مہاراشٹر کی نئی سرکار کو درپیش مختلف چیلنج... اعظم شہاب

مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے ساورکر کے حوالے سے یہ کہہ دیا کہ گئوکشی کے معاملے میں بی جے پی ان کی اتباع نہیں کرتی وہ مہاراشٹر میں پابندی لگاتی ہے لیکن کرناٹک میں چھوٹ دے دیتی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اعظم شہاب

مہاراشٹر کے اندر فی الحال ایک نہایت ہی دلچسپ سیاسی تجربہ ہو رہا ہے جس میں کانگریس اور این سی پی نے ہندوتوا وادی شیوسینا کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی بار بار اس کو ہندوتوا کی یار دلا کر گھیرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن وزیراعلیٰ ٹھاکرے جم کر اس کا منہ توڑ جواب دے رہے ہیں۔ سی اے اے کے تعلق سے پہلے تو انہوں نے مسلم وفد کو یقین دلایا کہ یہ معاملہ جب تک عدالت میں زیر غور ہے کوئی اقدام نہیں کیا جائے۔ اس کے بعد انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک مرکزی حکومت ہمارے سوالات کا اطمینان بخش جواب نہیں دیتی تب تک یہ نافذ نہیں ہوگا۔ انہوں نے جامعہ کے پولس ایکشن کو جلیانوالہ باغ سے مشابہ قرار دے کر اس سے ہمدردی جتائی اور بی جے پی پر نشانہ سادھا۔ ساورکر کے حوالے سے یہ کہہ دیا کہ گئوکشی کے معاملے میں بی جے پی ان کی اتباع نہیں کرتی وہ مہاراشٹر میں پابندی لگاتی ہے لیکن کرناٹک میں چھوٹ دے دیتی ہے۔ اس منافقت کو واضح کرنے کے بعد یہاں تک کہہ دیا کہ مذہب کو سیاست میں داخل کرنا ہماری غلطی تھی اور مہاراشٹر میں غیر ملکیوں کے لیے کوئی عقوبت خانہ تعمیر نہیں ہوگا۔

ان جذباتی مسائل کے علاوہ شیوسینا کے سامنے فی الحال دو اہم چیلنجس ہیں۔ اول تو عوام کی توقعات پر پورا اترنا اور دوسرے اپنے ہندوتوا وادی رائے دہندگان کو بی جے پی کے نرغے میں جانے سے بچانا۔ اس میں شک نہیں کہ یہ تین جماعتوں کی سرکار ہے لیکن چونکہ وزیراعلیٰ شیوسینا کا ہے اس لیے کامیابی و ناکامی کا سب سے زیادہ فائدہ یا نقصان اسی کے حصے میں آئے گا۔ شیوسینا کی صوبائی حکومت کو دہلی کی مرکزی حکومت کا تعاون نہیں حاصل ہوگا۔ ایسے میں اس کے لیے فلاحی اسکیموں کو چلانے کی خاطر فنڈ کی کمی محسوس ہوگی۔ مہاراشٹر کے بارے میں بجا طور پر کہا جاتا ہے کہ یہ ملک کا سب سے خوشحال صوبہ ہے لیکن یہاں کی دھن دولت امبانی اور اڈانی جیسے چند خاندانوں کی تجوری میں بند ہے۔ عوام اور ان کی حکومت دونوں اس سے محروم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسی ریاست میں سب سے زیادہ کسان خودکشی کرتے ہیں۔ پانچ سال قبل جب فڑنویس حکومت اقتدار میں آئی تھی تو سرکاری خزانہ دو لاکھ انہتر ہزار کروڑ کے قرض میں ڈوبا ہوا تھا۔ فڑنویس اس میں کمی کرنے کے بجائے تقریباً 45 فیصد کا اضافہ کرکے واپس ہوئے یعنی فروری 2019 تک کل قرض چار لاکھ چودہ ہزار کروڑ ہوگیا۔ ایسے میں ادھو ٹھاکرے کے لیے عوام کی فلاح وبہبود پرخرچ کرنا مشکل ہوگا۔ فی الحال ان کے سامنے بیروزگاری اور مضطرب رائے دہندگان کو بی جے پی کے چنگل میں جانے سے روکنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ کیونکہ وہی سب سے بڑی حزب اختلاف ہے اور حکومت کی ناراضگی کا براہِ راست فائدہ اسی کو ہوگا۔

