نفرت اور تشدد کے ماحول میں کیا کرے اقلیتی طبقہ؟

جمعیۃ جیسی تنظیموں کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ نوجوانوں کو یہ بتائیں کہ امن اور محبت کے پیغام سے نفرت کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

گزشتہ کچھ سالوں میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ اس تشدد میں ایک فکر انگیز پہلو یہ ہے کہ ’گئو ماتا‘ اور وطن پرستی کے نام پر اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس میں مذہبی اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا ہے اور وہ اپنے محلوں میں محدود ہونے لگے ہیں۔ یہ سب ملک کے سماجی تانے بانے کے لیے خوش آئند نہیں ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے ذریعہ نوجوانوں کو سیلف ڈیفنس کی تکنیک سکھانے کے لیے کلبوں کا قیام کرنے کے اعلان کو اسی ضمن میں دیکھا جانا چاہیے۔

جمعیۃ کے سربراہ مولانا محمود مدنی نے اپنی تنظیم کے متعلق جانکاری دیتے ہوئے منصوبوں کے بارے میں بتایا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس پیش قدمی کا مقصد نوجوانوں کو مشکل حالات سے نمٹنے کے لیے تیار کرنا ہے۔ یہ نوجوان ملک پر کسی بحران کی صورت میں ملک کے کام آئیں گے۔ انھوں نے کہا کہ نوجونواں کو یوتھ کلبوں میں اسکاؤٹ-گائیڈس کی طرح تربیت دی جائے گی۔ اس اعلان پر رد عمل دیتے ہوئے ونے کٹیار اور آر ایس ایس سے منسلک تنظیموں کے ترجمان نے کہا کہ اس سے تشدد کو فروغ ملے گا اور یہ بھی کہ یہ آر ایس ایس ماڈل کی نقل کرنے کی ایک کوشش ہے جو کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ انھوں نے کہا کہ حالانکہ مدنی نے اسکاؤٹس اور گائیڈس کی طرح تربیت دینے کی بات کہی ہے لیکن سیلف ڈیفنس کے لیے دی گئی تربیت حملے کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔

کئی مسلم تنظیموں نے جمعیۃ کے اس قدم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو نظامِ انصاف میں پورا بھروسہ ہے اور شہریوں کو سیکورٹی فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد مسلمانوں اور عیسائیوں میں عدم تحفظ کے احساس میں ناقابل بیان اضافہ ہوا ہے۔ آر ایس ایس اور اس کی اولادیں لاٹھی اور بندوق چلانے کی تربیت طویل مدت سے دیتی آ رہی ہیں۔ آر ایس ایس کی شاخوں میں لاٹھی سویم سیوک کی یونیفارم کا ضروری حصہ ہے۔ جس وقت آر ایس ایس کا قیام ہوا تھا اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ برطانوی حکومت تھی۔ کیا آر ایس ایس کے سویم سیوکوں نے لاٹھی کا استعمال انگریزوں کو ملک سے بھگانے کے لیے کیا؟ قطعی نہیں۔ یہ لاٹھی تو وہ ہندوستانیوں پر ہی چلاتے تھے۔

گزشتہ کچھ دہائیوں سے بجرنگ دل اور درگا واہنی بندوق چلانے کی تربیت بھی دیتی آ رہی ہیں۔ یہ سب کچھ سیلف ڈیفنس کے نام پر کیا جا رہا ہے۔ کیا ہمارے ملک میں قانون کا راج نہیں ہے؟ کیا ہندوستانی آئین اس ملک پر نافذ نہیں ہوتا؟ کیا ہمیں سیکورٹی دینے اور ہمارے ساتھ انصاف کرنے کے لیے پولس اور عدالتیں نہیں ہیں؟ تب پھر آر ایس ایس فیملی کے اسلحہ ٹریننگ پروگراموں کا کیا مقصد ہے؟ آر ایس ایس کا اسلحہ کے تئیں عجیب کھنچاؤ ہے۔ ہر دسہرے پر وہ اسلحوں کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ان کی پوجا بھی۔ میڈیا میں اس طرح کی رپورٹیں شائع ہوتی رہتی ہیں کہ پولس کو آر ایس ایس کے پاس ایسے اسلحے ہونے سے متعلق جانکاری نہیں ہے۔ آر ایس ایس، عدم تشدد کی بات کرتا ہے لیکن اسلحوں کے بھی گُن گاتا رہتا ہے اور نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو ان کا استعمال کرنا سکھاتا ہے۔ اس کے علاوہ آر ایس ایس سے منسلک تنظیمیں ترشول تقسیم کرنے کی تقریب بھی منعقد کرتے رہتے ہیں۔ ترشول بھگوان شیو سے جڑا ہوا ہے اور بھوتھرا ہوتا ہے۔ لیکن ان تنظیموں کے ذریعہ جو ترشول تقسیم کیے جا رہے ہیں وہ چاقو کی طرح نکیلے اور تیز ہوتے ہیں۔ اگر ہم قانون کی بات نہ بھی کریں تو بھی کسی بھی طبقہ یا گروپ کے ذریعہ اسلحوں کا استعمال کر اپنی حفاظت کرنے کی کوشش اچھی بات نہیں کہی جا سکتی۔

