یوپی میں بی جے پی ’سانپ- چھچھوندر‘ کی حالت میں... نواب علی اختر

مودی کی بی جے پی پر نظر رکھنے والوں کو یقین ہے کہ اگر یوگی آدتیہ ناتھ مودی اور امت شاہ کی شرائط پر تیار نہیں ہوئے تو پھر ان کا برقرار رہنا مشکل ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

نواب علی اختر

اودھی کہاوت ہے ’بھئے گت سانپ چھچھوندر کیری‘! اس کی وضاحت اودھ کے لوگ عام زبان میں کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سانپ کبھی چھچھوندر کا شکار نہیں کرتا ہے لیکن اگرغلطی سے کبھی سانپ چھچھوندر کو پکڑ لیتا ہے تو عجیب کشمکش کے حالات ہوتے ہیں۔ کیونکہ اگر سانپ چھچھوندر کو چھوڑ دے تو وہ حملہ آور ہوسکتی ہے، وہیں وہ اتنی بدبو چھوڑ رہی ہوتی ہے کہ سانپ کے لیے چھچھوندر کو نگلنا ممکن نہیں ہوتا ہے۔ کچھ ایسے ہی حالات اس وقت اترپردیش میں بی جے پی کے دیکھے جا رہے ہیں۔ جہاں ریاست کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بی جے پی اعلیٰ قیادت سے لڑنے اور دھمکانے پر تلے ہوئے ہیں۔ حالانکہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ یہ آنے والے وقت میں ہی معلوم ہوگا مگر فی الحال بی جے پی میں اندرونی خلفشار اپنے شباب پر ہے۔

ریاست میں اگلے سال ہونے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر تمام علاقائی اور قومی پارٹیوں نے اپنے اپنے مہرے بٹھانا شروع کر دیئے ہیں۔ پارٹی اور تنظیمی سطح پر ضروری تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ قیادت کے حوالے سے بھی سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں مگر ان سب کے درمیان حکمراں بی جے پی کچھ زیادہ ہی تیز دوڑتی نظر آرہی ہے۔ ریاست میں انتخابات کے لیے ابھی 6 ماہ سے زیادہ کا وقت ہے باوجود اس کے بھگوا پارٹی کے لیڈروں کی دہلی اور لکھنؤ کے درمیان ریس لگی ہوئی ہے۔ دہلی اور اترپردیش کے درمیان دو ہفتے کی گرما گرم سیاسی ہلچل کے بعد فی الحال ماحول کچھ حد تک پرسکون نظر آرہا ہے لیکن اس سکون کی میعاد کتنی ہوگی، اس پر کچھ کہنا مشکل ہے۔

ریاست کے معاملے میں یوپی کے لیڈروں سے ملاقاتوں کے بعد بی جے پی کے مرکزی قائدین نے خواہ کسی تبدیلی کو قیاس آرائی بتایا ہو اور’سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے‘ ہونے کا پیغام دینے کی کوشش کی ہو، لیکن یہ پیغام اسی طرح نہ تو بی جے پی قائدین اور کارکنوں کے درمیان پہنچا ہے اور نہ ہی عام لوگوں کے پاس۔ یعنی حکومت اور تنظیم کی سطح پر تبدیلی کی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ سیاسی دنیا میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کو وزیر اعلیٰ بنانا بی جے پی اور آرایس ایس کے اعلیٰ قائدین کو اب ایسا فیصلہ سمجھ میں آرہا ہے جسے اب برقرار رکھنا یا بدلنا، دونوں ہی صورتوں میں نقصان کا سودا ثابت ہوتا نظر آرہا ہے، کیونکہ یوگی نے بی جے پی کی دکھتی رگ پکڑ رکھی ہے۔

گزشتہ 4 سالوں کے دوران بطور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی جس طرح کی تصویر ابھر کر سامنے آئی ہے، اس کے سامنے 4 سال پہلے کے ان کے کئی حریف کافی پیچھے رہ گئے ہیں۔ یوگی نے بطور وزیر اعلیٰ خود کو ویسا ہی بنالیا ہے جیسے وزیر اعظم کے طور پر نریندر مودی ہیں۔ مذہبی انتہا پسندی جیسے کئی ایشو میں یوگی، مودی سے کئی گنا آگے ہیں اور ایسا ہی دکھاتے بھی ہیں۔ یوپی میں وزراء اور ممبران اسمبلی کی حیثیت ویسی ہی ہے جیسا کہ مرکز میں وزراء اور ممبران پارلیمنٹ کی ہے۔ یہاں بھی نوکر شاہوں کے ذریعہ حکومت چل رہی ہے اور مرکز میں بھی۔ گزشتہ کچھ عرصہ میں صاف نظر آیا ہے کہ یوپی میں بی جے پی کے ممبران اسمبلی ایوان میں صرف گنتی کے لیے رہ گئے ہیں، بصورت دیگر ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

