غیر اعلانیہ ایمرجنسی کے دور میں سی بی آئی کا قہر، آج چدمبرم تو کل آپ!... ظفرآغا

اگر جمہوریت میں سی بی آئی-ای ڈی چدمبرم کی طرح لوگوں گھر میں گھس کر گرفتار کرے، ان کو خاموش کرنے کے لیے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالے تو پھر اس کو جمہوریت نہیں بلکہ غیر اعلانیہ ایمرجنسی کہا جائے گا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

ظفر آغا

گزشتہ ہفتے رات کے نو-ساڑھے نو بجے سی بی آئی کی ایک ٹیم دہلی کی ایک پوش کالونی میں ہندوستان کے سابق مرکزی وزیر خزانہ پی چدمبرم کے گھر کی دیوار پر چڑھتی ہے اور ان کے گھر میں گھس کر ان کو گرفتار کرتی ہے۔ جس وقت یہ تماشہ ہو رہا تھا، اس وقت ہندوستان کے درجنوں چینل اس منظر کو لائیو پورے ہندوستان میں نشر کر رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے چدمبرم کوئی چور اُچکے ہیں اور پولس ان کو ایک معمولی ملزم کی طرح گرفتار کرنے کے لیے ان کے گھر میں گھس کر ان کی پکڑ دھکڑ کر رہی ہے۔

سوال یہ ہے کہ چدمبرم کا گناہ کیا تھا! مودی حکومت کے مطابق چدمبرم کا گناہ یہ تھا کہ جب پچھلی یو پی اے حکومت میں وہ وزیر خزانہ تھے تو انھوں نے آئی این ایکس نام کے ایک ٹی وی چینل کو ملک میں خبریں نشر کرنے کی اجازت دی تھی۔ اس کے لیے مبینہ طور پر چدمبرم کو کئی کروڑ کی رشوت دی گئی تھی۔ پچھلے دو تین سالوں سے یہ معاملہ دہلی ہائی کورٹ میں ان کے خلاف چل رہا تھا۔ کوئی آٹھ دس روز قبل ہائی کورٹ کے فاضل جج نے اپنے ریٹائرمنٹ سے صرف ایک ہفتے قبل اس معاملے میں چدمبرم کو راحت دینے سے انکار کر دیا اور بس سی بی آئی دندناتی ہوئی چدمبرم کے گھر گھس گئی اور ان کو گرفتار کر لیا۔ یہ تب ہوا جب کہ ان کی ایک عرضی راحت کے لیے سپریم کورٹ میں لگی ہوئی تھی اور چیف جسٹس آف انڈیا خود بھری عدالت میں یہ کہہ چکے تھے کہ وہ چدمبرم کی عرضی پر دو روز بعد سماعت کریں گے۔ اس کے باوجود چدمبرم کو ایک کالے چور کی طرح گرفتار کیا گیا۔

حکومت وقت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ملزم کو جب چاہے گرفتار کرے۔ لیکن جب معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور اس معاملے پر سپریم کورٹ سماعت کی تاریخ بھی مقرر کر چکا ہے اور پھر بھی سی بی آئی اس کو گرفتار کرتی ہے تو پھر ضرور دال میں کوئی کالا ہے۔ اور یہ بات سمجھنے کے لیے خود پچھلے دو تین سالوں میں سی بی آئی اور محکمہ ای ڈی کا رویہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مودی حکومت اپنے سیاسی حریفوں کو ڈنڈے کے زور پر خاموش کرنے کے لیے ان کے خلاف بدعنوانی کے معاملات اٹھا کر ان پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ اس سلسلے میں مودی حریف سیاست دانوں کی ایک لمبی لسٹ ہے جس میں لالو پرساد یادو، مایاوتی، ملائم سنگھ یادو، ابھی حال میں اعظم خان جیسے درجنوں دیگر سیاستدانوں کے نام شامل ہیں۔

جب کہ دوسری جانب ابھی اخباروں میں تصویر چھپی ہے کہ کرناٹک کے ایک سابق کانگریسی ایم ایل اے نے تیرہ کروڑ کی ایک کار خریدی ہے۔ یہ حضرت وہی ہیں جنھوں نے کرناٹک میں کانگریس کے ساتھ بغاوت کی اور بی جے پی کو فائدہ پہنچایا۔ ان جیسوں کی خرید و فروخت کے بعد کرناٹک میں بی جے پی نے اپنی حکومت قائم کی۔ لیکن وہ 13 سابق کانگریسی ایم ایل اے جنھوں نے ظاہر ہے کہ کروڑوں رشوت لے کر کرناٹک میں بی جے پی حکومت قائم کروائی، ان کے خلاف نہ تو سی بی آئی حرکت میں آئی اور نہ ہی ان کو ای ڈی نے کوئی نوٹس بھیجا۔

