کیجریوال کا مکمل یوٹرن، مودی مخالف شبیہ کو دھونے کی کوشش کر رہے ہیں

سال 2015 کے اسمبلی انتخابات میں تاریخی کامیابی کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کو بزدل اور دماغی مریض کہنے والے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کے بھی اب سر بدلے ہوئے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

سید خرم رضا

اس میں کوئی دو رائے نہیں سال 2019 کے انتخابی نتائج نے قومی سیاست کو از سر نو بدل دیا ہے اور ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ حکومت کو چیلنج کرنے والی کوئی قووت ملک میں باقی نہیں رہی ہے۔ دوسری جانب برسراقتدار حکومت کسی بھی موضوع پر کسی سے نہ تو رائے لینے میں یقین رکھتی ہے اور نہ تبادلۂ خیال کرنے کی ضرورت محسوس کرتی ہے۔ ایسی صورتحال میں تمام سیاسی پارٹیاں ایک عجیب سیاسی کش مکش کی شکار ہیں۔ ان نتائج کے بعد ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کانگریس بہت خراب دور سے گزر رہی ہے اور کچھ ایسا ہی حال دیگرسیای پارٹیوں کا بھی ہے۔ یہاں سابق امریکی صدر جارج بش کا 9/11 کے حملہ کے بعد دہشت گردوں کے خلاف کارروائی سے پہلے دنیا سے کہا گیا وہ جملہ یاد آ رہا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا ’یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف ہیں‘‘۔ کچھ ایسی ہی صورتحال اس وقت قومی سیاست میں ہے کہ یا تو آپ برسراقتدار بی جے پی کے ساتھ ہیں یا پھر خلاف ہیں۔ نتیجہ صاف ظاہر ہے کہ اب زیادہ تر پارٹیاں فی الحال بی جے پی کے ساتھ کھڑی رہنے میں ہی اپنی عافیت سمجھ رہی ہیں۔

سال 2015 کے اسمبلی انتخابات میں تاریخی کامیابی کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کو بزدل اور دماغی مریض کہنے والے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کے بھی اب سر بدلے ہوئے ہیں۔ وہ نہ صرف اب خود کو ایک بڑا ہندو رہنما دکھانے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ نریندر مودی کی ہر بات کا استقبال کرتے ہیں۔ کیجریوال سیاسی شطرنج کے ماہر کھلاڑی ہیں یا پھر ان کے سیاسی سفر میں حالات نے ان کا بہت ساتھ دیا جس کی وجہ سے بہت کم وقت میں انہوں نے ملک کے سیاسی منظر نامہ پر اپنی ایک جگہ بنالی۔ لیکن فی الحال جو ان کے اندر سیاسی تبدیلیاں نظر آئی ہیں اس کی وجہ یا تو مودی کا خوف ہے یا پھر ان کو احساس ہوگیا ہے کہ عوام اس وقت مودی کے خلاف سننے کے حق میں نہیں ہے۔

سال 2015 کی کامیابی کے بعد سے کیجریوال کی مقبولیت میں بہت تیزی سے کمی آئی ہے، ان کی پارٹی کا ہر انتخابات میں ووٹنگ فیصد کم ہوا ہے۔ جس پارٹی کو اسمبلی انتخابات میں 54 فیصد ووٹ ملے ہوں اور سال 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں 33 فیصد ووٹ ملے ہوں، اس پارٹی کو سال 2019 کے عام انتخابات میں صرف 18 فیصد ووٹ ملیں ہیں، جو کانگریس پارٹٰ سے بھی کم تھے،عآپ کو 7 سیٹ میں اس کے تین امیدواروں کی ضمانت ضبط ہو گئی تھی۔ خاص بات یہ ہے کہ جن تین امیدواروں کی ضمانت ضبط ہوئی اس میں نئی دہلی سیٹ کے امیدوار بھی شامل ہیں، اس حلقہ میں وزیر اعلی اروند کیجریوال کی اسمبلی سیٹ بھی آتی ہے۔ اس سیٹ پر جہاں سرکاری ملازمین ووٹر ہیں وہیں مڈل کلاس کی ایک بڑی تعداد ووٹ کر تی ہے۔ ایسے ہی عام آدمی پارٹی کی سب سے ہائی پروفائل امیدوار آتشی مرلینا جو مشرقی دہلی پارلیمانی سیٹ سے چناؤ لڑ رہی تھیں، ان کے حلقہ میں دہلی کے نائب وزیر اعلی اور حکومت کا چہرہ منیش سسودیا کی اسمبلی سیٹ آتی ہے اور اس پارلیمانی سیٹ پر آتشی تیسرے نمبر پر رہیں۔ یہ نتائج تھوڑا چونکانے والے ضرور ہیں لیکن دہلی میں چونکہ عآپ بر سر اقتدار ہے اور شیلا دکشت کے انتقال کے بعد دہلی کانگریس جن حالات سے گزر رہی ہے اس میں کیجریوال کے لئے سب کچھ ختم نہیں ہوا ہے۔

