راجیہ سبھا میں سبقت سے متعلق بی جے پی کا دعویٰ کھوکھلا، اکثریت سے بہت دور

بی جے پی سوچتی ہے کہ راجیہ سبھا میں اکثریت نہ ہونے کے باوجود کئی اہم بل کو پاس کرانے میں بی جے ڈی، وائی ایس آر اور ٹی آر ایس کا ساتھ مل سکتا ہے۔ لیکن ان پارٹیوں کو بی جے پی پر مکمل اعتماد نہیں۔

مودی اور امت شاہ
مودی اور امت شاہ

قومی آوازبیورو

پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں برسراقتدار این ڈی اے کی اکثریت سے متعلق پھیلائی جا رہی خبروں کا کوئی بنیاد نہیں ہے۔ راجیہ سبھا کی 6 سیٹوں کے لیے ہوئے ضمنی انتخابات میں 4 سیٹیں این ڈی اے کو ملنے کے بعد میڈیا میں اس طرح کی خبریں اڑائی گئیں کہ اب ایوان بالا میں برسراقتدار طبقہ اکثریت سے کچھ ہی اِنچ دور ہے۔ میڈیا کے ذریعہ ایسا احساس کرایا گیا کہ وہ سبھی بل جن کے کچھ متنازعہ نکات سے اپوزیشن متفق نہیں ہے، انھیں اب کچھ ہی دنوں میں این ڈی اے کے اکثریت میں آنے کے بعد پاس کروا دیا جائے گا۔

مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان (ایل جے پی) اور اشونی ویشنو (بی جے پی) کے بالترتیب بہار اور اڈیشہ سے بلامقابلہ منتخب ہو کر آنے کے بعد پیر کے روز راجیہ سبھا میں انھوں نے حلف لیا۔ ان دونوں کو ملا کر ایوان میں بی جے پی کے اراکین کی تعداد 76 اور این ڈی اے کی کل تعداد 112 ہو گئی۔ بی جے پی کی اس سے قبل 111 سیٹیں تھیں جو ویشنو کے بی جے پی کے کوٹہ سے جیتنے کے بعد بڑھ گئی۔ یہ سیٹ بھی بی جے ڈی صدر اور وزیر اعلیٰ نوین پٹنایک سے پی ایم مودی کی ذاتی گزارش کے بعد بی جے پی کو حاصل ہوا ہے۔

غور کرنے والی بات یہ ہے کہ پاسوان بہار کی جس سیٹ سے ضمنی انتخاب میں جیتے ہیں، وہ پہلے سے ہی بی جے پی کے پاس تھی۔ مرکزی وزیر روی شنکر پرساد کے لوک سبھا کے لیے منتخب ہونے کے بعد یہ سیٹ خالی ہوئی تھی۔ دوسری جانب گجرات میں جو دو راجیہ سبھا سیٹیں بی جے پی کے حصے میں گئی ہیں، وہ دونوں سیٹیں بھی بی جے پی کے پاس پہلے سے تھیں۔ امت شاہ اور اسمرتی ایرانی کے لوک سبھا کے لیے منتخب ہونے کے بعد انھوں نے اپنی سیٹیں خالی کی تھیں۔ اس ضمنی انتخاب میں اڈیشہ کی باقی دو سیٹیں بی جے ڈی کے حصے میں گئیں۔

آئندہ 18 جولائی کو تمل ناڈو کی جو چھ سیٹیں خالی ہو رہی ہیں، ان میں سے ایک بھی سیٹ بی جے پی کو نصیب نہیں ہونے والی ہیں۔ ریاست میں برسراقتدار اے آئی ڈی ایم کے کو پہلے کی طرح 4 سیٹوں کی جگہ 3 پر ہی صبر کرنا ہوگا۔ ایسی صورت میں وہاں این ڈی اے کے پاس کچھ بھی حاصل کرنے کے لیے نہیں ہے۔

حالانکہ مودی حکومت کے پارلیمانی منیجروں کو یہ امید بندھی ہے کہ راجیہ سبھا میں پوری اکثریت نہیں ہونے کے سبب اسے بی جے ڈی، وائی ایس آر کانگریس اور ٹی آر ایس اراکین پارلیمنٹ کی بیساکھی کا سہارا مل سکتا ہے۔ لیکن ان پارٹیوں کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اپنی ریاستوں کے اندرونی فارمولے کے لحاظ سے وہ بی جے پی کے ہر بل پر آنکھ بند کر کے اپنی حمایت نہیں دیں گے۔

Published: 2 Jul 2019, 9:10 AM