حکومت میں رہ کر یوگی نے خود کو کٹر مذہبی لیڈر کے طور پر پیش کیا جو بی جے پی کی روایتی سیاست کا اہم عنصر ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ بی جے پی کو یوپی میں بھی یوگی کے علاوہ کوئی ویسا نہیں دکھائی دے رہا ہے جیسا کہ مرکز میں مودی کا کوئی متبادل نظر نہیں آتا، مگر ایسا نہیں ہے۔ دونوں کے متبادل بھی ہیں اور ان سے بہتر بھی ہیں۔ صرف متبادل اور بہتر میں فرق کرنے کی تمیز درکار ہے۔ سال 2017 کے اسمبلی انتخابات بغیر چہرہ بی جے پی میدان میں اتری تھی کیونکہ اس وقت بی جے پی کے پاس قیادت کا بحران تھا۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد وزیر اعلیٰ عہدے کے لیے منوج سنہا مضبوط دعویدار مانے جارہے تھے جب کہ اس وقت کے ریاستی صدر کیشو پرساد موریہ اور یوگی آدتیہ ناتھ بھی دعویداروں کی لائن میں کھڑے تھے۔

ریاست میں وزیر اعلیٰ کو لے کر کئی دن تک کسرت اور شدید ہنگامہ آرائی کا سلسلہ جاری رہنے کے دوران یوگی آدتیہ ناتھ نے لڑکر وزیراعلیٰ کے عہدے پر قبضہ کرلیا۔ اس دوران وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے یوگی آدتیہ ناتھ کے طرزعمل پر کئی بار سوالات اٹھائے گئے تھے، نظم ونسق کے معاملے پراب تک وہ اپوزیشن کے نشانے پر ہیں اور اپوزیشن کے علاوہ خود ان کی پارٹی کے لوگ بھی ان پر ’یوگی ہونے کے باوجود نسل پرست ذہنیت‘ کے الزامات لگا چکے ہیں۔ ان سب کے باوجود یوگی آدتیہ ناتھ کی تصویر بی جے پی کے ’فائر برانڈ پرچارک‘ اور ہندوتوا کے علامتی لیڈر کے طور پر بنتی گئی۔ ان سب کی وجہ سے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ان کی تمام خامیوں کو بھی نظرانداز کر دیا گیا۔

اب جب کہ بی جے پی ایک بار پھر ریاست کے اسمبلی انتخابات کا سامنا کرنے کی تیاری کر رہی ہے تو وہ کشمکش میں ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں یوگی آدتیہ ناتھ کے طرزعمل سے پارٹی کی شبیہ کافی خراب ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے گزشتہ دو ہفتوں سے دہلی اور لکھنؤ میں آر ایس ایس اور بی جے پی کے تمام رہنماؤں کی ملاقاتوں کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ یوپی میں قیادت میں تبدیلی آسکتی ہے۔ قیادت کا بحران ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے اور حالات بتاتے ہیں کہ کچھ فیصلہ ضرور لیا جائے گا۔ بی جے پی اعلیٰ قیادت ابھی انتظار کے موڈ میں نظر آرہی ہے۔ پارٹی باہر کے کسی تنازعہ سے بچنا چاہتی ہے کیونکہ اس سے اسے نقصان ہوگا۔ مودی اور یوگی کی خاموشی یوگی کے لیے بڑا طوفان لاسکتی ہے۔

صاف ہے کہ موجودہ تنازعہ کے خالق یوگی آدتیہ ناتھ ہی ہیں اس لئے مرکزی قیادت کچھ نہ کچھ فیصلہ تو کرے گی۔ مودی کی بی جے پی پر نظر رکھنے والوں کو یقین ہے کہ اگر یوگی آدتیہ ناتھ، مودی اور امت شاہ کی شرائط پر تیار نہیں ہوئے تو پھر ان کا برقرار رہنا مشکل ہے۔ اس لئے کہ مودی، شاہ کی ڈکشنری میں متبادل کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ تمام ریاستوں میں انہوں نے اپنے حساب سے وزیر اعلیٰ بنائے ہیں۔ 2014 سے پہلے ریاستوں میں بی جے پی کی مضبوط لیڈر شپ ہوتی تھی لیکن جب سے نریندر مودی نے بی جے پی کو کنٹرول کرنا شروع کیا تب سے انہوں نے ہر جگہ اپنے مہرے بٹھانا شروع کر دیئے۔ انہوں نے ایسے لوگوں کو نوازا جن کی اپنی کوئی بنیاد نہ ہو اور ہر وقت ان کے ہی وفادار بن کر رہیں۔

اس فہرست میں تروندرسنگھ راوت (اتراکھنڈ)، دیوندرفڑنویس (مہاراشٹر)، رگھورداس (جھارکھنڈ)، منوہرلال کھٹر (ہریانہ)، جے رام ٹھاکر (ہماچل پردیش)، تیرتھ سنگھ راوت (اتراکھنڈ) وغیرہ کا نام لیا جاسکتا ہے۔ ان لیڈروں کے ساتھ چاہے جو بھی کیا گیا ہو مگر آج بھی یہ سبھی مودی اور شاہ کے وفادار اور فرمانبردار بنے ہوئے ہیں مگر یوگی آدتیہ ناتھ ان کے ہاتھ سے باہر نکلتے نظر آرہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اب یوگی سے نجات پانا چاہتے ہیں۔ مذکورہ لیڈروں کو جب چاہا ہٹا دیا اور جب چاہا بٹھا دیا، لیکن یوگی ان کے گلے کی ہڈی بنتے جا رہے ہیں۔ اس وقت یوپی میں مودی اور یوگی کی حالت سانپ-چھچھوندر والی ہوگئی ہے یعنی نہ چھوڑا جاسکتا ہے اور نہ نگلا جاسکتا ہے۔ تحریر کا ماحصل یہ ہے کہ یوپی میں یوگی کا رہنا یا جانا دونوں صورتوں میں بی جے پی کے لئے نقصان دہ ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