خدا کی قسم، کوئی بھی ذی شعور مندر اور مسجد کے لئے اپنے گھر کو آگ نہیں لگائے گا

عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کے لئے ملک کی خوشحالی اور امن امان مقدم ہے یا پھر مسجد اور مندر۔ خدا کی قسم کوئی بھی ذی شعور مسجد اور مندر کے لئے اپنے گھر کو آگ لگانا پسند نہیں کرے گا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

سید خرم رضا

سید خرم رضا

بابری مسجد۔رام جنم بھومی تنازعہ پر ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ کا فیصلہ دس دن کے اندر آنے والا ہے۔ وزیر اعظم سے لے کر ہندو اور مسلمانوں کی تمام نمائندہ تنظیموں کے رہنما اپیل کر رہے ہیں کہ عوام کو خوش دلی سے عدالت کا جو بھی فیصلہ آئے اسے قبول کرنا چاہیے۔ فیصلہ اگر حق میں آئے تو اس میں جشن سے پرہیز کریں اور فیصلہ خلاف آنے کی صورت میں کسی مایوسی کا شکار نہ ہوں۔ کیا کسی بھی فریق کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم نہ کرے۔ یہ ہم کس کو بےوقوف بنا رہے ہیں۔ یہ ٓائینی تقاضہ ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے فیصلے کو صدر جمہوریہ سے لے کر عام آدمی کو بھی قبول کرنا ہی پڑتا ہے اس لئے یہ کہنا فضول ہے کہ ہم سپریم کورٹ کا فیصلہ مانیں گے۔ یہ حق صرف حکومت کو حاصل ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلہ سے متفق نہ ہونے کی صورت میں قانون میں ترمیم کرے جیسے شاہ بانو معاملہ میں ہو چکا ہے۔ اس لئے عوام یا مذہبی رہنماؤں کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ہے جو ہے حکومت کے ہاتھ میں ہے۔ یہاں یہ بات واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ ملک کے مسلمانوں نے اس مسئلہ پر کبھی قانون ہاتھ میں نہیں لیا بلکہ اکثریتی طبقہ کے سر پھرے جھنڈ نے ایک خاص سیاسی پارٹی کی قیادت میں قانون ہاتھ میں لے کر 1992 میں مسجد شہید کی تھی۔

جب ہم اس مسئلہ کی بات کریں تو ہم چاہے لاکھ کہیں کہ اس کا تعلق عقیدے سے ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے، اس مسئلہ کا تعلق اقتدار کی سیاست سے ہے۔ اس حقیقت سے سب بخوبی واقف ہیں کہ ملک کی ایک خاص سیاسی پارٹی اور اس کی سرپرست تنظیم کے ایجنڈے میں ایسے کئی متنازعہ فرقہ وارانہ مسائل ہیں اور انہوں نے ان مسائل کو ہی سیڑھی بنا کر اقتدار حاصل کیا ہے۔ ہم سب کے ذہنوں میں اڈوانی کی رتھ یاترا ابھی بھی تازہ ہے اور اس حقیقت سے کوئی منکر نہیں ہو سکتا کہ اس سارے معاملہ نے اڈوانی کی پارٹی کی قومی سیاست میں جڑیں مضبوط کیں اور ان مضبوط جڑوں کی بنیاد پر اس پارٹی نے اقتدار کا وہ ثمرحاصل کیا جو ہر سیاسی پارٹی کا مقصد اور خواب ہوتا ہے۔ اس لئے یہ مسئلہ قطعاً سیاسی ہے جسے اب تک عقیدے کے لبادے میں پیش کیا گیا ہے۔

