سیاسی

بہار میں مودی جی کا نتیش-پاسوان کے لیے ووٹ مانگنا مجبوری یا ساتھیوں کی سینہ زوری!

بہار میں پی ایم مودی اپنی پارٹی کے لیے نہیں بلکہ ساتھی پارٹی جنتا دل یو اور ایل جے پی کے لیے ووٹ مانگ رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگار اسے اتحاد کی مجبوری سے زیادہ این ڈی اے ساتھیوں کی سینہ زوری بتا رہے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا

سرور احمد

کوئی وزیر اعظم کسی ایسے علاقے میں انتخابی تشہیر کی شروعات کرے جہاں اس کی اپنی پارٹی کا امیدوار نہ ہو بلکہ اتحادی پارٹی کا امیدوار میدان میں ہو تو اس میں کوئی برائی تو نہیں ہے، لیکن بہار میں سیاسی تجزیہ نگار اس کے گہرے معنی نکال رہے ہیں۔ پی ایم نریندر مودی نے بہار میں لوک سبھا انتخاب کی تشہیر کی شروعات 2 اپریل کو جموئی اور گیا لوک سبھا سیٹ سے کی۔ مودی کے اس انتخابی جلسہ میں بہار کے وزیر اعلیٰ اور ان کے ساتھی پارٹی جنتا دل یو کے سربراہ نتیش کمار اور ایل جے پی سربراہ رام ولاس پاسوان بھی تھے۔ جموئی سیٹ سے پاسوان کے بیٹے چراغ پاسوان امیدوار ہیں۔ جب کہ گیا سے نتیش کی پارٹی جنتا دل یو کے وجے مانجھی میدان میں ہیں۔ وجے مانجھی کا مقابلہ ہندوستانی عوام مورچہ کے جیتن رام مانجھی سے ہے جو آر جے ڈی-کانگریس مہاگٹھ بندھن کے مشترکہ امیدوار ہیں۔

ان دونوں سیٹوں اور اورنگ آباد اور نوادہ سیٹ پر پہلے مرحلہ میں 11 اپریل کو ووٹنگ ہونی ہے۔ دلچسپ یہ ہے کہ اورنگ آباد سے بی جے پی کے امیدوار سشیل سنگھ میدان میں ہیں جو موجودہ رکن پارلیمنٹ بھی ہیں۔ ویسے تو بی جے پی نے بہار میں اپنی انتخابی تشہیر کی شروعات 29 مارچ کو کی تھی جب بی جے پی صدر امت شاہ نے اورنگ آباد میں ایک انتخابی جلسہ کیا تھا۔ لیکن وہ جلسہ بہت زیادہ کامیاب نہیں مانا گیا اور میڈیا میں بھی اس کا کوئی خاص اثر دیکھنے کو نہیں ملا۔ لیکن 2 اپریل کی مودی کی ریلی کو لے کر کافی تجسس تھا۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ پی ایم مودی نے جان بوجھ کر بہار میں اپنی تشہیری مہم کی شروعات ان سیٹوں سے کی ہے جہاں ان کی ساتھی پارٹیوں کے امیدوار میدان میں ہیں۔ دراصل بی جے پی ایسا تاثر چھوڑنا چاہتی ہے کہ این ڈی اے میں سب کچھ ٹھیک ہے اور کوئی تلخی یا کشیدگی نہیں ہے۔ یہ سبھی کو معلوم ہے کہ بہار بی جے پی میں اوپر سے نیچے تک اس بات کو لے کر گہری ناراضگی ہے کہ مرکزی اور اعلیٰ قیادت نے ان سیٹوں کو بھی اتحادی ساتھیوں کو دے دیا جو ’جن سنگھ‘ کے زمانے سے پارٹی کا گڑھ مانی جاتی رہی ہیں۔ مثلاً گیا سیٹ کو ہی لے لیجیے، تو اس سیٹ پر 1971 سے اب تک 6 بار بھگوادھاری پارٹی کا قبضہ رہا ہے۔ یہاں سے 1980 اور 1984 میں کانگریس کی فتح ہوئی تھی۔ اس کے بعد یہاں کانگریس نہیں جیت پائی۔ لالو یادو کی پارٹی نے بھی یہاں دو بار فتح حاصل کی، لیکن گیا ہمیشہ سے بھگوا بریگیڈ کی بالادستی والا علاقہ مانا جاتا رہا۔