مسلم طبقہ اور جمعیۃ جیسی تنظیموں کی پریشانی سمجھی جا سکتی ہے۔ آج جو حالات ہیں ان میں اقلیتی تنظیموں کا کیا کردار ہونا چاہیے؟ کچھ مسلم تنظیموں نے جمعیۃ کی پیش قدمی کی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چند نوجوانوں کو اسکاؤٹ-گائیڈ جیسی تربیت دینے یا آر ایس ایس کی نقل کرنے سے مسلم طبقہ کے مسائل حل ہونے والے نہیں ہیں۔ اس کی جگہ جمعیۃ کو یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ قانون ٹھیک ڈھنگ سے نافذ کیے جائیں اور تشدد متاثرین کے ساتھ انصاف ہو۔ فرقہ وارانہ تشدد کی جانچ کے لیے تشکیل دی گئی زیادہ تر کمیشن کی رپورٹوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ پولس کا جانبدارانہ نظریہ اور سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ فرقہ واریت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش ملک میں تشدد میں اضافہ کا سبب ہے۔ سنہ 1984 کے سکھ مخالف فسادات کے ملزمین کو آج تک سزا نہیں مل سکی ہے۔ ممبئی فسادات پر شری کرشن کمیشن کی سفارشات نافذ نہیں کی گئی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس سے جرائم پیشوں کا حوصلہ بڑھتا ہے، بے قصور سزا کاٹتے ہیں اور انصاف نہیں ہوتا۔ گجرات میں گودھرا کے بعد ہوئے فساد، ملک کے سب سے ہونہار وزیر اعلیٰ کی ناک کے نیچے ہوئے تھے۔ ان میں تقریباً دو ہزار لوگ مارے گئے تھے اور ریاست تشدد کا اسپانسر تھا۔ جمعیۃ کی قیادت کو یہ سوچنا چاہیے کہ وہ جو کر رہا ہے کیا وہ درست ہے؟

جمعیۃ کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ تشدد کی جڑ کا پتہ لگایا جائے۔ تشدد کی جڑ ہے سماج میں پھیلائی جا رہی نفرت۔ اس نفرت کے پیچھے ہیں اقلیتوں کے بارے میں کئی طرح کی غلط سوچ اور تعصب۔ اسلام کو پرتشدد مذہب بتایا جاتا ہے اور عیسائیوں کو مذہب تبدیل کرنے میں ماہر ظاہر کیا جاتا ہے۔ گجرات میں تیستا سیتلواڈ جیسے لوگوں کے ساتھ جو ہوا اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک میں انصاف پانا بہت مشکل کام ہے۔ کچھ ٹی وی چینلوں، میڈیا کے ایک حصے اور سوشل میڈیا کے ذریعہ کی جا رہی منافرت والی تشہیر کا مقابلہ کیے جانے کی ضرورت ہے۔ دورِ وسطیٰ اور تحریک آزادی کے دوران ملک کے اصل کردار کی تشہیر کی جانی چاہیے۔ ہمیں لوگوں کو یہ بتانا ہوگا کہ ہندوستانی راشٹرواد یکجہتی ہے اور ہماری تہذیب و ثقافت مل جل کر محبت کے ساتھ رہنے کی ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ جو لوگ ملک کے تحفظ اور لوگوں کے حقوق انسانی کے بارے میں فکر مند ہیں وہ ایک اسٹیج پر آئیں۔ جمعیۃ جیسی تنظیموں کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ نوجوانوں کو اس بات کی تربیت دیں کہ مسلمانوں کے خلاف پھیلائی جا رہی نفرت کا مقابلہ کس طرح کیا جائے۔ وہ نوجوانوں کو یہ بتائیں کہ امن اور محبت کے پیغام سے نفرت کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر جمعیۃ مسلمانوں کے بارے میں پھیلی غلط سوچ کا تھوڑا سا بھی حصہ ختم کرنے میں کامیاب ہو گئی تو یہ نوجوانوں کو سیلف ڈیفنس کی تربیت دینے سے کہیں زیادہ قابل قدر کام ہوگا۔

سب سے زیادہ مقبول