بی جے پی کو ہوگیا احساس! ’برے دن آنے والے ہیں‘

نوجوانوں، طلباء اور ملازمت کے متلاشی بے روزگاروں نے مودی کی تقاریر پر بھروسہ کرکے بی جے پی کو ووٹ دیا تھا۔ کیونکہ ان کو بھروسہ تھا کہ ’اچھے دن‘ شاید آنے والے ہیں۔

بھارتیہ جنتاپارٹی(بی جے پی)کا دوروزہ مجلس عاملہ کااجلاس دہلی میں اتوارکواختتام پذیرہوگیا۔اس جلاس سے اندازہ لگایا جارہا تھاکہ ملک کے جلتے ہوئےمسائل جیسے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں لگا تاراضافہ اور رافیل سودے میں مبینہ بدعنوانی پرحکمراں پارٹی کے خلاف بڑھتی عوامی ناراضگی پرقابوپانے کے لئے کچھ خوش کن اعلانات کئے جاسکتے ہیں ، مگرپورے اجلاس میں عوامی مسائل کوپس پشت ڈال کرمحض آئندہ پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے ایجنڈے کوہی سامنے رکھاگیا۔اس اجلاس پرنظررکھنے والے سیاسی ماہرین اورتجزیہ کاروں کے مطابق بی جے پی کویہ امیدنہیں تھی کہ2019کے عام انتخابات کے قریب آنے تک اس طرح کے مسائل سرخیوں میں رہیں گے جوآج پارٹی کے لئے مصیبت بن گئے ہیں۔مثال کے طورپردلتوں کامعاملہ،آئینی مسائل،اعلیٰ ذاتوں کے درمیان بلندہوئی مخالفت کی آواز وغیرہ۔

جن مسائل پر ہر جگہ بحث ہورہی ہے خواہ وہ مہنگائی ہو،پٹرول کی قیمتیں بڑھنے کی بات ہو،روپئے کی قدرمیں گراوٹ ہو،دلتوں کے ساتھ استحصال کامعاملہ ہویاخواتین کے خلاف بڑھتے جرائم ہوں۔بی جے پی لیڈروں نے ان مسائل پربات تک کرناگوارا نہیں کیا۔جب کہ بی جے پی کارکنوں سے لے کرپارٹی اعلیٰ قیادت تک کوان سبھی مسائل کی معلومات ہے۔جس طرح سے پٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی اس سے کارکنوں کے درمیان بھی زبردست ناراضگی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اترپردیش کے دیوریاسے رکن پارلیمنٹ کلراج مشرا جیسے اہم لیڈرکویہ ٹوئٹ کرناپڑتاہے کہ ہمیں اعلیٰ ذاتوں اورمتوسط طبقے کابھی خیال رکھناچاہئے اوریک طرفہ پالیسی نہیں بنانی چاہئے۔اس لئے جتنے بھی مسائل ملک میں چل رہے ہوتے ہیں ان پرپارٹی کے اندربحث ضرورہوتی ہے مگرقومی مجلس عاملہ جیسے پلیٹ فارموں پراب ان مسائل پرکھل کربات ہونابندہوگئی ہے۔

ایک زمانے میں ملک میں چل رہے مسائل پرکھل کربحثیں ہوتی تھیں،تلخ تنقیدیں ہوتی تھی اوریہ تنقیدیں صحافیوں تک بھی پہنچ جاتی تھیں لیکن موجودہ وقت میں توان اجلاس میں اچھی اچھی سنائی دینے والی باتیں ہی ہورہی ہیں۔بی جے پی صدرامت شاہ کاتومحض ایک ہی ہدف ہے اوروہ ہے سیاست۔ان کازورکارکنوں کاحوصلہ برقراررکھنے پرہے تاکہ بی جے پی پچھلے انتخابات میں جتنی سیٹیں جیت کراقتدارمیں آئی تھی،اس باراس سے زیادہ سیٹیں جیتے۔لیکن پارٹی کے رہنماکارکنوں سے قریب ہوکران کے جذبات، خواہشات اورشکایات سننے کوتیارنہیں ہیں۔

موجودہ وقت میں جس مسئلے کولے کراپوزیشن میں رہتے ہوئے نریندرمودی خوب بولتے تھے آج وہی مسئلے ان کے گلے پڑگئے ہیں تواس کاذمہ داربین الاقوامی بازارکوٹھہرایاجارہاہے جب کہ ملک کے عوام کوراحت دلاناحکومت اورانتظامیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے اورعوام حکومت بھی اسی لئے بناتے ہیں تاکہ ان کی باتیں سنی جاسکیں اوران کاحل کیاجاسکے ، لیکن بی جے پی حکومت توہندوستان کے لوگوں کوبین الاقوامی حالات کاحوالہ دے کراپنے ہاتھ کھڑے کرنے کی کوشش کررہی ہے۔مرکزی وزیرقانون اورپارٹی کے سینئرروی شنکرپرساد پریس کانفرنس میں صاف طورپرمہنگائی کی ذمہ داری لینے سے انکارکرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پٹرول،ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کوکم کرناہمارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ ڈالرکے مقابلے روپئے کی قدرمیں لگاتارگراوٹ ہورہی ہے،اس کاسب سے زیادہ اثرطلباء پرپڑے گا۔