لیکن اس بار یہ سیٹ جنتا دل یو کے حصے میں گئی ہے جس نے امید کے مطابق کمزور لیڈر وجے مانجھی کو میدان میں اتارا ہے۔ بی جے پی کارکنان کی ناراضگی اس بات کو لے کر ہے کہ پارٹی نے یہاں سے جنتا دل یو کے لیے موجودہ رکن پارلیمنٹ ہری مانجھی کی قربانی دے دی جب کہ جنتا دل یو یہاں سے کبھی فتحیاب نہیں ہو پائی ہے۔

تنہا یہی معاملہ نہیں ہے۔ بی جے پی نے بھاگلپور سیٹ بھی ایک انجانے سے جنتا دل یو امیدوار اجے منڈل کے لیے چھوڑ دی جب کہ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ انتخاب میں بی جے پی کے شاہنواز حسین یہاں سے معمولی ووٹوں کے فرق سے آر جے ڈی کے شیلیش منڈل عرف بلو منڈل سے ہارے تھے۔ اسی طرح نوادہ سیٹ بھی ایل جے پی کے حصے میں چلی گئی ہے جہاں سے مرکزی وزیر گری راج سنگھ رکن پارلیمنٹ ہیں۔ ایل جے پی اس سیٹ سے کبھی نہیں جیت پائی ہے۔ اتنا ہی نہیں، جنتا دل یو نے بی جے پی سے کٹیہار اور کشن گنج سیٹیں بھی حاصل کی ہیں جب کہ بہار کے سیمانچل کی ان دونوں سیٹوں پر بی جے پی نے کافی مشقت کی تھی۔ بی جے پی نے گوپال گنج سے بھی موجود رکن پارلیمنٹ کا ٹکٹ کاٹ کر اس سیٹ کو جنتا دل یو کی جھولی میں ڈال دیا۔

بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ سیوان کے موجودہ رکن پارلیمنٹ او پی یادو کو بھی اپنی سیٹ جنتا دل یو کی کویتا سنگھ کے لیے چھوڑنی پڑی ہے۔ ان کا مقابلہ آر جے ڈی لیڈر محمد شہاب الدین کی بیوی حنا شہاب سے ہے۔ شہاب الدین ان دنوں تہاڑ جیل میں ہیں۔ جنتا دل یو کی نظریں دربھنگہ سیٹ پر بھی تھیں، جہاں سے پچھلی بار بی جے پی کے ٹکٹ پر کیرتی آزاد جیتے تھے۔ لیکن وہ اب کانگریس میں شامل ہو گئے ہیں۔ یہاں سے نتیش کمار اپنے چہیتے سنجے جھا کو میدان میں اتارنا چاہتے تھے۔ انھیں یہ سیٹ جب نہیں ملی تو انھوں نے برسرعام اپنے غصے کا اظہار کیا اور اس کے لیے امت شاہ کو قصوروار ٹھہرایا۔

بی جے پی کی دقت یہ ہے کہ یہ سبھی سیٹیں جو اس نے چھوڑی ہیں، ان پر ٹھیک ٹھاک تعداد میں مسلم آبادی ہے اور بی جے پی ہمیشہ ان سیٹوں پر ہندو کارڈ کھیلتی رہی ہے۔ یہ سیٹیں زیادہ تر شہری مانی جاتی ہیں جو کہ بی جے پی کے لیے بالکل معقول ماحول ہے، اور ان سیٹوں پر نہ تو جنتا دل یو اور نہ ہی ایل جے پی کو مضبوط مانا جاتا ہے۔ لیکن ان سیٹوں کی تقسیم میں بی جے پی کو بڑی قربانی دینی پڑی۔ پچھلی بار بی جے پی نے 30 سیٹوں پر انتخاب لڑا اور 22 پر فتح حاصل کی تھی، لیکن اس بار وہ صرف 17 سیٹوں پر ہی انتخاب لڑ رہی ہے۔ اس نے گزشتہ انتخاب میں صرف 2 سیٹیں جیتنے والی جنتا دل یو کو 17 سیٹیں دے دی ہیں۔

ان سب کے درمیان بی جے پی کی اعلیٰ قیادت یہ نہیں ظاہر کرنا چاہتی کہ بہار این ڈی اے میں کوئی شگاف یا انتشار ہے۔ اسی لیے وہ ان سیٹوں پر زیادہ دھیان دے رہی ہے جہاں سے اس کی ساتھی پارٹیوں کے امیدوار میدان میں ہیں۔