کیا رام مندر تعمیر ہونے سے روکا جا سکتا ہے!... ظفر آغا

مودی کے اس ہندو راشٹر میں ایودھیا کا تیسرا باب یعنی رام مندر تعمیر اب جلد ہی پورا ہونے والا ہے اور اس کو کسی طرح روکا نہیں جا سکتا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

ظفر آغا

نریندر مودی دور حکومت میں ایودھیا معاملے میں جو فیصلہ آ سکتا تھا، ویسا ہی فیصلہ آیا ہے۔ یوں بھی اس سلسلے میں سپریم کورٹ سے اس سے زیادہ توقع ہونی بھی نہیں چاہیے تھی۔ کیونکہ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بابری مسجد کا انہدام بھی سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہی ہوا تھا۔ یاد دہانی کے لیے سنہ 1992 میں بابری مسجد گرائے جانے سے قبل جو واقعات پیش آئے تھے ان کا ذکر یہاں ضروری ہے۔ جب اس وقت بی جے پی کے صدر لال کرشن اڈوانی نے رتھ یاترا پر سوار ہو کر ایودھیا میں کارسیوا پر جانے کا اعلان کیا تو یہ معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوا۔ سپریم کورٹ نے اس وقت اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ کو اس سلسلے میں تنبیہ کی کہ سپریم کورٹ کارسیوا کی اجازت تب ہی دے گا جب اتر پردیش حکومت بابری مسجد کے تحفظ کی ذمہ داری دے۔ چنانچہ اس وقت بی جے پی حکومت کے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ نے سپریم کورٹ میں یہ حلف نامہ داخل کیا کہ ان کی حکومت بابری مسجد کے تحفظ کی پوری ذمہ داری لیتی ہے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے ایودھیا میں کارسیوا کی اجازت دے دی۔ صرف اتنا ہی نہیں، سپریم کورٹ نے کارسیوا پُرامن رہے، اس کے لیے اپنی جانب سے ایودھیا میں ایک آبزرور بھی تعینات کر دیا۔ آخر سپریم کورٹ کے آبزرور کی موجودگی میں 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد گرا دی گئی۔ پھر کلیان سنگھ نے استعفیٰ دے دیا۔ لیکن جب کلیان سنگھ کے حلف نامہ کی خلاف ورزی کا معاملہ سپریم کورٹ کے زیر سماعت آیا تو اس وقت کے سپریم کورٹ کےچیف جسٹس وینکٹ چلیا نے کلیان سنگھ کو کورٹ کی حکم عدولی کی صرف اتنی سزا دی کہ جب تک ان کی عدالت چل رہی ہے تب تک کلیان سنگھ کورٹ کے باہر نہیں جا سکتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بابری مسجد گرائی بھی گئی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اور اب وہاں رام مندر کی تعمیر جلد ہی شروع ہوگی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد۔

لیکن سپریم کورٹ سپریم ہے۔ اس کے فیصلے کے بعد تو پھر ہر کسی کے ہاتھ بندھے ہیں۔ اس لیے اب فیصلہ تسلیم ہی کرنا ہوگا۔ نظرثانی کی اپیل کے بعد بھی کوئی خاص بات نہیں ہوگی۔ اس لیے یہ قدم نہ صرف بے سود ہوگا بلکہ موجودہ سیاسی حالات میں مسلم مفاد میں نہیں ہوگا۔ دوسری اہم بات اور سوال یہ ہے کہ کیا اب اس ملک میں کوئی بابری مسجد کے جائے مقام پر رام مندر کی تعمیر روک سکتا ہے۔ میری ادنیٰ رائے میں یہ اب ممکن نہیں ہے۔ غالباً سپریم کورٹ کے مدنظر زمینی حقائق بھی تھے، اس لیے سپریم کورٹ نے بھی ایسا فیصلہ سنایا کہ جس کو لاگو کیا جا سکے۔ اب رہی بات یہ کہ آگے کیا ہو، تو یہ فیصلہ ملک کے زمینی حقائق اور سیاسی حالات کے مدنظر ہی ہونا چاہیے۔ بابری مسجد گرا دی گئی۔ وہاں اب رام مندر کی تعمیر روکی نہیں جا سکتی ہے۔ رام مندر تعمیر کی مخالفت ملک میں مسلمانوں کے مفاد میں نہیں ہو سکتی ہے۔ سنہ 1986 میں بابری مسجد کا تالا کھلنے کے بعد سے اب تک مسلمانوں کی جانب سے رام مندر تعمیر کو روکنے کے لیے جتنے بھی قدم اٹھائے گئے اس سے محض سنگھ، بی جے پی اور ہندوتوا نظریہ کو فائدہ ہوا۔ اب یہ عالم ہے کہ ضد کی حکمت عملی نے ملک کو ہندو راشٹر تک پہنچا دیا۔ اس لیے راقم الحروف کی ادنیٰ رائے میں ایودھیا معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مسلمانوں کی جانب سے اگلا قدم جو بھی اٹھایا جائے وہ جوش میں نہیں ہوش میں اٹھایا جائے۔ سنہ 1992 سے اب تک اس سلسلے میں ہزارہا جانیں گئیں اور مسلمان دوسرے درجے کے شہری کی حیثیت کو پہنچ گئے۔ اس لیے فی الحال ہوش مندی کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے۔

