’شہریت ترمیمی قانون‘ ہندو راشٹر کی بنیاد کا پہلا پتھر... م۔ افضل

امت شاہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ شہریت ترمیمی قانون شہریت دینے کا قانون ہے، شہریت لینے کا نہیں، لیکن کیا یہ بات درست ہے؟ نہیں، بلکہ اس طرح کے بیانات صرف اور صرف لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے دیئے جا رہے ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

م. افضل

شہریت ترمیمی قانون کی منظوری کے بعد اس کے پیچھے چھپے ہوئے خفیہ ایجنڈے کی قلعی اب کھل چکی ہے جو دراصل آرایس ایس کا بنیادی ایجنڈا ہے یعنی ہندستان کو ہندو راشٹر بنانا، چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ قانون ہندوراشٹر کی بنیاد کا پہلا پتھر ہے، اس کے لئے آئین میں دراندازی کرکے ترمیم کی گئی، دوسرے فیصلوں کی طرح اس خطرناک فیصلے کو لے کر بھی ملک کے عوام اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، کہا جارہا ہے کہ اس کے ذریعہ پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش کی مظلوم مذہبی اقلیتوں کو شہریت دی جائے گی، امت شاہ بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ شہریت دینے کا قانون ہے، شہریت لینے کا نہیں، لیکن کیا یہ بات درست ہے؟ نہیں بلکہ اس طرح کے بیانات صرف اور صرف لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے دیئے جا رہے ہیں۔

حال ہی میں مرکزی وزیر نتن گڈگری کا ایک بیان آیا ہے جس میں انہوں نے بڑی معصومیت سے کہا ہے کہ ہندووں کے لئے کوئی اور ملک نہیں ہے اس لئے یہ قانون لایا گیا ہے سوال یہ ہے کہ پھر یہ تخصیص کیوںکہ پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش کے ہندوؤں کو ہی شہریت دی جائے گی؟ ہندو تو دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی ہیں اور عرب اور خلیجی ممالک میں تو ان کی بڑی تعداد موجود ہے کل کو اگر انہیں وہاں بھی ستایا گیا تو وہ بیچارے کہاں جائیں گے؟ جواب بہت آسان ہے دوسرے ممالک میں آباد ہندوؤں یا مسلمانوں کو چھوڑکر دوسری مذہبی اقلیتوں کو شہریت دینے سے وہ سیاسی مقاصد ہرگز حاصل نہیں ہوسکتے جو ان ممالک کے ستائے ہوئے مظلوم لوگوں کو دینے سے حاصل ہوسکتے ہیں اب گڈگری کے بیان پر ذرا سنجیدگی سے غورکریں، پھرساری بات سمجھ میں آجائے گی، ایک جمہوری ملک کی جگہ وہ ہندوستان کو ہندوؤں کا ملک سمجھتے ہیں اور اسی لئے انہوں نے کہا ہے کہ ہندوؤں کے لئے ہندوستان کے علاوہ کوئی دوسرا ملک نہیں ہے، ترمیم کے ذریعہ آئین کی دفعہ 14 اور21 کو بے اثر کر دیا گیا ہے جن میں واضح طور پر ہدایت کی گئی ہے کہ ملک کے کسی شہری کے ساتھ رنگ ونسل ذات پات اور مذہب کے نام پر کوئی امتیاز نہیں ہوگا سب کے ساتھ یکساں سلوک ہوگا اور سب کو یکساں مواقع حاصل ہوں گے، یہ چالاکی بھی کی گئی ہے کہ ترمیم کے ساتھ لفظ اقلیت کا استعمال کیا گیا ہے اور ہندووں کے ساتھ سکھوں، عیسائیوں اور بودھوں کو بھی شہریت دینے کی بات جوڑ دی گئی ہے۔

خوش آئند بات یہ ہوئی ہے کہ اس قانون کے نفاذ کی صورت میں پیدا ہونے والے خطرہ کو ملک کی نوجوان نسل اور خاص طور پر طلباء نے محسوس کرلیا ہے اور اب وہ اس کے خلاف سڑکوں پر ہیں، پچھلے ایک ہفتہ سے اس سیاہ قانون کے خلاف ملک بھر میں احتجاج ہو رہا ہے اور اب اس احتجاج میں زیادہ شدت آگئی ہے اس سے مودی سرکار تقریباً بوکھلا سی گئی ہے جامعہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء کے ساتھ پولس کی وحشیانہ کارروائی نے پورے ملک کے طلباء میں اشتعال بھر دیا ہے، اہم بات یہ ہے کہ آسام اور شمال مشرقی ریاستوں میں بھی اس قانون کو لے کر مسلسل احتجاج ہو رہا ہے، پورے ملک میں ایمرجنسی سے بدتر حالات ہیں، سرکار اس بڑی تحریک کو طاقت کے زور سے کچلنے کی کوشش کر رہی ہے، جن ریاستوں میں بی جے پی کی سرکاریں ہیں وہاں پولس اپنی درندگی اور بربریت کے سارے ریکارڈ توڑ رہی ہے اب تک ایک درجن سے زائد لوگ تشدد اور پولس کارروائی کا نشانہ بن کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں سرکار اس کا الزام اپوزیشن پر عائد کر رہی ہے اس کا کہنا ہے کہ کانگریس اور دوسری پارٹیاں لوگوں کو احتجاج کے لئے اکسا رہی ہیں، جبکہ سچائی یہ ہے کہ یہ تحریک ازخود پیدا ہوئی ہے اس کی نہ تو کوئی قیادت کر رہا ہے اور نہ ہی اس کے پیچھے کسی سیاسی پارٹی کا ہاتھ ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ پرامن مظاہرین کو پہلے طاقت کا استعمال کرکے پولس اکساتی ہے پھر انہیں اپنے جبر استبداد کا نشانہ بناتی ہے، لیکن اس سب کے باوجود تحریک کا دائرہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔

