شہریت ترمیم قانون: مسلمان خوف زدہ نہیں، ناراض ہیں... اعظم شہاب

اس دیش کا مسلمان کیب سے خوف زدہ نہیں بلکہ کھلے عام جمہوریت کو یرغمال بنانے اور ملک کے آئین کی دھجیاں اڑانے سے ناراض ہے اور صرف مسلمان ہی نہیں ملک کا ہر ہوش مند شخص ناراض ہے سوائے اندھ بھکتوں کے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اعظم شہاب

معلوم نہیں کس عقلمند نے امت شاہ کے کان میں یہ پھونک ماردی کہ کیب یعنی کہ شہریت ترمیم بل سے مسلمان خوف زدہ ہیں اور انہیں مسلمانوں کا یہ ڈر دور کرنا چاہیے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مہاشے اور ان کے حواری اٹھتے بیٹھتے یہی رٹ لگارہے ہیں کہ اس بل سے مسلمانوں کا کوئی لینا دینا نہیں ہے اور مسلمانوں کو اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جبکہ سچائی یہ ہے کہ اس بل سے ہی کیا، خود امت شاہ سے بھی کوئی مسلمان خوف زدہ نہیں ہے۔ اور صرف مسلمان ہی کیا، ملک کا کوئی بھی شہری خوف زدہ نہیں ہے۔ ہاں ناراض ضرور ہے، اوریہ ناراضگی بھی اس لئے نہیں ہے کہ مسلمانوں کو شہریت ترمیم قانون میں شامل نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس لئے ہے کہ اس قانون کے ذریعے ملک کے آئین کی علی الاعلان دھجیاں اڑاکر اس کے تنظیمی ڈھانچے کو انگریزوں کے مخبروں کے نظریے کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی گئی ہے، جو بدقسمتی سے آج ملک کا سب سے بڑا دیش بھکت ٹولہ بنا ہوا ہے۔

یہاں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اسی دیش بھکت ٹولے کو ملک کے عوام نے اکثریت کا مینڈیٹ دیا ہے، اس لحاظ سے ملک کا اکثریتی طبقہ بھی اسی ٹولے کا حامی ہے؟ تو یہ کہنے والوں کی خدمت میں دست بستہ عرض ہے کہ ووٹنگ میں کسی پارٹی کو اکثریت حاصل ہوجانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ووٹ دینے والا اس کے نظریات کو اختیار کرلیا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو اس ملک کی تاریخ میں آنجہانی اندراگاندھی بھی پائی جاتی ہیں جنہیں پردھان سیوک سے زیادہ اکثریت حاصل رہی ہے۔ لیکن جب عوام نے تبدیلی لانی چاہی تو ایک عدد ممبرپارلیمنٹ کے حامل چندرشیکھر تک وزیراعظم بن گئے۔ اس لئے پردھان سیوک کو حاصل اکثریت ان کے نظریات کے مقبول عام ہونے کی دلیل ہرگز نہیں ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ لوگ باگ اس اکثریت کو محترمہ ای وی ایم کی محبت نوازی قرار دیتے ہیں، جس کے خلاف ملک کی سب سے بڑی عدالت تک کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا ہے۔

بلندی سبھی کے حصے میں آتی ہے اور بلندی کے بعد زوال بھی مقدر ہوتا ہے۔ لیکن اس بلندی کے دوران اپنی عقل کو ٹھکانے رکھنا اور غرور واہنکار کا شکار نہ ہونا سب کے بس کی بات بھی نہیں ہوتی۔ بدقسمتی سے اسی کے شکار ہمارے مرکز کے دونوں’مہاپورش‘ بھی ہوگئے ہیں کہ انہیں خود کے علاوہ کچھ نظر ہی نہیں آرہا ہے۔ شہریت ترمیم قانون اسی اہنکاروغرور کا نتیجہ ہے کہ ملک کا آئین کچھ بھی کہے، دنیا ہماری حرکت پر کتنی بھی تھوکے، ملک تباہی کے کتنے ہی عمیق گہرائی میں جائے، یہ ٹولہ اپنی اکثریت کے زعم میں اپنے ان نظریات کو لاگو کرکے ہی رہے گا۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ جب پانی اترے گا تو انہیں اپنابھی ٹھکانہ معلوم نہیں رہے گا۔ کیب کی مخالفت میں آج پورا شمالی ہندوستان جل رہا ہے۔ آسام، میگھالیہ، بنگال، تری پورہ، اروناچل پردیش ، میزورم، کیرالا جیسی ریاستوں کے عوام آج سڑکوں پر ہیں۔ آسام میں حالات قابو سے باہر ہیں، انٹرنیٹ کی خدمات معطل کردی گئی ہیں، اور ہمارے پردھان سیوک جی لوگوں سے ٹوئٹر کے ذریعے امن وامان برقرار رکھنے کی اپیل کررہے ہیں۔ ان لوگوں کے کانوں میں مسلمانوں کے ڈر کا پھونک مارنے والے انہیں اتنی بات نہیں سمجھا سکے کہ جب ان ریاستوں میں انٹرنیٹ کی خدمات معطل ہیں تو ان کا ٹوئٹ دیکھے گا کون؟

