راون کی آزادی: بی جے پی کی دلت ووٹ سادھنے کی کوشش

بی جے پی کو 2014 میں اقتدار تک پہنچانے میں اتر پردیش کا بڑا ہاتھ رہا۔ یہاں آر ایس ایس نے دلت ووٹوں کو بی جے پی کی طرف لانے کے لئے زمین پر بڑی محنت کی، لیکن اب وہ زمین کھسک رہی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تسلیم خان

’’رہنماؤں کو سماج میں ظلم و ستم کے شکار لوگوں کا صرف ووٹوں کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہئے بلکہ ان کے زخموں پر مرحم بھی لگانا چاہئے ۔‘‘ بھیم آرمی کی خاتون رکن ممتا نے یہ بات ایک نیوز ویب سائٹ سے بات چیت کے دوران کہی تھی۔ اس چھوٹے سے جملے نے دلت ووٹوں کے لئے سیاسی گھمسان کی اصلیت بیان کر دی تھی۔

ملک میں اس وقت چناوی ماحول ہے۔ پانچ ریاستوں (تلنگانہ کو شامل کرتے ہوئے)میں اسی سال انتخابات ہونے ہیں اور اگلے سال کی شروعات میں ہی عام انتخابات ہوں گے۔ ایسے حالات میں اتر پردیش نے بھیم آرمی کے رہنما چندرشیکھر کی رہائی کا پروانہ جاری کیا ہے۔ جس پروانے کو جاری کیا گیا ہے اس پر لکھا ہے ’’راون کی والدہ کملیش کی درخواست پر ہمدردانہ غور و خوض کے بعد راون کی قبل از وقت رہائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘‘

سوال یہ کھڑا ہوتا ہے کہ وہ کون سے حالات ہیں جن کے پیش نظر حکومت کو راون کی رہائی کا فیصلہ کرنے پر مجبور ہونا پڑا! راون کی رہائی کے لئے لگاتار آواز اٹھائی جا رہی تھی اور متعدد سیاسی جماعتیں بھی انہیں رہا کرنے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ راون کی رہائی کی عبارت گزشتہ دنوں دہلی میں ہوئی بی جے پی کی دو روزہ مجلس عاملہ کی میٹنگ کے دوران لکھی گئی تھی۔ اس میٹنگ میں امت شاہ نے پارٹی کے اعلی ذات رہنماؤں کو درکنار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایس سی-ایس ٹی ایکٹ کی ترمیم کو پارٹی کی کامیابی کے طور پر ظاہر کیا جائے۔ بی جے پی کے اجلاس کے دوران کچھ اعلیٰ ذات رہنماؤں نے ایس سی-ایس ٹی ایکٹ پر آواز اٹھانے کی کوشش کی تھی لیکن امت شاہ نے انہیں تقریباً ڈانٹ دینے والے انداز میں خاموش کرا دیا تھا۔

دراصل چندر شیکھر راون دلتوں کی ایک ایسی آواز بن کر ابھرے تھے جو استحصال کرنے والوں سے نہ صرف آنکھ میں آنکھ ڈال کر مقابلہ کرنے کو تیار تھے بلکہ سیاسی مفاد میں استعمال ہونے پر بھی احتجاج کر رہے تھے۔ بھلا ایسے رہنما کو جیل سے کیوں نکالا جا رہا ہے جو اہم طور پر اعلیٰ ذات کی سیاست کرنے والی بی جے پی کو چیلنج دینے نکل پڑا تھا؟

کچھ اعداد و شمار پر نظر ڈالتے ہیں ۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق ملک کی آبادی کا 16.63 فیصد حصہ ایس سی اور 8.6 فیصد حصہ ایس ٹی ہے۔ دونوں کو ملا دیں تو ان کا حصہ تقریباً 25 فیصد بیٹھتا ہے۔ لوک سبھا کی کل 543 میں سے تقریباً 28 فیصد یعنی 150 سے زیادہ سیٹیں ایس سی-ایس ٹی اکثریت والی مانی جاتی ہیں۔ حکومت کی سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 47 ہزار گاؤں میں دلتوں کی آبادی 50 فیصد سے زیادہ اور تقریباً 76000 گاؤں میں ان کی آبادی 40 فیصد سے زیادہ ہے۔ اسی بنیاد پر لوک سبھا کی 131 سیٹیں ان ذاتوں کے لئے مختص ہے۔ کل سیٹوں میں سے 84 ایس سی کے لئے جبکہ 47 سیٹیں ایس ٹی کے لئے مختص کی گئی ہیں۔ یہی وہ ووٹ بینک ہے جس کے سہارے رام ولاس پاسوان، رام داس اٹھاولے ، مایاوتی ، ادت راج اور جگنیش میوانی جیسے رہنما ابھرے ہیں۔