شیوسینا کے علاوہ این سی پی کے لیے مہاراشٹر کے اندر بہار جیسی صورتحال کو رونما ہونے سے روکنا سب سے بڑا چیلنج ہے تاکہ وہاں پر آر جے ڈی اور کانگریس کے ساتھ جو ہوا یہاں پر این سی پی اور کانگریس کی وہی حالت نہ ہونے دی جائے۔ اس میں شک نہیں کہ مرکزی حکومت شیوسینا کو نتیش کمار کی مانند بلیک میل کرنے کی کوشش کرے گی مگر دونوں مقامات میں فرق ہے۔ بہار میں دوسرے نمبر پر ہونے کے باوجود نتیش کمار وزیراعلیٰ تھے جبکہ بی جے پی تیسرے نمبر پر ہے اس لیے نتیش کا عہدہ محفوظ رہا۔ کیا مہاراشٹر میں بی جے پی پہلے نمبر پر ہونے کے باوجود ادھو ٹھاکرے کو وزیراعلیٰ کے طور پر برداشت کرے گی؟ کیا شیوسینا بی جے پی کے ساتھ جانے کے لیے یہ اہم عہدہ چھوڑ دے گی؟ سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اگر مرکزی حکومت نے اس سرکار کو دباؤ ڈال کر برخواست کردیا تو عوام کے اندر اس کے خلاف شدید غم غصہ پیدا ہوگا اور انتخاب میں بی جے پی بری طرح ہار جائے گی۔ پچھلے انتخاب میں وہ پوار پر ای ڈی کے چھاپے کی سزا بھگت ہی چکی ہے۔ اس طرح کی حماقت کے اثرات قومی انتخاب پر بھی پڑیں گے۔ لیکن امت شاہ اور دیویندرفڑنویس کی قیادت میں بی جے پی والے کیا کر گزریں؟ کچھ کہا نہیں جاسکتا۔

کانگریس کے پاس فی الحال گنوانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ اس کی تو گویا لاٹری ہی لگ گئی ہے۔ اس نے بڑی ہوشیاری سے نانا پٹولے کو اسپیکر بنوا کر نائب وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حکومت کا چہرہ بننے سے خود کو دور کر لیا ہے۔ اسپیکر کا عہدہ بی جے پی کے ذریعہ کانگریسی ارکان اسمبلی کے اغواء میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ کانگریس کی حکمت عملی ودربھ میں اپنی پکڑ مضبوط کرنے کی ہے۔ اس کے پاس مراٹھواڑہ اور مغربی مہاراشٹر کے اشوک چوہان اور پرتھوی راج چوہان جیسے بڑے رہنما موجود ہیں، اس کے باوجود اس نے شیواجی پارک میں شمالی مہاراشٹر کے مراٹھا تھورات اور ودربھ کے دلت نتن راؤت کی حلف برداری کروائی۔ اسپیکر کے لیے اس نے پسماندہ ذات کے رہنما نانا پٹولے کا انتخاب کیا۔

پٹولے کا تعلق ودربھ سے ہے۔ وہ 2008 تک کانگریس میں تھے۔ اس کے بعد بی جے پی میں جاکر2014 میں پرفل پٹیل جیسے بڑے رہنما کو شکست دی۔ لیکن 2017 میں وزیراعظم پر علی الاعلان تنقید کر کے کسانوں کے مسئلہ پر پارٹی چھوڑ دی۔ اس کے بعد نتن گڈکری کے سامنے کانگریس نے انہیں میدان میں اتارا مگر وہ کامیاب نہیں ہوسکے۔ اسمبلی میں کامیابی کے بعد کانگریس نے ان کو اس اہم عہدے سے نواز کر ودربھ کے مختلف سماجوں میں اپنا رسوخ بڑھانے کی سعی کی ہے۔ ودربھ میں کانگریس کو این سی پی یا شیوسینا کے بجائے بی جے پی سے مقابلہ کرنا ہوگا۔ اس کوشش میں اگر اسے کامیابی ملتی ہے تو قومی سطح پر وہ اس کے لیے مفید ہوگی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کانگریس دوراندیش حکمت عملی پر کام کررہی ہے۔ مہاراشٹر کی سیاسی بساط پر مختلف مہروں کا یہ کھیل آگے کیا گل کھلاتا ہے، کس کو نایک اور کسے کھل نایک بناتا ہے؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

(اعظم شہاب)