گا؟۔

میں، نہرو جی، اندرا جی، راجیو گاندھی اور منموہن سنگھ جیسے کانگریسیوں کی کلاس تو سنگھی ہوکر تو لے نہیں سکتا تھا! یہ سنگھ سے بے وفائی ہوتی اور سنگھ کوئی میری بیوی یا اڈوانی جی تو ہیں نہیں! اور اگر مان لو کہ سنگھ سے میں بے وفائی بھی کرتا تو یہ بھی میرا وہی حال کرتے جو اٹل جی کرتے! اور نہرو جی، اندرا جی اور یہاں تک کہ میں راجیو جی کے زمانے میں تھا ہی کیا اور تھا ہی کہاں؟ نہرو جی کے زمانے میں تو چڈھی پہننا اور پائجامے کا ناڑا باندھنا بھی میں نے مشکل سے سیکھا تھا۔

اچھا اب آپ ہی ایمانداری سے بتایئے تقریر اور جھوٹ کو فنکارانہ انداز میں ملاوٹ کرنا مجھ کو نہ آتا تو کیا گجرات کے تخت کے بڑے بڑے دعویداروں کو پیچھے دھکیل کر میں کبھی وزیر اعلی بن پاتا اور اگر بھی بن جاتا تو کیا جڑ سے اکھاڑ نہیں دیتے مجھے؟ اس فن کا میں بہترین اداکار نہ ہوتا تو بتایئے میں اپنی ریاست گجرات میں 2002 کروا پاتا؟ اتنی نفرت پھیلا کر اپنی سیاست کا قلعہ، لال قلعہ جیسا مضبوط بنوا پاتا؟ وزیر اعظم بن پاتا؟ گجرات میں جتنا ترقیاتی کام میں نے نہیں کیے، اس سے سو گنا زیادہ بتا کر ہندوستان کے لوگوں کو کیا اچھے طریقے سے الو بنا پاتا؟ غریب تو لال بہادر شاستری بھی تھے اور منموہن سنگھ بھی تھے، مگر معاف کیجیے انہیں اپنی غربت کی مارکیٹنگ کرنی نہیں آتی تھی، لیکن میں نے کی اور خوب کی اور ایسی کی کہ ملک میں ایسا ماحول بنا دیا کہ جیسے پہلی مرتبہ کوئی غریب کا بیٹا وزیر اعظم بن رہا ہے، چائے والا بن کر لوگوں کو گمراہ کیا کہ مجھ سے بڑا غریبوں کا مسیحا نہ کوئی ہوا ہے، نہ ہے اور نہ ہوگا کبھی، جبکہ اب آپ جانتے ہیں کہ مجھ سے بڑا امیروں کا خیر خواہ وزیر اعظم آج تک دوسرا نہیں ہوا۔

خوبصورتی سے جھوٹ بول کر لوگوں کو بیوقوف بنانا ایک فن ہے ہنر ہے بھائیوں-بہنوں، آپ ہی بتایئے جھوٹ کو ایک فن کی طرح پیش کرنے کا میرا ہنر کسے آتا تھا پہلے؟ تھا کوئی میرے علاوہ جو ہر ایک کو پندرہ پندرہ لاکھ روپے دینے کا وعدہ کرتا اور لوگ اس پر یقین بھی کر لیتے؟ کوئی اور اچھے دن کا وعدہ کرتا، دو کروڑ لوگوں کو ہر سال روزگار دینے کا وعدہ کرتا اور لوگ اس پر اتنی آسانی سے بھروسہ کر لیتے؟ سب کا ساتھ، سب کا وکاس کی بات بغیر چوں چرا وہ ہضم کر پاتے؟۔

