کورونا سے مودی حکومت کو فوری راحت!... نواب علی اختر

کچھ واقعات سے ہندوستان کے وقار کو ٹھیس پہنچی ہے اور اب ملک کو اپنی شبیہ بہتر بنانے کی ضرورت ہے، اپنی سیکولر جڑوں کی طرف لوٹنا اور پہلی فرصت میں مسلمانوں کے زخموں کی مرہم پاشی کرنا بے حد ضروری ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

نواب علی اختر

دنیا بھر کے امن وچین کو ناپید کرنے والے کورونا وائرس نے عالمی معیشت میں زلزلہ لا دیا ہے اور دنیا کے مختلف حصوں میں جاری شورش ’کورونا‘ کا شکار ہوگئی ہے، مگر یہ وباء ہندوستان کی مودی حکومت کے لیے ’بڑی راحت‘ لے کر آئی ہے۔ ہندوستان میں درجنوں سلگتے ہوئے عوامی مسائل کی وجہ سے عالمی تنقید کی زد میں آئی مودی حکومت نے بھی اپنی روایتی چالاکی سے تمام مسائل پرکورونا کا خوف حاوی کر دیا ہے، جس کی وجہ سے شہروں سے لے کر دیہات، ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر براجمان شخص سے لے کر سڑک پر بھیک مانگنے والے تک تقریباً سبھی لوگ کورونا سے’منہ چوری‘ کرتے پھر رہے ہیں۔ غورطلب ہے کہ1.25 بلین کی آبادی والے ہندوستان میں صرف 107 مریضوں میں کورونا وائرس پایا گیا ہے اور دو لوگوں کی موت کی خبریں ہیں، لیکن پورے ملک میں موبائل فون کالرٹیون سے لے کر ٹیلی ویژن اور اخبارات کے ذریعے ایک ہنگامہ بپا کیا گیا تاکہ آپ خوفزدہ ہوں اور اپنی توجہ اصل امور سے ہٹالیں۔

دوہفتہ قبل دہلی میں بھڑکے خوفناک فسادات میں درجنوں افراد کی موت ہوگئی، بے شمار املاک تباہ کر دیئے گئے، گھروں کو نذر آتش کر دیا گیا، مگرکیا حکومت نے ایسی کوئی کالر ٹیون بنوائی کہ لوگ آپس میں نہ لڑیں، افواہوں سے اجتناب کریں؟ بالکل نہیں۔ کیونکہ یہ ایک سرپرستی پر مبنی پہلے سے منظم فساد تھا جس’کھیل‘ کو نہ سمجھ پانے کے لیے ہی ایسا ماحول تیار کیا جا رہا ہے کہ لوگ مہنگائی، بے روزگاری، بینکنگ گھپلے، جمہوری تحریکیں، معیشت کی تباہی جیسے سلگتے ہوئے مسائل کو پس پشت ڈال کر’کوا کان لے گیا‘ میں ہی لگ جائیں۔ در حقیقت کورونا وائرس کی علامات ایک جیسی ہیں، جس کی وجہ سے اکثر موسم میں تبدیلیوں کے سبب سردی، کھانسی اور جسم میں درد ہوتا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ اس کا اثر گرمی کے ساتھ ختم ہو جائے گا، جیسا کہ عالمی صحت تنظیم کے ماہرین نے بھی کہا ہے لیکن ملک میں ہندو مسلم ناچاقی اور بے اعتباری کا جو ماحول تیار کر دیا گیا ہے اس کا کیا ہوگا؟۔

قومی راجدھانی میں مسلسل چار روز تک تباہی کی چیخ وپکار کو ہماری سرحدوں سے باہر بھی سنا گیا۔ فسادات کے نتیجے میں پیدہ شدہ تشویشات اور ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیتی برادری کی حفاظت کے بارے میں خدشات کی لہر بین الاقوامی طور پر اقوام متحد ہ سے لے کر دور و نزدیک امریکہ، انڈونیشیا، ایران اور اس سے بھی آگے تک محسوس کی گئی۔ دہلی فساد کی شدت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے ایران کے اعلیٰ مذہبی رہنما آیت اللہ خامنہ ای جو شاذونادر ہی دنیاوی مسائل پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہیں، کو دہلی فساد میں اموات پر رنج وغم کا اظہارکرتے ہوئے کہنا پڑا کہ حکومت ہند کو چاہیے کہ وہ انتہا پسند ہندووں اور ان کی پارٹیوں سے نپٹے اور مسلمانوں کے قتل عام کو روکے تاکہ ہندوستان عالم اسلام سے کٹ کر نہ رہ جائے۔ سرکاری طور پر ایران نے دہلی کے فرقہ وارانہ فسادات کو’ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف منظم تشدد‘ قرار دیا۔ ایرانی وزیر خارجہ کے ٹوئٹ نے ہندوستان کو یہ یاد دلادیا کہ ایران صدیوں سے اس کا دوست رہا ہے، ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ یہ مبینہ تشدد مغربی ایشین ملک کے ساتھ تہذیبی تعلقات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اس طرح کے چبھتے جملوں سے محاذ آرائی کے رویے نیز برادریوں کے درمیان خانہ جنگی جیسی صورتحال کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