لیکن اس بات سے اب قطعاً انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ایودھیا اب ایک تاریخ ہے۔ ایودھیا اب محض بھگوان رام کی تاریخ ہی نہیں ہے بلکہ ایودھیا آزادی کے بعد ہندوستانی سیاسی اور سماجی تاریخ کا ایک اہم باب ہے جس نے ہندوستان کو بہت حد تک بدل دیا۔ اور میں نے اس تاریخ کو نہ صرف قریب سے دیکھا بلکہ بحیثیت صحافی اس کو قریب سے برتا اور اس کو رپورٹ کرتا رہا۔ مجھے آج بھی فروری 1986 کی وہ ہلکی سردی یاد ہے جب میں بابری مسجد کا تالا کھلنے کے بعد مسجد کے دروازے پر کھڑا تھا۔ خاص اس مقام پر جہاں امام کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے، وہاں پر رام للا کی مورتی رکھی ہوئی تھی اور پوجا جاری تھی۔ یہ دیکھ کر مجھے ایک جھٹکا لگا اور سارے بدن میں جھرجھری آ گئی۔ مجمع اس قدر تھا کہ مجھے جلد ہی اس مقام کو چھوڑ کر ہٹنا پڑا۔ خیر میں بحیثیت صحافی وہاں گیا تھا اور مجھے آگے بھی جانا تھا، اس لیے میں جلد ہی ایودھیا سے نکل کر اتر پردیش کے دوسرے شہروں کے دورے پر نکل گیا۔ اس وقت اتر پردیش میں فرقہ پرستی کی آگ پھیل چکی تھی۔ شہر در شہر فساد ہو رہے تھے۔ علی گڑھ، مراد آباد، ہاتھرس جیسے نہ جانے کتنے شہروں میں فساد پھیل چکے تھے۔ ڈرا، سہما مسلمان کرفیو کے زیر سایہ اپنے اپنے گھروں میں بند دروازوں کے پیچھے امان کی دعائیں کر رہا تھا۔ خیر یہ دور گزرا۔ میرٹھ اور ملیانہ جیسے فساد بھی ختم ہوئے۔ لیکن کہیں نہ کہیں ہندو ذہنوں میں یہ خیال گھر کر گیا کہ مسلمان تو رام مندر نہیں بننے دینا چاہتا ہے، کیونکہ جب تالا کھلنے کے بعد کچھ سکون ہوا تو بابری مسجد ایکشن کمیٹی کی جانب سے بابری مسجد تحفظ کے لیے بڑی بڑی ریلیاں شروع ہو گئیں۔ کچھ ہی عرصے بعد ’مندر وہیں بنائیں گے‘ کے نعرے کے ساتھ ہندوؤں کی جانب سے وشو ہندو پریشد میدان میں اتر پڑی۔ سنہ 1947 میں بٹوارے کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ مذہب اور عقیدت کے نام اس ملک کا ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کی مخالفت میں آمنے سامنے تھا۔ اور ’ہندو حق‘ اور رام مندر کے لیے وشو ہندو پریشد آگے آگے تھی۔ سنگھ اور بی جے پی کے لیے اس سے بہتر موقع اور کیا ہو سکتا تھا۔ کیونکہ بی جے پی کی سیاست کا دار و مدار ہی مسلم مخالفت پر مبنی ہے۔ بابری مسجد کا تالا کھلنے کے بعد بی جے پی کو وہ ہندو دشمن مسلم مل گیا جس کی اس کو تلاش تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تین برس بعد جب 1989 میں لوک سبھا چناؤ ہوئے تو لوک سبھا میں دو سیٹوں پر سمٹی بی جے پی 85 سیٹوں پر پہنچ گئی۔ اس طرح ایودھیا تاریخ کے پہلے باب نے بی جے پی کو ملک کی سیاست میں مرکزی مقام تک پہنچا دیا اور ساتھ ہی نفسیاتی سطح پر سَنگھ نے مسلمان کو ہندو دشمن کی امیج بھی دے دی۔ اور یہی وہ امیج ہے جس کے کاندھوں پر سوار ہو کر بی جے پی نے ہندوستان کو ہندو راشٹر تک پہنچا دیا۔