اس سارے مسئلہ میں مسلم تنظیموں اور ان کے رہنماؤں نے فرقہ پرست سیاست کو تقویت بخشی اور وہ ہر قدم پر نہ صرف اپنے مخالفین کو طاقت بخشتے رہے بلکہ ان کی چالوں میں پھنستے چلے گئے۔ مسلم قیادت نے کبھی دور اندیشی کا مظاہرہ نہیں کیا اور کبھی انہوں نے شطرنج کی بچھی بساط پر ایسی چال نہیں چلی جس سے مخالف فریق کو یا تو مات ہو جائے یا پھر وہ اپنے دفاع میں پیچھے ہٹے۔ پوری قیادت صرف مخالف کو جواب دے کر اس کو مضبوط کرتی رہی۔ مرکزی حکومت کے سیکولر ذہن کا استحصال کرنا اس قیادت نے اپنا مقصد بنا لیا۔ مسلم قیادت نے جتنا مرکز کی سیکولر حکومتوں پر دباؤ بنا کر اپنے حق میں فیصلے کرائے اتنا ہی مخالف نے ملک کے دو بڑے فرقوں میں نفرت کی کھائی کو چوڑا کرنا شروع کر دیا اور نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ بات اب فسادوں تک نہیں بلکہ موب لنچنگ تک پہنچ گئی۔

مسلم قیادت کے پاس آج بھی کوئی حکمت عملی نہیں ہے بس اس کی ایک جھجھک کے ساتھ یہ کوشش جاری ہے کہ وہ کسی طرح اس حکمراں جماعت کے قریب ہوجائے جس کے نظریات سے نہ وہ کبھی متفق تھے اور جس کی ہمیشہ مخالفت کی۔ آج خاموشی سے یا علی الاعلان جمعیتہ علما ہند (ارشد) کے رہنما مولانا ارشد مدنی سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت سے ملنے کے لئے اتنے مجبور ہیں کہ وہ خود ان کے پاس جاتے ہیں۔ وہ ہی کیا ان کے بھتیجےمولانا محمود مدنی خود بھاگوت سے ملنے کے لئے بے قرار ہیں۔ یہ دونوں ہی کیا بلکہ ہر ملی رہنما اور دانشور حکمراں جماعت سے ملنا اپنے لئے اعزاز کی بات سمجھ رہا ہے۔ کاش یہ ملاقاتیں اس وقت ہوتیں جب یہ پارٹی اقتدار میں نہ ہوتی جس کی سرپرست سنگھ ہے۔ اس وقت یہ ملاقاتیں دور اندیشی اور ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم کرنے کے لئے سود مند ہوتیں، آج تو یہ ملاقاتیں شکست اور مجبوری کی عکاس ہیں۔ پہلے سیکولر حکومتوں پردباؤ بنانے کی سیاست سے فرقہ پرست طاقتوں کومضبوط کرنا ہو یا آج اپنی بقا کے لئے سنگھ کے سربراہ سے ملاقات کرنا ہو، ان سب سے قیادت کی ذہنی بصیرت کا اظہار ہوتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بھی اس قیادت کے پاس ملت اور ملک کے مستقبل کے لئے کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ بس وہ کر رہے ہیں جو کہا جا رہا ہے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ جس مسئلہ کا فیصلہ سپریم کورٹ کو دینا ہے وہ انتہائی حساس ہے اور اس پر ماضی میں اتنا کچھ ہو چکا ہے کہ اس فیصلہ کا قومی سیاست پر اثر پڑنا فطری بات ہے۔ آئندہ کے حالات ملک کے مستقبل کو طے کریں گے۔ فیصلہ کے بعد کے حالات سے نمٹنے کی ذمہ داری حکومت کی ہے اور یہ اس کے لئے ایک سخت امتحان کا وقت ہے اگر اس نے اپنا راج دھرم نبھایا تو ہمارا یہ چمن ہمیشہ لہلہاتا رہے گا۔ حکومت کے ساتھ عوام کی بھی اتنی ہی ذمہ داری ہے۔ یہ عوام کو سمجھنا ہوگا کہ ان کے لئے ملک کی خوشحالی اور امن امان مقدم ہے یا پھر مسجد اور مندر۔ خدا کی قسم کوئی بھی ذی شعور مسجد اور مندر کے لئے اپنے گھر کو آگ لگانا نہیں پسند کرے گا۔

Published: 7 Nov 2019, 6:45 PM