دہلی کے فسادات جس نے فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کو جنم دیا اور جو دہائیوں سے نہیں دیکھا گیا تھا، کا حل صرف غیر جانبدارانہ تحقیقات میں مضمر ہے۔ اس تاثر کو محض اسی صورت زائل کیا جا سکتا ہے جب اشتعال انگیزیوں کو ترجیحی بنیاد پر ختم کیے جانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ اگر مجرمین کو ایسے ہی کھلے سانڈ کی طرح چھوڑ دیا گیا تو اکثریت پسندی کے رجحان کو پنپنے میں دیر نہیں لگے گی۔ ہندوستان کے ماتھے پر لگائے گئے اس کلنک کو صرف مجرمین کو کیفر کردار تک پہنچا کر ہی مٹایا جا سکتا ہے۔ ایران کے محض ایک ٹوئٹ پر پورے ملک میں اتھل پتھل دیکھی گئی، ٹوئٹر پر جہاں مجازی جنگ جاری رہی وہیں وزارت خارجہ کے ترجمان صفائیاں دیتے نظر آئے، جبکہ مین اسٹریم میڈیا میں بھی یہ خبر چھائی رہی، اور تین روز تک تقریباً سارے چینل کی سرخی یہی خبر رہی ۔ اندازہ لگائیں صرف ایک مسلم ملک کے تبصرے سے اتنا کچھ ہو سکتا ہے تو اگر سارے مسلم ممالک کسی معاملے پر اتفاق رائے کر لیں تو کتنا فرق پڑے گا۔

2014 میں جب نریندر مودی نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا تھا تب ان کی ایک اہم کامیابی اسلامی دنیا کے ساتھ تعلقات استوار کرنا بھی تھی۔ ہندوستان کے قومی مفادات اور تزویراتی ناگزیریوں کو تسلیم کرتے ہوئے مودی نے مسلم اکثریتی ممالک خصوصاً مغربی ایشیا کے بڑے پیمانے پر اسفار کیے۔ امریکہ کے دباؤ کے باوجود نئی دہلی، ایران کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ اس نے انڈونیشیا کو ایشیا بحر الکاہل کی ایک اہم درمیانی طاقت کے طور پر تسلیم کیا۔ بنگلہ دیش کو بھی جنوبی ایشیا میں ہندوستان کا سب سے قریبی دوست سمجھا جاتا رہا۔ کچھ تنقیدیں سخت اور حدود سے متجاوز ہو سکتی ہیں۔ چند مملکتیں بذات خود انسانی حقوق کی پامالی کا غیر معمولی ریکارڈ رکھتی ہیں اور انھیں دوسروں پر انگلی اٹھانے سے قبل خود اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے لیکن ڈپلومیسی میں پر سیپشن کی اہمیت کافی ہوتی ہے، یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ سفارتی محاذ پر حاصل کی گئی کامیابیاں ملکی سیاسی تبدیلیوں اور اتھل پتھل کے سبب ضائع ہو جاتی ہیں۔ یہ سوچنا کافی نہیں ہے کہ موجودہ حکومت کی پالیسی کے سبب نئی دہلی کے خلاف دنیا تعصب کا شکار ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان کے قد کو بڑھانا پی ایم مودی کے ایجنڈے کا ایک اہم عنصر رہا ہے لیکن اس احساس سے کہ ان کی حکومت اقلیتوں کے خدشات سے بے نیاز رہی ہے، مغرب میں بلکہ اسلامی دنیا میں بھی یہ محض جو پولٹیکل رویہ کہلائے گی۔ افغانستان میں ممکنہ طور پر طالبان کی واپسی کے ساتھ اس وقت جب کہ اس کا ہمسایہ نازک صورتحال سے دوچار ہے، ہندوستان بھی بین الاقوامی قومی انتہا پسندی کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس لیے چند سالوں میں رونما ہونے والے کچھ واقعات سے ہندوستان کے وقارکو ٹھیس پہنچی ہے اورملک کو اپنی شبیہ بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اپنی سیکولر جڑوں کی طرف لوٹنا اور پہلی فرصت میں اپنے وطن میں مسلمانوں کے زخموں کی مرہم پاشی کرنا ضروری ہے۔

    Published: 15 Mar 2020, 7:11 PM