انتخابات کا کھیل ختم! نڈا جی، برائے مہربانی اب کورونا وبا پر توجہ دیجئے

بی جے پی کو ریاست میں اتنی کراری شکست کی امید نہیں تھی تو دوسری جانب ترنمول کے کارکنان کے لئے ممتا کی ہار ایک زبردست جھٹکا ہے

فائل تصویر یو این آئی 
فائل تصویر یو این آئی
user

سید خرم رضا

کورونا وبا کے قہر نے جس طرح ہندوستان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اس میں سب کو اپنے اختلافات بھلا کر اور اپنی ترجیحات بدل کر صرف اور صرف اس وبا سے کیسے نمٹا جائے، اس پر توجہ دینا چاہئے۔ مغربی بنگال کے انتخابات بھی ہو گئے اور نتیجے بھی آ گئے۔ ایک بڑے طبقہ کا تو یہ ماننا ہے کہ ان حالات میں تو انتخابات ہونے ہی نہیں چاہئے تھے لیکن چھوڑئے اب وہ سب باتیں، اب آگے کیا کرنا ہے اس پر توجہ دینا چاہئے۔ ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کے کارکنان کو بھی یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ اس وقت خوشی میں یا غصہ میں کسی بھی پارٹی کے خلاف تشدد کرنا انسانیت کے خلاف ہوگا اور سماج آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔

ہم ہمیشہ سے یہ سنتے آئے ہیں کہ آگ کو پانی سے بجھایا جاتا ہے، آگ سے نہیں۔ اس لئے بی جے پی کے سربراہ کو اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ یہ وقت بدلہ لینے یا اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا نہیں ہے بلکہ دشمنوں کو پھول دینے کا ہے۔

مغربی بنگال میں انتخابی نتائج آنے کے بعد تشدد کی خبریں آئیں اور اس تشدد میں کچھ لوگوں کے مارے جانے کی خبر ہے۔ اس تشدد کے پیش نظر اب بی جے پی سربراہ جے پی نڈا دو روزہ بنگال دورہ پر جا رہے ہیں جو آج سے شروع ہوگا ۔بات صرف دورہ تک محدود نہیں ہے بلکہ کہا یہ گیا ہے کہ 5 مئی کو بی جے پی بنگال میں نتائج کے بعد ہوئے تشدد کے خلاف ملک گیر مظاہرہ کرے گی۔ واضح رہے پارٹی نے کہا ہے کہ مظاہروں کے دوران کورونا ضابطوں پر عمل کیا جائے گا۔

اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد مغربی بنگال کے کئی علاقوں سے تشدد کی خبریں آئیں جس میں بی جے پی دفاتر میں آگ کے واقعات، کارکنان میں جھڑپ اور دکانوں میں لوٹ پاٹ ہوئی۔ مرکزی وزارت داخلہ نے اس تعلق سے ایک رپورٹ بھی طلب کی ہے۔ ادھر ریاست کے گورنر نے ڈی جی پی اور کمشنر کو طلب کیا اور اس تعلق سےضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت دی۔

ترنمول کی سربراہ ممتا بنرجی کو اپنے کارکنان کو یہ پیغام دینا چاہئے کہ وہ کسی بھی قسم کا تشدد برداشت نہیں کریں گی۔ دراصل مغربی بنگال میں انتخابی تشہیر کے دوران دونوں پارٹیوں کے کارکنان کے جذبات بہت اونچائی پر پہنچ گئے تھے اور دونوں کو ہی اپنی کامیابی نظر آ رہی تھی لیکن دونوں کے لئے انتخابی نتائج نے ان کے جذبات اور امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ بی جے پی کو ریاست میں اتنی کراری شکست کی امید نہیں تھی، تو دوسری جانب ترنمول کے کارکنان کے لئے ممتا کی ہار ایک زبردست جھٹکا تھی۔ ایسے میں کچھ سماج دشمن عناصر موقع کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان حالات میں سیاسی قائدین کی ذمہ داری ہوتی ہےکہ وہ اپنے کارکنان کو سمجھائیں اور اگر نہ سمجھیں تو ان کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

عام حالات میں جےپی نڈا کے رد عمل کو درست قرار دیا جاسکتا تھا کیونکہ اتنی بڑی شکست کےبعد اپنے کارکنان کےحوصلہ کو بنائےرکھنے اور ملک گیر سیاسی پیغام دینےکےلئے کبھی کبھی یہ ضروری ہوتا ہے لیکن کورونا وبا کے اس دور میں صرف اور صرف یہ کوشش ہونی چاہئےکہ کیسے وباسےمتاثر مریضوں کو راحت پہنچائی جائے۔ نڈا جی مہربانی کر کے یہ سب بعد کے لئےچھوڑ دیجئے ابھی صرف کورونا وباپرتوجہ دیجئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 04 May 2021, 8:11 AM