امیدواروں کے بورڈ کے نتائج آج، دلوں کی دھڑکنیں تیز

نتائج اگر ایگزٹ پول کے مطابق آتے ہیں تو پھر نتائج میں کچھ زیادہ دیکھنے اور لکھنے کے لئے نہیں ہوگا لیکن اگر نتائج ایگزٹ پول سے جدا ہوتے ہیں تو پھر دہلی میں سیاسی سرگرمی تیزی ہونا فطری بات ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سید خرم رضا

لیجئے جناب وہ دن آ گیا جس کا ہم سب کو انتظار تھا یعنی 2019 کے عام انتخابات کے نتائج کا دن۔ آج کا دن امیدواروں کے لئے ویسا ہی ہے جیسے بورڈ کے امتحان دینے والے طالب علم کے لئے نتائج آنے کا دن، اور عوام جن کو انتخابی مہم کے دوران ہر امیدوار اپنا بھگوان اور سب کچھ بتاتا ہے وہ اس طالب علم کے والدین اور عزیز و عقارب کی طرح ہیں جن کو انتظار ہے کہ ان کا امیدوار ان انتخابات میں کتنے نمبروں سے پاس ہوگا۔ بحرحال امیدواروں نے اپنے اپنے عقائد کے حساب سے نتائج سے پہلے وہ سب کچھ کیا ہوگا جس سے اس کے بھگوان، اللہ، واہے گرو... ان کو اچھے نمبروں سے کامیاب ہونے میں ان کی مدد کریں۔

کسی امیدوار نے مندر میں جا کر پوجا کی ہوگی تو کوئی گھر پر ہی اپنے اہل خانہ کے ساتھ پوجا پاٹھ میں مصروف ہوگا تو کوئی سحری کھانے کے بعد سویا نہیں ہوگا۔ دوپہر تک یہ تصویر صاف ہو جائے گی کہ کس پارٹی اور کس امیدوار کو عوام نے اگلے پانچ سالوں کے لئے منتخب کیا ہے۔ نتائج اگر ایگزٹ پول کے رجحانات کے مطابق آتے ہیں تو پھر نتائج میں کچھ زیادہ دیکھنے اور لکھنے کے لئے نہیں ہوگا لیکن اگر نتائج ایگزٹ پول سے جدا ہوتے ہیں تو پھر دہلی میں سیاسی سرگرمی تیزی ہونا فطری بات ہے۔

اگر معلق پارلیمنٹ آتی ہے تو سیاسی سرگرمیاں اور جسے ہم ’ہورس ٹریڈنگ‘ یعنی ارکان کی خرید و فروخت کہتے ہیں وہ بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔ ایسے حالات میں چھوٹی پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ جائے گی اور ایک ایک ارکان بہت اہم ہو جائے گا۔ اس سب میں بھی اگر انتخابی مہم کی طرح غلط طریقہ دیکھنے میں آئے تو یہ ہماری جمہوریت کے لئے اچھا نہیں ہوگا۔

چلئے یہ تو دوپہر تک پتہ چل ہی جائے گا کہ کیا ہونا ہے۔ امیدواروں کے نتائج کیسے آئیں گے اور اس کے بعد کیا ہوگا اس پر سے پردہ دوپہر تک گرنا شروع ہو جائے گا اور دیر شام تک تصویر بالکل صاف ہو جائے گی۔