ایودھیا کا دوسرا باب سنہ 1989 میں وی پی سنگھ کے برسراقتدار آنے کے بعد شروع ہوا۔ ہوا یوں کہ سنہ 1989 میں کانگریس کے خلاف کرپشن کو ایشو بنا کر وی پی سنگھ وزیر اعظم بن گئے۔ لیکن ان کی حکومت باہر سے ایک طرف لیفٹ پارٹیوں اور دوسری جانب بی جے پی کی حمایت پر منحصر تھی۔ لیکن وی پی سنگھ کی پارٹی جنتا دل کی لیڈرشپ میں جلد ہی اس قدر نااتفاقیاں پیدا ہو گئیں کہ ان کی حکومت گیارہ مہینے کے اندر ہی اقتدار سے باہر چلی گئی۔ لیکن انھوں نے اقتدار سے باہر جانے سے قبل منڈل سفارشات کے تحت پسماندہ ذاتوں کے لیے سرکاری نوکریوں اور سرکاری تعلیمی اداروں میں 27 فیصد ریزرویشن لاگو کر دیا۔ ارے صاحب، ملک میں قیامت بپا ہو گئی۔ دیکھتے دیکھتے ہندو سماج میں ذات کے نام پر ایسی کھائی کھڑی ہو گئی کہ جس کی نظیر ہزارہا سال میں پہلے کبھی نہیں ملتی۔ پسماندہ ذاتوں نے منڈل ریزرویشن کے ساتھ ساتھ اتر پردیش اور بہار جیسے اہم سیاسی صوبوں میں اقتدار پر بھی قبضہ کر لیا۔ اس طرح سنہ 1986 سے سنہ 1989 تک رام مندر کے نام پر جو ہندو-مسلم تکرار تھی، وہ اب اعلیٰ ذات اور پسماندہ ذاتوں کے درمیان تکرار میں تبدیل ہو گئی۔ اور اب ہندو سماج خود ہی ذاتوں میں بٹ گیا۔ یہ ہندو سماج کی سب سے بڑی کرائیسس تھی۔ اس کو ختم کرنے کا صرف ایک راستہ یہی تھا کہ ہندوؤں کو یکجا کرنے کے لیے اس کے سامنے ایک باہری دشمن کا حوا کھڑا کیا جائے۔ وہ دشمن محض مسلمان ہو سکتا تھا۔ اور اس کے لیے بابری مسجد-رام مندر قضیہ سے بہتر اور کوئی دوسری شے نہیں ہو سکتی تھی۔ اس لیے ادھر منڈل کی آگ نے زور پکڑا اور ادھر اڈوانی جی رتھ پر سوار ایودھیا میں رام مندر تعمیر کی تائید اور حمایت میں نکل پڑے۔ مسلمانوں نے اس کی مخالفت کی۔ اس طرح فوکس اعلیٰ ذات-پسماندہ ذاتوں کے قضیے سے ہٹ کر پھر رام مندر-بابری مسجد قضیے پر آ گیا۔ ہندو سماج میں پیدا کھائی کافی حد تک پر ہوئی۔ ادھر مسجد گری اور مسلمان پھر سے ہندو دشمن بن گیا۔ اب بی جے پی ہندو سماجی اور مذہبی نظام کی مجبوری اور پہلی اہمیت ہو گئی۔ اس طرح ایودھیا کے دوسرے باب میں ملک میں سیکولر سیاست کمزور پڑ گئی اور ساتھ ہی مسلمان بطور ہندو دشمن مستحکم ہو گیا۔

اس طرح ملک کی سیاست کا محور ہندو-مسلم ہوتا چلا گیا۔ پہلے گودھرا میں ٹرین حادثہ کے بعد سنہ 2002 میں گجرات مسلم کشی کے بعد نریندر مودی گجراتی ہندوؤں کے ہردے سمراٹ بنے۔ پھر مسلم منافرت کا زہر اس قدر چڑھا کہ وہ 2014 میں سارے ملک کے ہردے سمراٹ بن گئے۔ اور سنہ 2019 میں دوبارہ ملک کے وزیر اعظم بننے کے بعد مودی تیزی سے ہندوستان کو ہندو راشٹر کا رنگ دے رہے ہیں۔ مودی کے اس ہندو راشٹر میں ایودھیا کا تیسرا باب یعنی رام مندر تعمیر اب جلد ہی پورا ہونے والا ہے اور اس کو کسی طرح روکا نہیں جا سکتا ہے۔ اس لیے اب جو بھی فیصلہ ہو وہ ان زمینی حقائق اور حالات کے مدنظر ہو، محض جذبات پر نہیں۔

Published: 16 Nov 2019, 8:11 PM