بتایا یہ جارہا ہے کہ کیب کا مسلمانوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھلا کیوں لینا دینا نہیں ہے؟ کیا مسلمان اس ملک کے شہری نہیں ہیں؟ جب دیگر ملکوں کے لوگوں کو ہندوستان کی شہریت دی جائے گی تو کیا اس سے مسلمانوں کے حق پر کوئی اثر نہیں پڑے گا؟ جب محض مذہب کی علیحدگی کی بنیاد پر مسلمانوں کو شہریت دینے سے ملک پر اضافی بوجھ پڑسکتا ہے تو پھر بھلا دیگر پانچ یا چھ مذاہب کے ماننے والوں کو شہریت دینا اضافی بوجھ نہیں ہوگا اوراس اضافی بوجھ سے کیا مسلمان متاثر نہیں ہوں گے؟ یہ عجیب منطق ہے کہ مسلمانوں کا اس بل سے کوئی تعلق نہیں۔ ان رنگا سیاروں کو جو اس بل کی حمایت میں اپنی پارٹی کے موقف کو ہی برحق تصور کر رہے ہیں، کیا اس سے ملک کا وہ آئینی ڈھانچہ نہیں تباہ ہو رہا ہے جس کے تحت مذہب کو شہریت کی بنیاد سے خارج کردیا گیا ہے؟ سچائی یہ ہے کہ ملک کا مسلمان شہریت ترمیم بل سے بالکل بھی خوف زدہ نہیں ہے۔ وہ ناراض ہے اور یہ اس کی یہ ناراضگی ملک کے آئین کی تباہی کے سبب ہے۔ وہ غصہ ہے اور اس کا یہ غصہ ملک کے سیکولرازم کی تباہ ہوتی حیثیت سے ہے۔ اور صرف مسلمان ہی کیا، ملک کا ہر سنجیدہ شخص ناراض اور غصے میں ہے، جس کا ثبوت آسام سے بنگال تک، دہلی سے پنجاب تک، کیرالا سے مہاراشٹر تک، میگھالیہ سے اروناچل پردیش تک میں نظر آرہا ہے۔

آخر میں شاہ صاحب کا ایک جھوٹ ملاحظہ فرماتے چلیں، جس کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کو کیب سے علیحدہ رکھا گیا ہے۔ اس جھوٹ کو ہمانشو پانڈے جی نے اجاگر کیا ہے جسے ہیمنت مالویہ جی نے اپنے فیس بک وال پر پیش کیا ہے۔ اس کے مطابق امت شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 1947 میں 23 فیصدی ہندو تھے جو 2011 میں کم ہو کرمحض 3.7فیصد رہ گئے۔ جب کہ سچائی یہ ہے کہ 1947میں کوئی مردم شماری نہیں ہوئی تھی۔ پاکستان میں پہلی مردم شماری 1951میں ہوئی جس میں متحدہ پاکستان میں ہندووں کی آبادی 14.20فیصد تھی۔ اس میں مغربی پاکستان میں 3.44، جبکہ مشرقی پاکستان یعنی کہ بنگلہ دیش میں 23.20 فیصد ہندو تھے۔ اس کے بعد 1961 کی مردم شماری میں پاکستان میں ہندووں کی آبادی کم ہوکر2.80 پر آگئی، لیکن 1971 کی مردم شماری میں یہ دوبارہ بڑھی اور اس وقت 3.25 فیصد ہوگئی اور دس سال بعد یعنی کہ 1981 میں یہ 3.33 فیصد تھی۔ اس کے بعد پندرہ سالوں تک پاکستان میں مردم شماری نہیں ہوسکی اور 1998 میں ہوئی مردم شماری میں ہندووں کی آبادی 3.77 تھی۔ جبکہ 2011 میں پاکستان میں کوئی مردم شماری نہیں ہوئی ہے جس کا حوالہ امت شاہ دیتے ہیں۔ البتہ پاکستان میں آخری مردم شماری 2017 میں ہوئی ہے جس کے اعداد وشمار ابھی تک منظرعام پر نہیں آسکے ہیں۔ پاکستان میں ہندووں اور بھارت میں مسلمانوں کی آبادی کے تناسب سے اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں ہندووں کی اوسط آبادی کی شرح بھارت کے مسلمانوں کی شرح سے کافی تیز ہے۔

اس کے باوجود پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش میں ہندووں پر ہونے والے مظالم کا رونا رو کر ہندوستان کے آئین سے کھلواڑ کرنا کہیں نہ کہیں یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ مرکز کی بی جے پی حکومت ملک کے سیکولر ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کر رہی ہے۔ بی جے پی کی اس حرکت سے مسلمانوں کے علاوہ ملک کے ان درجنوں مذاہب کے ماننے والوں، الگ الگ زبانوں کے بولنے والوں اور الگ الگ کلچرکے حاملین کی علیحدہ شناخت بری طرح متاثر ہو رہی ہے جو یقینی طور پر ملک میں ایک زبردست انارکی کا سبب بنے گی۔ تو جناب امت شاہ جی سن رہے ہیں نا؟ اس دیش کا مسلمان کیب سے خوف زدہ نہیں بلکہ کھلے عام جمہوریت کو یرغمال بنانے اور ملک کے آئین کی دھجیاں اڑانے سے ناراض ہے اور صرف مسلمان ہی نہیں ملک کا ہر ہوش مند شخص ناراض ہے سوائے اندھ بھکتوں کے۔

next