عالمی میڈیا میں ان مظاہروں کے حوالہ سے جو کچھ آرہا ہے اس سے عدم تشدد کے علمبردار ہندستان کا عکس بری طرح مجروح ہو رہا ہے لیکن اقتدار پر قابض لوگوں کو اس سے کیا، انہیں تو وہی کرنا ہے جس کے لئے وہ اقتدارمیں آئے ہیں، کیب تو پہلا مرحلہ ہے، دوسرامرحلہ این آرسی ہے، جب اسے پورے ملک میں لاگو کیا جائے گا اس وقت شہریت ترمیمی قانون کے مضمرات اپنی خطرناک شکل میں ہمارے سامنے ہوں گے تب یہ قانون ان لوگوں بالخصوص مسلمانوں کے لئے انتہائی تباہ کن ثابت ہوگا جو کسی وجہ سے اپنی شہریت ثابت نہیں کرسکیں گے، آسام میں اس کا تجربہ ایک انسانی بحران کی شکل میں سامنے آیا ہے جس نے ہر اس شخص کو بہت اندر سے جھنجھوڑ دیا ہے جس کے پاس ایک درمند دل ہے ان میں مرنال تعلق دار بھی شامل ہیں، پیشہ سے صحافی مرنال کوئی عام شخص نہیں ہیں بلکہ یہ وہ ہیں جنہوں نے آسام میں سب سے پہلے غیرملکی دراندازوں کے خلاف مہم شروع کی اور نہ صرف شروع کی بلکہ اس مہم میں انہوں نے اپنی پوری زندگی صرف کردی مگر اب وہ پچھتا رہے ہیں۔ ’’پوسٹ کالونیل آسام‘‘ کے نام سے ان کی ایک کتاب آچکی ہے جس کا اجرا سابق چیف جسٹس رنجن گگوئی نے کیا تھا اور اب ان کی دوسری کتاب ’’این آرسی کا کھیل‘‘ بہت جلد منظرعام پر آنے والی ہے حال ہی میں انہوں نے دستک نامی ایک ویب پورٹل کو انٹرویو دیا ہے جو نہ صرف چونکا دینے والا ہے بلکہ ان لوگوں کے لئے چشم کشا بھی ہے جو شہریت ترمیمی قانون اور این آرسی کی اندھی حمایت پر اتارو ہیں۔

اپنے اس تفصیلی انٹرویو میں مرنال تعلقدار کہتے ہیں کہ میری اور میرے جیسے ہزاروں لوگوں کی جوانی آسام سے غیر ملکیوں کو نکال باہر کرنے کی تحریک کے نظر ہوگئی، ہم میں جوش تھا مگر ہوش نہیں تھا، وہ کہتے ہیں کہ 1979 میں پہلی بار یہ تحریک شروع ہوئی اور اس میں طلباء بھی شامل ہوگئے، اس تحریک کے نتیجہ میں ہی 1985 میں آسام گن پریشد کی سرکار بنی جو درحقیقت ان طلباء کی سرکار تھی جو اس تحریک میں شامل تھے، پانچ سال گز رگئے ہمیں پتہ ہی نہیں چلا اگلا الیکشن آسام گن پریشد ہارگئی مگر پانچ سال بعد اسی ایشوکو بنیاد بنا کر وہ دوبارہ اقتدارمیں آگئی، مرنال آگے کہتے ہیں کہ اب تک ہماری سمجھ میں یہ نہیں آسکا تھا کہ بنگلہ دیشیوں کی شناخت کے لئے کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے لوگ ہم سے اور ہم اپنے آپ سے مایوس تھے بعد میں داخلہ سکریٹری رہ چکے گوپال کرشن پلائی نے مشورہ دیا کہ آپ سب کی شہریت چیک کروائیں اپنی بھی اور دوسروں کی بھی اس کے بعد جو رہ جائیں وہی درانداز ہیں، مرنال کہتے ہیں کہ چور کی تلاش میں کلاس روم میں سب کی تلاشی لینے کا یہ آئیڈیا ہمیں پسند آیا لیکن تب یہ نہیں معلوم تھا کہ سوا تین کروڑ لوگ جب کاغذات کے لئے ادھر سے ادھر پریشان ہو کر بھاگیں گے تب کیا ہوگا؟ انہوں نے آگے بتایا کہ اس میں آسام کے ہی پردیپ بھوئیاں کا اہم رول تھا انہوں نے ہی اپنے خرچ سے سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن داخل کی تھی جس پر عدالت نے این آرسی تیار کرنے کے احکامات صادر کیے تھے۔

