عالمی وباء پر فِرقہ پرستی حاوی... نواب علی اختر

درباری صحافت کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ حکومت کے ٹکڑوں پر زندگی گزارتا ہے، آنکھ بند کرکے حکومت کی قصیدہ خوانی اور اپنے آقا کی تعریف و توصیف اور ناکامی سے توجہ ہٹانے کے عوض اس کی منھ بھرائی کی جاتی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

نواب علی اختر

قومی راجدھانی کے حضرت نظام الدین علاقہ میں بگلہ والی مسجد واقع تبلیغی جماعت کا مرکز کئی روز سے سرخیوں میں ہے مگر اس بار یہ 'طبقہ' مسلکی اختلافات نہیں بلکہ درباری صحافت کی وجہ سے فرقہ پرستوں کے نشانے پر آیا ہے۔ کورونا وائرس کی روک تھام کے نام پر ملک بھر میں کیے گئے لاک ڈاون کے دوران بھیڑ جمع کر کے مذہبی پروگرام کیے جانے پر میڈیا کے ایک طبقے میں ہنگامہ برپا ہونے کی وجہ سے لوگ کافی حیران و پریشان ہیں حالانکہ اس کا یہ رویہ توقع کے عین مطابق ہی ہے۔ میری تحریر کا مقصد فی الحال نہ مرکز کے ذمہ داروں کا دفاع ہے اور نہ ہی ان کی گرفت و تنقید کا کوئی ارادہ ہے۔ اس کے خلاف ایف آئی آر ہوچکی ہے، گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوچکے ہیں، تفتیش کی ذمہ داری کرائم برانچ کو سونپی جا چکی ہے، مرکز اپنی صفائی میں بہت کچھ پیش کرچکا ہے جس کی منصفانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔

اس معاملے میں درباری صحافت جسے آج کل ’گودی میڈیا‘ بھی کہا جارہا ہے، کے ذریعہ حکومت اور اس کی انتظامیہ کو بے گناہی کا سرٹفکیٹ دینے اور مرکز کو ’کھلنائک‘ ثابت کرنے کی کوشش کو کسی بھی طرح صحیح نہیں کہا جاسکتا کیونکہ یہ وقت انسان اور انسانیت کو عالمی وبا سے بچانے کے لئے جاری عالمی جنگ کو کامیاب بنانے کا ہے، بیماری کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر مسلمانوں کو ’کورونا‘ کا خالق قرار دینے کے لیے اپنی توانائی کو ضائع کرنے کا نہیں۔ درباری صحافت کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ حکومت کے ٹکڑوں پر زندگی گزارتا ہے اور آنکھ بند کرکے حکومت کی قصیدہ خوانی اور اپنے آقا کی تعریف و توصیف اور اس کی ناکامی سے توجہ ہٹانے کے لئے پوری طرح منہ بھرائی کی جاتی ہے۔

’گودی میڈیا‘ تبلیغی جماعت کو ایسے پیش کر رہا ہے گویا مرکز کل مسلمانوں کا نمائندہ ہو اوراسے صوفی ازم سے جوڑ کر درگاہ نظام الدین کو بھی اس میں شامل کردیا۔ درباری صحافت کے ذریعہ مرکز کی دشمنی میں درگاہ حضرت نظام الدین کو بھی تنقید کی زد میں لانے کی کوشش کی گئی۔ اس واقعہ کو ایسے پیش کیا گیا گویا درگاہ تبلیغی جماعت کا مرکز ہو، جب کہ اسی علاقے میں ہندی کے خالق امیر خسرو، عبد الرحیم خانقاناں، معروف شاعر مرزا غالب کے بھی مزارات ہیں جنہوں نے صوفی ازم کے ذریعہ اتحاد اور فرقہ وارانہ یکجہتی کو فروغ دینے کے لئے اسلام اور ہندوستان کے درمیان کا راستہ اپنایا اور لوگوں کو جوڑنے کا کام کیا لیکن درباری صحافت نے وہی دیکھنا پسند کیا جو اسے دکھایا گیا۔ ایک فقہ کے پیروکاروں کی مبینہ غلطی کے لیے پوری مسلم قوم کو بدنام کرنے کی روش اختیار کی جو بڑی جہالت کہی جاۓ گی۔ اس طرح مرکز اور درباری صحافت نے صوفی ازم کی روایت کو پامال کیا ہے۔

آج جو میڈیا ’کورونا‘ کے لیے مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرانے کے پروپیگنڈے میں لگا ہے وہی چند روز پہلے تک ’جنتا کرفیو‘ کے دوران 5 بجے شام اس کی خلاف ورزی کی جم کرستائش کی، لیکن لاک ڈاون کے بعد جب عوام بغاوت کر کے نکل کھڑے ہوئے تو وہ اس طرف سے توجہ ہٹانے لگا۔ اس مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ان لوگوں کو ایک عدد سلگتے ہوئے مسئلہ کی تلاش تھی جو تبلیغی جماعت کے نام سے ہاتھ آگیا اور پھر کیا تھا ’اندھے کے ہاتھ بٹیر لگ گئی‘ کی مانند تنگ نظر میڈیا نے اپنے آقاؤں کی کھال بچانے کے لیے جماعت کو ’مرکز‘ بنا دیا اور نام نہاد ’راشٹر بھگتوں‘ کی واہ واہی لوٹنے کے لئے پوری مسلم قوم کے خلاف جنگی پیمانے پرمہم چلا دی گئی۔

