شہریت قانون-این آر سی: بی جے پی اور آر ایس ایس کی خطرناک سازش جلد ہوگی ناکام!

آر ایس ایس یا ہندوتوا تنظیموں نے تعمیر ملک کے لیے کوئی قربانی نہیں دی۔ انھوں نے بی جے پی کے ذریعہ اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے، لیکن اس ملک کے بیشتر لوگ ہندوتوا نظرہی کے حامی نہیں ہے۔

شہریت ترمیمی قانون مخالف مظاہرے: اب ناروے کی شہری کو بھارت چھوڑنے کا حکم
شہریت ترمیمی قانون مخالف مظاہرے: اب ناروے کی شہری کو بھارت چھوڑنے کا حکم

قومی آواز تجزیہ

لگتا ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کی فرقہ پرستانہ سیاست بھلے ہی کچھ وقت کے لیے، لیکن ایک جام میں پھنس گئی ہے۔ ووٹ حاصل کرنے کے لیے فرقہ وارانہ پولرائزیشن کی سیاست کا بخوبی استعمال کرنا وہ جانتے ہیں۔ یہ طریقہ گجرات میں کام آیا اور کچھ حد تک ملکی پیمانے پر بھی کامیاب رہا۔ انھیں لگتا کہ یہ شمال مشرق اور جموں و کشمیر میں بھی کام کر جائے گا۔ کچھ وقت کے لیے ایسا احساس ہوا بھی تھا کہ انھیں ان علاقوں میں بھی کامیاب ملی ہے اور فرقہ وارانہ پولرائزیشن کی تنقید کرنے والوں کے منھ بند ہو گئے ہیں۔ بی جے پی نے آسام میں اپنی حکومت بنا لی اور جموں و کشمیر میں حیرت انگیز طریقے سے پی ڈی پی کے ساتھ اتحاد کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ لیکن جب اس سیاست کو انھوں نے ایک حد سے آگے لے جانے کی کوشش کی تو اس کے نتائج منفی نکلے۔

شمال مشرق ریاستوں میں مختلف طبقات کی آبادی کم ہونے کے سبب ان کو ہمیشہ باہری لوگوں کے بڑی تعداد میں آ کر ان پر حاوی ہونے کا اندیشہ بنا رہتا ہے۔ وہ مقامی لوگوں کی ثقافتی پہچان کو بچائے رکھنے کی فکر کرتے رہتے ہیں۔ بی جے پی نے باہری لوگوں کے تئیں مقامی لوگوں کے اسی خوف کے جذبہ پر سواری کرتے ہوئے آسام میں این آر سی کا عمل شروع کیا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ باہری یا بنگلہ دیش سے آئے زیادہ تر لوگ مسلم ہوں گے۔ اس نے یہ امید نہیں کی تھی کہ این آر سی سے چھوٹے لوگوں میں اکثریتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے ہندو ہوں گے۔

ایسی حالت میں حکومت نے ایک فرقہ پرستی پر مبنی ہتھکنڈے کا استعمال کیا۔ وہ شہریت ترمیمی بل پر مبنی قرارداد لے کر آئی جس میں مسلمانوں کو چھوڑ کر بنگلہ دیش، افغانستان اور پاکستان سے آئے سبھی لوگوں کو ہندوستان کا شہری بننے کا اختیار دیا گیا۔ اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ آسام یا شمال مشرق اور جموں و کشمیر کا سماج اس طرح سے فرقہ پرست نہیں ہے جیسے ہندی بیلٹ علاقے، گجرات یا مہاراشٹر میں ہے۔ آسام جیسے علاقوں میں علاقائی پہچان بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔

جو احتجاجی مظاہرے شمال مشرق سے شروع ہوئے وہ اب پورے ملک میں پھیل گئے ہیں۔ این آر سی کے عمل سے وہ سبھی بغیر اراضی یا بغیر ملکیت والے لوگ فکرمند ہیں جن کے پاس ایسا کوئی دستاویز نہیں ہے جس کے ذریعہ وہ ثابت کر سکیں کہ ان کے آبا و اجداد ہندوستان کے باشندہ تھے۔ شہریت ترمیمی قانون مسلمان کی گردن پر لٹکتی ایسی تلوار ہے جس کی وجہ سے اگر وہ اپنی شہریت ثابت نہیں کر پایا تو اسے مجرم کی طرح جیل میں قیدی کی طرح رکھا جائے گا۔ ایک فرقہ پرستانہ اوزار سے تین ممالک کے مسلمان پناہ گزینوں یا متاثرین کو شہریت سے محروم کرنا آئین میں ہر ایک شہری کو ملے قانون کے سامنے برابری کے حقوق کو ختم کرنا ہے۔ یہ ملک میں مختلف سطحوں کی شہریت کو قائم کرنے کے عمل کی شروعات ہوگی۔