کیجریوال کے اندر یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ خالی غریبوں اور مسلمانوں کے ووٹوں سے ان کی اقتدار میں واپسی ممکن نہیں ہے۔ وہ اس بات کو بھی سمجھ رہے ہیں کہ اقتدار میں واپسی کے لئے انہیں دہلی کے مڈل کلاس ووٹروں اور نوجوانوں کا ووٹ چاہیے، کیونکہ یہ دونوں ووٹ اب ان کے پاس نہیں رہے ہیں۔ کانگریس کے سین میں نہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ بی جے پی کو ووٹ دیں گے۔ کیجریوال اس ووٹر کو واپس لانے کے لئے مودی کے خلاف نہ صرف خاموش ہیں بلکہ کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ کھڑے دکھائی دیں۔ یہ چال کیجریوال کے لئے تباہ کن بھی ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ یہ بھی بہت ممکن ہے کہ مڈل کلاس ووٹر ان کے پاس واپس نہ آئے، البتہ عآپ کا غریب اور مسلم ووٹر ان سے دور جا سکتا ہے۔

موجودہ حالات میں ملک اور دہلی کا ایک بڑا طبقہ یہ چاہ رہا ہے کہ کانگریس مضبوط ہو تاکہ ان کے مسائل کو اٹھانے والا کوئی تو ہو۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملک کا ایک بڑا طبقہ یہ مان رہا ہے کہ کانگریس ہی ایک ایسی پارٹی ہے جو حکومت سے کسی بھی معاملہ میں سمجھوتہ نہیں کرے گی، اس لئے اس کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ دہلی کانگریس کی قیادت طے ہونے کے بعد اصلی تصویر سامنے آئے گی۔ کانگریس کے کھڑے ہونے کا جتنا عوام کو انتظار ہے اس سے کہیں زیادہ خود کانگریس کے رہنماؤں اور کارکنان کو ہے کیونکہ ان کے لئے مرنے جینے کا سوال ہے۔

قوم پرستی اور مودی لہر کی وجہ سے بی جے پی میں بہت زیادہ پراعتماد ہے لیکن وہ زمینی حقیقتوں کو لے کر بھی پریشان ہے۔ وہ ملک کے بگڑتے اقتصادی حالات سے جہاں پریشان ہے وہیں ان کو اس بات کا بھی احساس ہے کہ دہلی بی جے پی کے صدر منوج تیواری دہلی میں پارٹی کو مضبوط کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے ہیں۔ یہ انتخابات لوک سبھا کی طرح مودی کے لئے نہیں ہیں۔ دوسری جانب بی جے پی کو مضبوط کانگریس کی سخت ضرورت ہے تاکہ ووٹوں کی تقسیم کا ان کو فائدہ ہو سکے۔

سال 2015 میں کیجریوال کو عوام کی جو زبردست حمایت حاصل ہوئی تھی اس میں واضح کمی نظر آرہی ہے اور اس کمی کو دور کرنے کے لئے کیجریوال کی جو مودی کے ساتھ کھڑے دکھنے کی کوشش ہے وہ پارٹی کے لئے خودکشی کرنے جیسا ثابت ہو سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں دہلی کی سیاسی شطرنج پر کون کیا بازی چلتا ہے وہ طے کرے گا کہ دہلی میں اگلے سال کس کے ہاتھ میں سیاسی باگ ڈور ہوگی۔ فی الحال کیجریوال نے مکمل یوٹرن لے لیا ہے اور وہ مودی کے خلاف نہیں بلکہ ساتھ کھڑے نظرآنا چاہتے ہیں۔