’وشنو دیوی‘ کے مندرمیں سینکڑوں لوگوں کے پھنسے رہنے پر ماتم کرنے والے ’راشٹر بھگتوں‘ کو مرکز میں ’کورونا جہاد‘ کے لیے چھپے ہوئے دہشت گرد نظر آنے لگے۔ یہ درباری صحافت کی ضرورت اور تقاضائے فطرت ہے۔ یہ کرشمہ سازی اس کی آنکھوں پر چڑھی فرقہ پرستی کی عینک اور دل میں بسی دولت کی محبت کی ہے۔ یہ عینک مجبوری میں نہیں بلکہ بصد شوق چڑھائی گئی ہے۔

تبلیغی جماعت کے مرکزمیں جس وقت اجلاس ہورہا تھا، انہیں دنوں میں ہندومہا سبھا دہلی میں اپنے مرکز میں گائے کا پیشاب پی کر کورونا بھگانے کے لیے ’گو موتر پارٹی‘ کی تھی جس میں تقریباً 200 راشٹر بھگت شامل ہوئے تھے، مگر گودی میڈیا کو وہ نظر نہیں آیا- کورونا کا مرض دہلی تک ہی محدود نہیں ہے۔ مدھیہ پردیش میں کورونا سے مقابلہ کرنے کے لیے جب بی جے پی کو ریاستی حکومت کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے تھا تب اس نے اقتدار چھین کر کانگریس کی حکومت گرا دی۔ لاک ڈاؤن کے دوران 24 مارچ کو بھوپال میں بڑی دھوم دھام کے ساتھ شیوراج سنگھ چوہان کی حلف برداری ہوئی جس کے بعد شیو را ج نے اپنے بھگتوں سے مصافحہ اور معانقہ کرنے کے بعد کہا جائیے اپنا کام کیجئے، دہلی والوں کو کورونا سے بہت ڈر لگتا ہے۔

سیاسی دنیا سے نکل کر مذہبی اجتماعات پر نظر ڈالیں تو 25 مارچ کو رام للا کی مورتی نئے’مندر‘ میں منتقل کرنے کے لیے یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ ایودھیا پہنچ گئے اور وہاں بھی سماجی فاصلوں کی دھجیاں اڑائی گئیں لیکن گودی میڈیا نے اس سے چشم پوشی کی۔ ایسے بے شمار معاملات ہیں جو حکومت اور اس کے ٹکڑوں پر پلنے والوں کے طریقہ کار پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ چند روز قبل سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت نے جو اعترافِ حقیقت کیا ہے وہ ’تبلیغی جماعت کے کرونا‘ سے زیادہ بھیانک اور ممکنہ نتائج کے اعتبار سے زیادہ خطرناک ہے۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت میں کہا کہ جو مزدور اپنے کام کی جگہ چھوڑ کر گھروں کو واپس جارہے ہیں، اندیشہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر 10 میں سے تین لوگ کورونا کا وائرس لئے پھر رہے ہوں گے۔

حکومت کے ہی مطابق اس وقت ملک بھر میں کام کاج کے لئے 4 کروڑ 12 لاکھ لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہیں جو اب افراتفری میں گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس وقت ملک بھر کی سڑکوں پر ایک کروڑ 23 لاکھ 60 ہزار افراد کرونا کا خطرہ لئے پھر رہے ہیں۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ حکومت 22 لاکھ 80 ہزار مزدوروں کو رہائش اور کھانا فراہم کرا رہی ہے یعنی حکومت 6 لاکھ 62 ہزار 400 ممکنہ ’کرونا متاثرین‘ کی ’مہمان نوازی‘ کر رہی ہے۔ آخر کیا یہ بھی ووٹ بینک کی سیاست ہے؟ اگر ایسا ہے تو ان سیاسی قائدین کے لیے انتہائی شرم کی بات ہوگی کہ عوام جن لوگوں کو ان کے دکھ درد دور کرنے کے لیے منتخب کرتے ہیں وہی لوگ ان کی بے بسی کا مذاق اڑائیں۔

اب سوال یہ ہے کہ حکومت اتنی بڑی تعداد میں مزدوروں کی ’مہمان نوازی‘ کیوں کر رہی ہے؟ اس کا جواب یہی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے وزیر اعظم کی بھیانک غلطی سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسا کر رہی ہے۔ وزیراعظم کی اس بھیانک غلطی کی بالواسطہ تصدیق سپریم کورٹ نے بھی کردی ہے۔ عدالت نے دوران سماعت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کورونا سے زیادہ تو افراتفری اور گھبراہٹ سے ہی لوگ مرجائیں گے۔ اپنی ابتدائی سطور میں میں نے پہلے ہی واضح کردیا ہے کہ میری تحریر کا مقصد حکومت اور نام نہاد راشٹر بھگتوں کو آئینہ دکھانا ہے جو بیماری کو بھی ’ہندو۔ مسلمان‘ کا نام دے کر فرقہ پرستوں کو اقلیتوں کے خلاف بھڑکانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔

Published: 5 Apr 2020, 7:11 PM
next