پاکستان واقع لاہور میں رہنے والے پنجابی کو ملک کے تئیں سب سے زیادہ وفادار مانا جاتا ہے، لاہور کے باہر کے پنجابیوں کی وفاداری تھوڑی کم مانی جاتی ہے، غیر پنجابیوں کی وفاداری سب سے کم مانی جاتی ہے اور پنجاب و سندھ کے باہر رہنے والے پاکستانیوں کی تو شہریت ہی مشتبہ مانی جاتی ہے۔ اگر آر ایس ایس اور بی جے پی کچھ وقت اور ہندوستان کی سیاسی سمت طے کرتے رہے تو دھیرے دھیرے یہاں بھی ایسا نظام قائم ہونے کا اندیشہ ہے جس میں خاص طرح کے برہمنوں کی برتری کے بعد ملک کے دیگر شہریوں، مثلاً دلتوں، قبائلیوں، خواتین، اقلیتوں وغیرہ کی شہریت ہمیشہ اندیشہ کے دائرے میں رہی۔

شہریت پر حکومت کی اس طرح کی پیش قدمی سے آئین کی اصل روح اور ملک کے سماجی تانے بانے کو زبردست نقصان پہنچے گا۔ انصاف، آزادی، برابری اور بھائی چارے کے اقدار پر مبنی ایک رول ماڈل سماج کی تعمیر کی سمت میں ہم نے جو بھی پیش قدمی کی ہے اس پر پانی پھر جائے گا۔ ہندوستانی تہذیب کی تاریخ میں پہلی بار باہر سے آنے والے کسی کو روکا جا رہا ہے۔ ’وشو دھرم سنسد‘ کی اپنی مقبول تقریر میں سوامی وویکانند نے ہندو مذہب کی یہ خوبی بتائی تھی کہ باہر سے آنے والے کسی کو بھی ہندوستانی سماج نے اپنے اندر شامل کیا ہے۔ روہنگیا طبقہ پہلے ایسے لوگ تھے جنھیں ہندوپرست حکومت نے ہندوستان میں آنے سے روکا اور اب سی اے اے یعنی شہریت قانون کے ذریعہ حکومت اس تفریق کو تنظیمی شکل دینا چاہتی ہے۔

وزیر داخلہ امت شاہ کہتے ہیں کہ چن چن کر اس ملک سے دراندازوں کو نکالیں گے۔ ذرا غور سے دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے نظام میں سب سے بڑے درانداز کون ہیں؟ آر ایس ایس یا ہندوتوا تنظیموں کا کوئی بھی کارکن آزادی کی تحریک میں جیل نہیں گیا، سوائے ونایک دامودر ساورکر کے، جو کہ معافی مانگ کر جیل سے باہر نکل آئے اور انگریزوں سے پنشن لیتے رہے۔ ان تنظیموں نے تعمیر کے لیے کوئی قربانی نہیں دی۔ نہ تو ان کا ملک کے آئین میں یقین ہے اور نہ ہی جمہوریت میں۔ انھوں نے بی جے پی کے ذریعہ سے ہندوستان کے اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس ملک کی اکثریتی لوگ اب بھی ہندوتوا کے نظریہ کے حامی نہیں ہیں، لیکن یہ حکومت ایسے فیصلے لے رہی ہے جیسے ملک کی عوام نے اسے ایسا کرنے کا حق دے دیا ہو۔

’کرشک مکتی سنگرام سمیتی‘ کے مشیر اور آسام کے مشہور و معروف لیڈر اکھل گگوئی کو حال میں ہی قانون کے خلاف سرگرمی کرنے سے متعلق ایک دفعہ کے تحت گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے مختلف طبقات میں مذہب، نسل، جائے پیدائش، رہائش، زبان کی بنیاد پر سماج میں زہر پھیلانے کا کام کیا ہے اور اور سماج میں خیر سگالی کے لیے خطرہ پیدا کیا ہے۔ دھیان سے دیکھیں تو ملک کے موجودہ حالات میں مذکورہ بالا باتیں اکھل گگوئی کی جگہ مودی حکومت پر زیادہ فِٹ بیٹھتا ہے۔ لگتا ہے یہ حکومت آج ملک کی دشمن بن گئی ہے۔

(سندیپ اور راہل پانڈے کے شکریہ کے ساتھ)

Published: 6 Jan 2020, 4:01 PM