اقلیتوں کو دوئم درجہ کا شہری بنانے کی مہم... نواب اختر

ملک میں نفرت کا بازار گرم ہے، مذہب کے نام پر لوگوں کو پیٹا جارہا ہے، مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کیا جارہا ہے اور انکار کرنے پر بے رحمی کے ساتھ پیٹائی کی جارہی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

نواب علی اختر

ہندوستان ایک ایسا گلدستہ ہے جہاں پر ہر قسم، رنگ کے پھول ہیں جو اپنی خوشبو بکھیر رہے ہیں۔ اس گلدستے کی آبیاری ہندو، مسلمان، سکھ اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں نے مل کر کی تھی اور یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز کے نظام اورآئین کو تیار کرنے والوں نے انتہائی دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے تمام شہریوں کے لئے یکساں مواقع فراہم کرنے کی راہ ہموارکی۔ بانیان جمہوری ہندوستان نے آئین کی ترتیب کے وقت مذہبی نظریہ کو اپنے ذہنوں سے دور رکھا تھا اور ان کا نظریہ صرف اورصرف ایک ترقی یافتہ ہندوستان تھا۔ موجودہ وقت میں ہندوستان اقوام عالم میں اپنے کثیر المذاہب جمہوری نظام کے لئے مشہور ہے۔ دنیا بھر کے انسانیت نواز ممالک ہندوستان کی جمہوریت کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ لیکن موجودہ وقت میں ایک فرقہ پرست گروہ کی جانب سے ہمارے ہندوستان کی تاریخ اور روایت کو مٹاکر اپنی تاریخ گڑھنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس سے وطن عزیزکی خصوصیت کوخطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

گزشتہ کچھ سالوں کے دوران ایک ایسے بنیاد پرست طبقہ نے سر اٹھایا ہے جس کا مقصد خاص ’ہندو راشٹر‘ ہے اور اسی نظریہ کے تحت اقلیتوں بالخصوص مسلمان اور دلتوں کی زندگی تنگ کی جا رہی ہے۔ ملک میں نفرت کا بازار گرم ہے، مذہب کے نام پر لوگوں کو پیٹا جارہا ہے، مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کیا جارہا ہے اور انکار کرنے پر بے رحمی کے ساتھ پیٹائی کی جارہی ہے جس کے نتیجے میں بے قصور شہریوں کی جان چلی جارہی ہے۔ کسی شخص پرشک ہوا کہ وہ چوری کرنے کی غرض سے آیا ہے تو اس کو پکڑ کر تفتیش کی جا رہی ہے اور جب معلوم ہوا کہ ان کے ہتھے چڑھے شخص کا تعلق کسی خاص مذہب سے ہے تو واقعہ کی نوعیت ہی بدل جا رہی ہے۔

منظم بھیڑ قانون کو ہاتھ میں لے کر اپنی تمام ترتوانائی اور صلاحیت اس نہتے بے قصور شخص پراستعمال کرنے لگتی ہے۔ پہلے تو اس کو کسی کھمبے سے باندھ کر پیٹا جاتا ہے اور پھر بعد میں اس کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ ایک مخصوص مذہبی نعرہ لگائے تاکہ اس کو احساس ہوسکے کہ کسی مخصوص مذہب سے اس کا تعلق کس قدر پریشان کن ہوگا۔ دلوں میں خوف اور دہشت پیدا کرنے کے مقصد سے یہ کام کیا جارہا ہے تاکہ اقلیتی اور پسماندہ طبقات خود کو دوسرے درجہ کے شہری محسوس کریں اور پیٹائی کرنے والے لوگوں کے ماتحت رہیں۔

مگر ایسا کبھی ممکن نہیں ہے کیونکہ دنیا کی عظیم جمہوریت ہندوستان کے آئین اور دستور نے ہر شہری کوخواہ وہ ہندو ہو یا پھر مسلمان، دلت ہو یا قبائیلی، سکھ ہو یا پھر عیسائی سبھی کے لئے مساوات قائم کیے ہیں۔ حکومت اور انتظامیہ خواہ کتنی ہی کوشش کرلیں اوراقلیتوں کو زک پہنچانے والے فیصلے کریں مگر ہماری عدالتیں انصاف اور انسانیت کی سربلندی کے لئے اپنے وجود کا ثبوت دیتی رہیں گی۔ اس سلسلے میں خود ساختہ ’لوجہاد‘ میں جس طرح فرقہ پرستوں کو منہ کی کھانی پڑی ہے وہ ایک سبق ہے لیکن یہ لوگ اپنی نفرت انگیزی کا سلسلہ روکنے کے لئے تیارنہیں ہیں۔ کیا یہ سب اس لئے ہو رہا ہے کیونکہ مرکز اور بیشتر ریاستوں میں نام نہاد ’راشٹربھکتوں‘ کی حکومتیں ہیں؟ یا سنگھ پریوار نے 2024 ء تک ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کا جو منصوبہ بنایا ہے، اس سمت میں پیشرفت کی جارہی ہے۔

ہجومی تشدد کا مقصد خوف و دہشت کا ماحول پیدا کرکے مسلمانوں میں دوئم درجہ کے شہری ہونے کا احساس پیدا کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب حوصلے پست ہوجائیں گے تو مسلمان مسجد اور شریعت کے تحفظ کے لئے آواز اٹھانے کی ہمت نہیں کریں گے۔ سازش یہی ہے کہ جان ومال کے نقصان کے ذریعہ عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا جائے تاکہ ہندوتوا ایجنڈہ پر عمل آوری میں رکاوٹ نہ رہے۔

