بی جے پی کے ’ہندوتوا‘ کو داغ پسند ہیں!... نواب اختر

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بی جے پی کا ہندوتوا شدت پسندی کو فروغ دینے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے والا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

نواب علی اختر

بی جے پی کی تمام تنظیموں کی ایک ہی بنیاد ہندو اتحاد ہوتی ہے حالانکہ وہ خواہ مخواہ اس سے انکار کرتے ہیں۔ جبکہ ہندو اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ ان کو متحد کرکے سیاسی طاقت اختیار کرنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ باوجود اس کے بھگوا پارٹی کو ’ہندوتوا‘ کی فصل بونے کے لئے بہت پاپڑ بیلنے پڑ رہے ہیں کیونکہ یہ بات پوری طرح عیاں ہوچکی ہے کہ بی جے پی کو ہندوتوا سے نہیں بلکہ کرسی سے پریم ہے اور وہ اس کے لئے کوئی بھی دعویٰ اور وعدہ کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گی خواہ بعد میں اسے ایک بار پھراقتدار کی بھیک مانگ کر اپنی سیاسی عمر کو لمبی کیوں نہ کرنا پڑے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بی جے پی کا ہندوتوا شدت پسندی کو فروغ دینے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کومتاثرکرنے والاہے۔

ملک کے اقتداراعلیٰ پر قابض بی جے پی کی بنیاد ہندوتوا پر ہی کھڑی کی گئی ہے کیونکہ سبھی جانتے ہیں کہ مذہب کے نام پر ہندوستان کے بھولے بھالے لوگوں کو کان پکڑ کر کسی بھی راستے پر چلایا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں یوگی آدتیہ ناتھ کا نام سر فہرست ہے۔ اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا دھارمک مستقبل خاصہ پکا ہے۔ وہ اتراکھنڈ کے رہنے والے ہیں لیکن گورکھپور کی ایک بہت بڑی دھارمک پیٹھ پر قابض ہیں۔ اب جب کہ وہ سیاست میں دخیل ہیں تو کیا ان کا یہ مستقبل بھی محفوظ ہے؟۔ اس کے بارے میں کوئی بات یقینی طور پر نہیں کہی جاسکتی کیونکہ سیاست میں بڑے اتار چڑھاؤ ہوتے ہیں اور ان کے بارے میں پیشگی قیاس مشکل ہے۔

مٹھ کے پجاری اجے موہن بشٹ عرف یوگی آدتیہ ناتھ نے اپریل2002 میں ’ہندو یووا واہنی‘ کے نام سے تنظیم قائم کر کے سیاست شروع کی اور ظاہر ہے کہ اس کی بنیاد فرقہ واریت پر تھی۔ 2017ء کے اسمبلی الیکشن کے بعد اہم سوال یہ ہوا کہ پارٹی کا لیڈر کون ہو یا بہ الفاظ دیگر وزیر اعلیٰ کسے بنایا جائے پرانے انداز کے بی جے پی لیڈر ایک ایک کرکے نظر سے غائب ہوتے جا رہے تھے، اس لئے قیاس آرائیوں کا بہت بڑا بازار سج گیا ہر شخص اپنی سمجھ کے مطابق رائے دیتا تھا۔ ظاہر ہے کہ بی جے پی کے پاس کوئی قد آور شخصیت نہ تھی۔ یوگی لوک سبھا کے پرانے ممبر تھے لیکن ان کے بارے میں کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔ ان کے متعلق ایک بات یہ بھی کہی جاتی تھی کہ وہ سخت گیر ہیں اور شاید نریندر مودی ان کو پسند نہ کریں لیکن قرعہ انہی کے نام کا نکلا۔

اترپردیش، اتراکھنڈ کے الگ کردیئے جانے کے باوجود ایک بہت بڑی ریاست ہے اور اسے قابو میں رکھنا آسان نہیں۔ انہوں نے نیا عہدہ سنبھالا تو یہ ظاہر ہوتا تھا کہ کوئی شدت پسند مذہبی شخص اقتدار میں آگیا ہے لیکن اوپر سے سمجھانے بجھانے کے بعد بھی ان میں کسی قسم کی نرمی کے آثار نظر آئے، پھر بھی وہ بی جے پی کے وفادار ہیں۔ پہلی بار اناؤ کے ایم ایل اے کلدیپ سنگھ کے خلاف عصمت دری کا بہت سنگین الزام لگا تو پوری پارٹی نے اور پورے ایڈ منسٹریشن نے سینگر کا ساتھ دیا لیکن عوامی احتجاج غالب آیا اور اگرچہ جیل کے اندر سے ریشہ دورانیاں جاری ہیں پھر بھی سینگر کے خلاف شکنجہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جارہا ہے۔ پارٹی بڑے پس و پیش میں ہے کہ وہ اپنے ایم ایل اے سے قطع تعلق نہیں کرسکتی لیکن یہ وہ دھبہ ہے جو 2022ء میں ہونے والے اسمبلی کے عام الیکشن میں ابھر کر سامنے ضرور آئے گا۔