2014سے پہلے نریندرمودی اپنی ہرتقریرمیں روپئے کے گرنے کاذکرباربارکرتے تھے اوراس کااثربھی پڑا۔یہی وجہ تھی کہ اس وقت ملک کے نوجوانوں،طلباءاورملازمت کے متلاشی بے روزگاروں نے مودی کی تقاریرپربھروسہ کرکے بی جے پی کوووٹ دیاتھا۔ان سبھی کوکہیں نہ کہیں ایک بھروسہ ہورہاتھاکہ ’اچھے دن‘شایدآنے والے ہیں اوراب حال یہ ہے کہ اب یہ اچھے دن والانعرہ ہی بی جے پی کوالٹاپڑرہاہے۔اترپردیش اور دیگر ریاستوں میں اس نعرے کامذاق بنایاجارہاہے۔اس کے ساتھ ہی مودی حکومت سے کسان بہت زیادہ ناراض ہیں۔کسانوں کوایسالگ رہاہے کہ انہیں ان کی فصل کی کم ازکم حمایت قیمت نہیں مل رہی ہے۔

اگرآئندہ ریاستی انتخابات کاذکرکریں توبی جے پی کے پالیسی سازیہی کہتے ہیں کہ ہمارے پاس مودی کارڈہے اورآخرمیں وہی کام کرے گا۔ان کادبی زبان میں یہ بھی کہناہے کہ کرناٹک جیسے صوبے تک میں مودی کے چہرے کوآگے رکھاگیامگرکچھ وجوہات سے وہاں پارٹی کواکثریت نہیں مل پائی۔حالانکہ ان وجوہات پربی جے پی کاکوئی لیڈرکھل کربات کرنے کوتیارنہیں ہے۔کرناٹک میں مودی کی ریلیوںمیں نہ توبھیڑپہنچ رہی تھی اورنہ ہی بی جے پی کے حق میں ماحول بنتانظرآیا، حالانکہ پارٹی نے اس ریاست میں اقتدارحاصل کرنے کی کوئی کورکسرنہیں چھوڑی تھی۔ایسے میں اتناتوصاف ہے کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں بھی بی جے پی مودی کارڈہی کھیلے گی۔تب یہ دیکھنادلچسپ ہوگاکہ چھتیس گڑھ اورمدھیہ پردیش جیسے صوبوں میں جہاں15سال سے بی جے پی حکومت میں ہے وہاں اقتدارمخالف لہر روک پاتے ہیں یانہیں۔جیسے گجرات اسمبلی انتخابات میں مودی بی جے پی کوجیت دلانے میں توکامیاب رہے لیکن اتنی بڑی جیت نہیں دلواسکے جتنی ان سے امیدکی جارہی تھی۔

اسی طرح سننے کومل رہاہے کہ راجستھان میں حکومت مخالف لہربہت زیادہ ہے توکیامودی فیکٹراسے دورکرپائے گا،وہ بھی اس وقت جب راجستھان کی وزیراعلیٰ وسندھراراجے اپنے آپ میں کافی بڑی لیڈرمانی جاتی ہیں۔اگرہم سال04- 2003 میں اٹل بہاری باجپئی کے دورکاجائزہ لیں تب بی جے پی ہی اقتدارمیں تھی اوروہ انتخابات کی تیاری کرری تھی۔اس وقت بھی بی جے پی کافی مضبوط نظرآرہی تھی۔پارٹی کی خوداعتمادی ساتو یں آسمان پرتھی۔پارٹی کے پاس پرمودمہاجن جیسے چالاک سیاسی حکمت عملی بنانے والے تھے۔اس وقت اترپردیش میں مقامی کارکنانوں کاحوصلہ کافی پست تھا،انہیں پہلے محسوس ہوچکاتھاکہ وہ ہارنے والے ہیں۔اس وقت آرایس ایس نے بھی بی جے پی کے ساتھ پوری طرح تعاون نہیں کیاتھاکیونکہ آرایس ایس اوراٹل بہاری باجپئی کے درمیان بہت سے اختلافات تھے۔موجودہ وقت میں بھی مقامی کارکنان مایوس ہیں اورپست نظرآرہے ہیں،فرق صرف اتناہے کہ ابھی آرایس ایس کانریندمودی سے دل نہیں بھرا ۔حالانکہ تنظیم کوبھی پوری طرح معلوم ہے کہ بھگوابرگیڈکے لئے آنے والے دن اچھے نہیں ہیں۔

یہ الگ بات ہے کہ اپنی عزت بچانے کے لئے آرایس ایس خفیہ طورپربی جے پی کے لئے کام کررہی ہے اورکسی بھی طرح اسے اقتدار میں لانے کی کوشش میں ہے جب کہ بین الاقوامی سطح پردیکھاجائے توحالیہ دنوں میں بی جے پی کی مقبولیت میں زبردست کمی آئی ہے۔کئی ممالک جوحکمراں طبقے سے دوستی کادم بھرتے تھے وہ آج دھیرے دھیرے الگ ہورہے ہیں۔مودی حکومت کی کئی پالیسیوں سے دنیاکے مختلف ممالک مایوس ہیں اس وجہ سے انہوں نے اب حکومت ہندسے دوری بنانے کافیصلہ کیاہے۔ان حالات سےیہ اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ نریندرمودی کی قیادت والی مرکزکی این ڈی اے حکومت کے دن اب پورے ہوچکے ہیں؟۔

سب سے زیادہ مقبول