یہ میری تقریر اور جھوٹ کا ایسا متوازن ملاوٹ تھا کہ لوگوں نے مجھ جیسے مهاجھوٹھے پر بھی یقین کر لیا اور ڈھائی تین سال تو سمجھو اتنے مزے سے یقین کر لیا جیسے کوئی مسیحا زمین پر آیا ہو اور یہی میں چاہتا تھا، لوگ تھے جو جانتے تھے کہ یہ سرے سے جھوٹا اور پکا لفاظ ہے، یہ کچھ بھی کرے گا نہیں، جھوٹ در جھوٹ بولتا جائے گا اور نفرت کا کاروبار کرے گا، بس، یہ اس کی آخری حد ہے۔ آپ ذرا سوچیے میں نے کہا کہ نوٹبدی سے سارا کالا دھن باہر آجائے گا، ان غریبوں نے میرے اس جھوٹ پر یقین کر لیا کہ ہاں یہ تو سارے پیسے والوں کی ایسی تیسی کر کے رکھ دے گا۔ بہت بھولے ہیں اس ملک کے لوگ، ہم جیسے لفاط، ڈرامائی شکل بناکر، ادھر ادھر ہاتھ پیر پھینک کر، جملےبازی کرکے، آواز میں اتار چڑھاؤ لاکر مناسب طریقے سے بیوقوف بنائیں تو ایک بار تو بن ہی جاتے ہیں۔

میں ہی تو تھا، جس نے سرجیکل اسٹرائیک کی ایسی لن ترانيا چھوڑیں کہ لوگوں کو لگا کہ ہاں یہ آیا ہے مرد مجاہد! یہ پاکستان کی مٹی پليد کر دے گا، ایک کے بدلے دس پاکستانیوں کے سر لے آئے گا، چین کو چینی کا برادا بنا کر رکھ دے گا، نازل ہو گیا ہے مہارانا پرتاپ اور شیواجی کا مشترکہ اوتار! یہ سب میری تقریروں اور جھوٹ کا کمال تھا۔ پھر میں نے فرضی اعداد و شمار، تقریروں، جوشیلے نعروں کی پیداوار کے کئی کئی کارخانے كھلوا دیئے اور تین شفٹوں میں اس کی پیداوار کروائی، تاکہ جو بھی میدان میں آئے، وہ چت ہو جائے، میں نے اپنے كلون وزراء (اپنے جیسے لوگ) کے طور پر پیدا کئے۔

اب ٹھیک ہے، لوگ کہہ رہے ہیں کہ میرا تنبو (خیمہ) اکھڑ رہا ہے تو ٹھیک ہی کہہ رہے ہوں گے، لیکن میں ایسا آسانی سے نہیں ہونے دوں گا، میرا نام مودی ہے، نریندر دامودر داس مودی، میں اقتدار کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہوں، کروا سکتا ہوں، کسی بھی حد کو پار کر سکتا ہوں، میں ایسے ہی نہیں چلا جاؤں گا، جیسے اٹل جی سمیت دیگر وزیر اعظم چلے گئے تھے، میں چوکیدار بھی ہوں اور بالکل ویسا، جیسا راہل گاندھی اکثر میرے بارے میں کہا کرتے ہیں، میں ملزم بھی ہوں، اپنا وکیل بھی اور ملک کی بڑی سے بڑی عدالت بھی۔ میں سی بی آئی بھی ہوں، آئی بی بھی، سی آئی ڈی بھی، میں وزیر اعظم بھی ہوں اور محلہ چھاپ رہنما بھی، میں کورو، راون، کنس سب ایک ساتھ ہوں، مجھے اس عہدے کے وقار کو گرانے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں، جس پر کبھی جواہر لال نہرو بیٹھا کرتے تھے۔ میں، میں میں-میں ہوں۔ میں آدمی نہیں، سیلفی ہوں. مجھے انسان نہیں سمجھنا، میں جھوٹ کی مشین گن کا لیٹسٹ ماڈل ہوں۔ میں نریندر دامودر داس مودی ہوں۔

Published: 6 Jan 2019, 2:39 PM