حال ہی میں یوگی کی وزارت میں رد و بدل ہوا تو اس میں ایسے سلیقہ سے کام لیا گیا جس کی مثال دیگرسیاسی جماعتوں میں عام طور سے نہیں ملتی۔ چار وزیروں سے کہا گیا کہ وہ استعفیٰ دے دیں۔ ان میں سے ایک کے والد نریش اگروال خود کو بہت دبنگ ظاہر کرتے تھے لیکن حالات ایسے ہیں کہ کچھ کر نہیں سکتے تھے۔ دو نائب وزراءاعلیٰ کے محکموں کے سلسلے میں رعایت کی گئی اس میں مصلحت اور سفارش دونوں کا دخل نظر آتا ہے۔

اتر پردیش میں یوگی سرکار نے 22 اگست کواسی دن اپنی کابینہ کی توسیع کی جس دن نئی دہلی میں سابق وزیر خزانہ، داخلہ اور دفاع اور موجودہ رکن راجیہ سبھا پی چدمبرم کی گرفتاری کے لئے سی بی آئی اور ای ڈی ان کے گھر کی دیواریں پھلانگ کر ان کے گھر میں گھسنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ایجنسیوں کی اس فعالیت کو کئی چینل سرکار کی بدعنوانی کے تعلق سے مبینہ ’زیرو ٹالرینس پالیسی‘ پر مبنی قرار دے کر حق نمک ادا کرنے میں مصروف تھے تو دوسری طرف اتر پردیش کی یوگی سرکار میں ایسے چہروں کو شامل کیا جا رہا تھا جو کہ مظفرنگر فساد میں ملزم ہیں لیکن حیرت کی بات یہ ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ شرم کی بات ہے کہ میڈیا نے خصوصاً حاشیہ بردار چینلوں نے یوگی کابینہ کی توسیع میں ایسے مجرمانہ چہروں والے افراد کو شامل کرنے پر ایک لفظ بھی نہیں کہا۔

کابینہ کی مذکورہ توسیع میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ریاست کے وزیر مملکت سریش رانا کو ترقی دیتے ہوئے انھیں کابینہ درجے کا وزیر بنا دیا۔ سریش رانا کو یہ ترقی ان کی کس کارکردگی کی بنیاد پر دی گئی ہے، اس کا علم مجھے نہیں ہے لیکن یہ کھلی حقیقت ہے کہ سریش رانا مظفر نگر فساد میں ملزم ہیں۔ کیا سنگیت سوم کی طرح سریش رانا کے معاملے میں بھی یہ مان لیا جائے کہ حکومت مظفر نگر فساد کے ان ملزمان کو بچا رہی ہے کہ جن کا تعلق اکثریتی فرقے سے ہے؟ ہمارے ٹی وی چینلوں اور اخبارات کی صحافتی بے غیرتی کی یہ انتہا ہے کہ بد عنوانی اور مجرمانہ ریکارڈ کے معاملے میں وہ حد درجہ بد دیانتی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ بیشتر ٹی وی چینلوں اور اخبارات نے سریش رانا یا دیگر مجرمانہ ریکارڈ والے بی جے پی کی ریاستی حکومت کے وزراء پر ایک لفظ بھی لکھنا یا بولنا گوارہ نہیں کیا۔ جبکہ سابق مرکزی وزیر اور سینئر کانگریسی لیڈر کو بھگوڑا، فرار اور نہ جانے کیا کیا ثابت کرنے کی کوشش ان چینلوں پر کی جاتی رہی۔

اصل سوال یہ ہے کہ ’بد عنوانی اور مجرمانہ ریکارڈ پر زیرو ٹالرینس کی پالیسی کا بینر اٹھا کر دنیا بھر میں گھومنے اور ملک کے عوام کو دھوکہ دینے والوں کو اپنے گریبانوں میں جھانکنے اور اپنے لیڈروں کو سدھارنے کی توفیق کب ہوگی۔ حکمراں جماعت کے ان تمام لیڈروں اور وزرا کے نام کی فہرست دینے کا کوئی جواز نہیں ہے کہ جن کا دامن اور بندِ قبا ان کے کردار کی سچائی بیان کرنے کے لئے کافی ہے۔ ایسے ہندوتوا پرکون بھروسہ کرے گا جس کی پہلی پسند داغدار لوگ ہیں۔

Published: 25 Aug 2019, 9:10 PM