یعنی اگر سیاسی حریف کے خلاف کوئی رشوت ستانی کا معاملہ ہے تو ہم اس کے گھر میں گھس کر اس کو گرفتار کریں گے اور ٹی وی کے ذریعہ اس کو اور اس کی پارٹی کو بدنام کریں گے۔ لیکن اگر کوئی سیاستداں بی جے پی حکومت قائم کرنے کے لیے رشوت لے کر اپنی پارٹی کے ساتھ بغاوت کرتا ہے اور اس کے خلاف کوئی واضح ثبوت بھی نظر آتا ہے تو اس کے خلاف سی بی آئی اور ای ڈی ایک نوٹس بھی نہیں بھیجے گی۔

لب و لباب یہ کہ مودی حکومت پر حزب اختلاف کا الزام ہے کہ وہ سی بی آئی اور ای ڈی کا استعمال اپنے مخالفین کو خاموش کرنے کے لیے کر رہی ہے اور وہ الزام بے جا اور بے معنی نہیں ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مودی حکومت جب سے برسراقتدار آئی ہے تب سے اس حکومت کا طرز عمل یہی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے سی بی آئی اور ای ڈی نے نوٹس دے دے کر اور عدالتوں میں کھینچ کھینچ کر ان این جی اوز کو خاموش کیا گیا جو گجرات فسادات کے معاملے میں مودی کے خلاف سرگرم تھے۔ ان میں تیستا سیتلواڈ جیسے افراد اور ان کے این جی او کا نام سرفہرست ہے۔ تیستا کو اب آئے دن اپنی دفاع میں سپریم کورٹ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ تیستا کی طرح درجنوں دوسرے اسی طرح کے این جی اوز ختم اور خاموش کر دیئے گئے۔ اسی طرح مایاوتی، لالو اور ملائم پر مودی حکومت کے اولین دور میں ہی تلوار لٹکا دی گئی تھی۔ لالو پرساد یادو تو نہ جانے کب سے جیل میں سڑ رہے ہیں۔

الغرض یہ کہ نریندر مودی کا ’نیا ہندوستان‘ جس میں سیاسی حریف کا گناہ تو گناہ ہے لیکن خود ہمارا گناہ نہ تو گناہ ہے اور نہ ہی اس کی کوئی سزا ہے۔ بلکہ اس ہندوستان میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر جیسی دہشت گردی کے الزام میں ملوث ایک فرد کو بی جے پی انتخاب جتوا کر اس کو رکن پارلیمنٹ بھی بنواتی ہے اور ان کو دیش بھکت ثابت کرتی ہے۔ جی ہاں، یہ ہے نئے ہندوستان کے دوہرے پیمانے۔ اس ہندوستان میں اب ہر قانون کے دو پہلو ہیں۔ اگر جموں و کشمیر میں وہاں کی اسمبلی کی مرضی حاصل کیے بغیر اس ریاست کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے کو راتوں رات ختم کیا جا سکتا ہے جس معاہدے کو آئین میں دفعہ 370 کے تحت قلمبند کیا گیا تھا، تو پھر بس آپ سمجھ سکتے ہیں۔ اور جیسے چدمبرم کو خاموش کرنے کے لیے ان کو گھر میں گھس کر گرفتار کیا گیا ویسے ہی کشمیریوں کو خاموش کرنے کے لیے کشمیر کے چپے چپے پر فوج تعینات کی گئی۔ پوری ریاست کو کرفیو لگا کر جیل میں تبدیل کیا گیا اور وہاں ہزاروں افراد اور لیڈران کو جیل بھیج دیا گیا۔ اب کشمیر کی کوئی آواز ہے اور نہ ہی ان پر کوئی آنسو بہانے والا ہے۔

اس کو اگر آپ جمہوریت کہتے ہیں تو مودی جی یہ جمہوریت آپ کو مبارک! اگر جمہوریت میں حزب اختلاف کو سی بی آئی اور ای ڈی چدمبرم کی طرح گھر میں گھس کر گرفتار کرے، ان کو خاموش کرنے کے لیے جیل کی سلاخوں کے پیچھے کھڑا کر دے تو پھر اس کو جمہوریت نہیں بلکہ اس کو غیر اعلانیہ ایمرجنسی کہا جائے گا۔ اور تلخ حقیقت یہی ہے کہ ہندوستان اس وقت ایک ایسے ہی دور سے گزر رہا ہے۔ بس یوں سمجھیے کہ آج چدمبرم ہیں تو کل اگر آپ حکومت وقت کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو آپ کی باری ہے۔ یہ ہے مودی جی کا ’نیا ہندوستان‘۔

Published: 24 Aug 2019, 8:10 PM