این آرسی کی سفاکی کا حال بیان کرتے ہوئے مرنال کہتے ہیں کہ جب این آرسی کا عمل شروع ہوا تو ہمارے گھر کے لوگوں کے ہی نام غلط ہوگئے ذرا سوچیے جو لوگ دراندازوں کو نکال باہر کرنے کی مہم چلا رہے تھے ان کے گھر والوں کے ہی نام این آرسی کی فہرست میں نہیں آئے، وہ مزید بتاتے ہیں کہ 42 ؍ہزار ملازمین چار برس تک لوگوں کے کاغذات جمع کرکے ان کی تصدیق کرتے رہے پورا آسام پاگل ہوگیا تھا ایک ایک کاغذ کی تصدیق کے لئے دوسری ریاستوں تک لوگوں کو دوڑ لگانی پڑی تھی، سیکڑوں نے گھبرا کر خودکشی کرلی اور کتنے ہی لوگ لائنوں میں لگ کر مرگئے اوراب جو یہ 19لاکھ کے قریب لوگ فہرست سے باہر ہیں اگر یہ مان لیں کہ آخرمیں پانچ یا تین لاکھ کے قریب ان کی تعداد بچ سکتی ہے تو سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ہم ان کا کیا کریں گے؟ مرنال مایوس کن لہجہ میں کہتے ہیں کہ ہم نے یہ سب پہلے نہیں سوچا تھا ہمیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ یہ مسئلہ اس حد تک انسانی جذبہ سے جڑا ہوا ہے، ہمیں لگتا ہے کہ ہم اتنے لوگوں کو نہ تو بنگلہ دیش بھیج سکیں گے اور نہ ہی جیلوں میں رکھ سکیں گے اور نہ ہی اتنے لوگوں کو برہم پتر ندی میں پھینک سکتے ہیں۔

بات یہیں تک محدود نہیں ہے آسام این آرسی کو مودی سرکار مسترد کرچکی ہے، امت شاہ اعلان کرچکے ہیں کہ جب ملک بھر میں این آرسی لاگو ہوگی تو آسام میں اسے دوبارہ نافذ کیا جائے گا، آسام کی کل آبادی سوا تین کروڑ کے آس پاس ہے اور یہاں این آرسی پر بارہ سو بیس کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں یعنی ہر شہری پر 399 روپے خرچ ہوئے اب اگر پورے ملک میں اسے لاگو کیا گیا تو اس کے لئے فنڈ کہاں سے آئے گا؟ پورے ملک کی آبادی 137 کروڑ تک جاپہنچی ہے اور 399 روپے فی کس کے حساب سے اگر تخمینہ لگایا جائے تو پورے ملک میں این آرسی پر 54663 کروڑ روپے خرچ ہوں گے اس رقم میں اگر 6 ہزارکروڑ مزید جوڑ دیں تو یہ خرچ منریگا اسکیم کے بجٹ کے برابر ہوجائے گا، مرنال تعلقدار نے اپنے انٹرویو میں جو کچھ کہا ہے وہ ایک ایسے شخص کی آواز ہے جس نے آسام سے غیر ملکیوں کو نکالنے کے لئے ایک طویل لڑائی لڑی ہے مگر اب ان کے پاس صرف اور صرف پچھتاوے کے آنسو ہیں لیکن یہ آنسو شاید مودی اور امت شاہ جیسے لوگوں کو نظر نہیں آسکتے کیونکہ اس کے لئے جس دردمند دل کی ضرورت ہے وہ ان کے سینوں میں نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ شہریت قانون کے خلاف عوامی تحریک کو کچلنے کے لئے ملک بھرمیں پولس کو ظلم اور بربریت کا سہارا لینے کی مکمل چھوٹ دیدی گئی ہے اور اقتدارمیں بیٹھے تمام لوگ اس طرح مطمئن ہیں کہ جیسے کچھ ہو ہی نہیں رہا ہے، دوسری طرف ہمارے وزیراعظم بڑی سادگی سے فرماتے ہیں کہ ملک کے مفاد میں اس طرح کا غصہ تو جھیلنا ہی پڑتا ہے گویا انہیں عوام کے غصہ کا احساس تو ہے مگر وہ جھکنے کے لئے تیار نہیں ہیں، مودی جی یہ غصہ نہیں ایک نئے انقلاب کی دستک ہے نوجوان نسل سڑکوں پر اترچکی ہے اس لئے نوشتہ دیوار کو پڑھنے کی کوشش کیجیے۔