ملک کی وزارت عظمیٰ پر فائزنریندر مودی کی پہلی میعاد میں شروع ہوا ہجومی تشدد کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ جس وقت مودی حلف لے رہے تھے، اسی وقت ہجومی تشدد کا واقعہ پیش آیا۔ ان سب کی موجودگی میں یہی کہا جائے گا کہ ہجومی تشدد کے واقعات ہندوتوا ایجنڈے سے مربوط ہیں۔ شریعت میں مداخلت کے ذریعہ ملک میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی راہ ہموار کرنا اصل سازش ہے۔

لوک سبھا میں طلاق ثلاثہ بل کو منظوری دے دی گئی۔ حیرت اس بات پر ہے کہ حکومت کے پاس انسانی جانوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے، سپریم کورٹ کی ہدایت کے باوجود ہجومی تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لئے حکومت ٹھوس قدم اٹھانے اوراس کے تدارک اور خاطیوں کو سزا کے لئے کوئی قانون سازی کرنے کی بجائے چند اسلام بیزار اور دین سے نابلد خواتین کی آڑ میں اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، مسلم خواتین سے ہمدردی کے نام پر شریعت میں مداخلت کی جارہی ہے۔ مودی حکومت کو اگر واقعی مسلم خواتین سے ہمدردی ہے تومطلقہ اور بیوہ خواتین کو گزربسر کے لئے مالی امداد کرے۔ ہجومی تشدد کے خلاف قانون سازی کرکے خواتین کو بے سہارا ہونے سے بچائے۔ ہجومی تشدد میں ہوئی ہلاکتیں طلاق جیسے سماجی جرم سے زیادہ سنگین ہیں۔

عدالت عظمیٰ نے تین طلاق کو پہلے ہی کالعدم قرار دیا ہے، جس چیز کا قانونی طور پر وجود نہ ہو، اسے فوجداری جرم کے دائرہ میں شامل کرکے تین سال کی سزا مقرر کرنا کون سی عقلمندی ہے۔ شوہر کو جیل بھیج کر کیسے توقع کی جائے گی کہ وہ شخص اس خاتون کے گزارے کی رقم ادا کرے گا جس کی شکایت پر جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ گیا۔ طلاق اسلام میں نا پسندیدہ عمل ہے اور اس حق کے استعمال کے لئے کئی پابندیاں ہیں۔ سماجی برائیوں کا خاتمہ صرف قوانین سے ممکن نہیں ہے۔ مسلم خواتین سے ’ہمدردی‘ سے قبل حکومت کو 30 لاکھ سے زائد ان ہندو خواتین کی فکر کرنی چاہیے جن کے شوہروں نے انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے، انہیں طلاق بھی نہیں دی گئی جس سے وہ اپنا نیا گھر بسا سکیں۔

مودی حکومت مسلم خواتین سے ہمدردی کا ڈرامہ بند کرے کیونکہ اسلام نے1400سال پہلے ہی خواتین کو جو مقام دے دیا تھا، دنیا کا کوئی قانون آج اس کی مثال پیش نہیں کرسکتا۔ مودی حکومت کو سماج میں پھیلی برائیوں کو ختم کرنے کی فکر نہیں ہے مگر شریعت جس میں خواتین اور مرد یہاں تک کہ چرند و پرند کے بھی حقوق مقرر ہیں، اس میں مداخلت کے لئے ہرحربے استعمال کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی اور شادی کے بغیر خواتین سے رشتوں جیسے سنگین سماجی جرائم کو جائز قرار دے دیا ہے لیکن مودی حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات کو چیلنج کرتے ہوئے بے حیائی کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ حالانکہ کسی بھی مذہب میں اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

شریعت پر متواتر حملوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن مسلمان قوم اور اس کے رہنما بے حسی کے آخری درجہ میں ہیں۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ مسلم مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کو شریعت کے تحفظ میں ہرگز دلچسپی نہیں ہے انہیں صرف اپنے نام ونمود کی فکرہے۔ گزشتہ کچھ سالوں سے ہمارے مذہبی رہنماؤں نے عجیب روش اختیارکرلی ہے جس میں بیشترعدالتی فیصلوں پر وہ تپاک سے بیان جاری کرکے اطمینان کا اظہارکر دیتے ہیں۔ کیا انہیں معلوم ہے کہ ان کا اظہار اطمینان ریکارڈ ہوتا ہے اورمتعلقہ فیصلے میں ان کے’اطمینان‘ کا اہم کردار ہوسکتا ہے۔ اگرغورکیا جائے تو معلوم ہوگا تین طلاق معاملے پر رہنماوں کے اسی’اطمینان‘ کا اہم دخل رہا ہے اورعدالت کا فیصلہ بھی اسی کے پیش نظرآیا ہے اور آنا بھی چاہیے کیونکہ جب مذہبی رہنما ’مطمئن‘ ہوں گے توعدالت کو بھی فیصلہ سنانے میں آسانی ہوگی۔ ملک کے حساس ترین معاملات میں سے ایک بابری مسجد کی شہادت پرعدالت میں سماعت کا سلسلہ جاری ہے توفریقین کواس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ مستقبل میں اطمینان کا اظہار کرتے وقت اپنے الفاظ پر سنجیدگی سے غورکریں بصورت دیگر ایسے لوگوں کو قوم کبھی معاف نہیں کرے گی۔

Published: 28 Jul 2019, 8:10 PM