اعداد شمار سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ سب سے کمزور مانے جانے والے سیاسی طور پر کتنے مضبوط ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی طاقت کا ہمیشہ سے محض اقتدار کی سیڑھی کی طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں جب سپریم کورٹ نے ایس سی-ایس ٹی ایکٹ کو کمزور کیا تھا تو دلتوں نے زبردست احتجاج کیا اور 2 اپریل کو ’بھارت بند‘ کا اہتمام کر کے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ بند کو تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہوئی تھی۔

دلتوں کی یلغار سے مرکز کی مودی حکومت بری طرح گھبرا گئی اور آناً فاناً میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کو پلٹا اور ایس سی- ایس ٹی ایکٹ کو اس کے بنیادی روپ میں لا دیا۔ لیکن بی جے پی اور آر ایس ایس کی بے چینی ابھی کم نہیں ہوئی۔ گزشتہ دنوں لوک سبھا اور اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں منہ کی کھانے کے بعد بی جے پی نے ہر حربہ آزمانے کا فیصلہ کر لیا۔

بی ایس پی سپریمو کو دلت ووٹوں کا حقدار قرار دیا جاتا ہے اور اتر پردیش میں مسلمانوں اور یادووں کی سیاست کرنے والی سماجوادی پارٹی کے ساتھ اس کے اتحاد نے گورکھپور اور پھول پور میں اور بعد میں کیرانہ میں بی جے پی کو شکست دی۔ دلت ووٹر لمبے وقت تک کانگریس کا بھی ووٹ بینک رہا ہے اور ملک کے ہر صوبہ میں کانگریس کے علاقائی جماعت کے ساتھ اتحاد کی آہٹ نے بی جے پی کی تشویش بڑھا دی ہے۔

مجلس عاملہ کی میٹنگ میں اگر امت شاہ نے ایس سی – ایس ٹی ایکٹ کو کامیابی کے طور پر عوام کے سامنے رکھنے کی ہدایت دی تو وزیر اعظم اپوزیشن کے اتحاد کو لے کر پریشان نظر آئے ۔ میٹنگ کے دوسرے روز ان کی تقریر میں اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد کی گھبراہٹ صاف دیکھنے کو ملی۔ بی جے پی کی فکر کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ دلتوں کا ایک بڑا گروپ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ ان پر مظالم کے لیے آر ایس ایس ذمہ دار ہے۔ اسی لیے جب سپریم کورٹ نے ایس سی-ایس ٹی ایکٹ کو کمزور کیا تھا تو آر ایس ایس نے صفائی دی تھی کہ ’’راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کا عدالت کے اس فیصلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘ آر ایس ایس کا کہنا تھا کہ ’’ذات کی بنیاد پر کسی بھی تفریق یا ظلم کی آر ایس ایس ہمیشہ سے مخالفت کرتی رہی ہے۔ اس طرح کے مظالم کو روکنے کے لیے بنائے گئے قوانین پر سختی سے عمل ہونا چاہیے۔‘‘

اس کے بعد بھیم آرمی کے گڑھ مانے جانے والے مغربی اتر پردیش کے میرٹھ میں جولائی ماہ میں ہوئے آر ایس ایس کے ’راشٹرودے سمیلن‘ میں بھی آر ایس ایس نے چھوا چھوت مٹانے پر زور دیتے ہوئے نسلی تفریق مٹانے کا عزم کیا تھا۔ اسی دوران وزیر اعظم نے بھی کہا تھا کہ ’’مرکزی حکومت امبیڈکر کے راستے پر آگے بڑھ رہی ہے۔‘‘ دراصل 2014 میں بی جے پی کو اقتدار کی کرسی تک پہنچانے میں اتر پردیش کا اہم کردار تھا جو وزیر اعظم کی اپنی شخصیت سے کہیں زیادہ دلت ووٹوں کو بی جے پی کے حق میں لانے کے لیے آر ایس ایس کی کسرت کا نتیجہ تھی۔ لیکن اب زمین کھسک رہی ہے۔ اتر پردیش اور بہار کے ضمنی انتخابات میں اپوزیشن اتحاد سے ملا زخم ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ بھیما کوریگاؤں تشدد کے نام پر سماجی کارکنان پر نکیل کسنے کی کوششیں ناکام ہونے سے بی جے پی کی بدنامی ہو چکی ہے اور دلتوں پر مظالم کا ایشو پھر سے زندہ ہو گیا ہے۔ ایسے میں چندر شیکھر راون کی آزادی کا پروانہ جاری کر بی جے پی اپنے لیے ہمدردی حاصل کرنا چاہتی ہے۔