مولانا ولی رحمانی نے دین اور دیش کے بہانے نتیش کی شبیہ چمکائی

عمارت شریعہ کی ریلی کا نتیش کمار نے استعمال کیا!

ابھی یہ کسی کو نہیں معلوم پائے گا کہ نتیش کمار اور ولی رحمانی نے ایک دوسرے کی مدد کی یا نقصان پہنچایا۔ لیکن یہ صاف ہو چکا ہے کہ نتیش کمار نے اپنے فائدے کے لئے امارتِ شرعیہ کا استعمال کیا۔

اگر سامعین کی موجودگی کے لحاظ سے دیکھیں تو 15 اپریل کو پٹنہ میں منعقد ’دین بچاؤ-دیش بچاؤ‘ ریلی کامیاب کہی جائے گی، لیکن اس ریلی کا انعقاد کرنے والی امارتِ شرعیہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو پائی یا نہیں، یہ ابھی طے نہیں ہے۔ گرمی کی شدت کے باوجود دور دراز سے ریلی میں شامل ہونے آئے ان مسلمانوں کو دو چیزوں سے بے انتہا مایوسی ہوئی جو اس امید میں آئے تھے کہ اس ریلی میں ان کے دین کی بات ہوگی، ان کے مسائل پر غور کیا جائے گا۔ ایک تو یہ ہوا کہ اس ریلی کے کنوینر خالد انور کو برسراقتدار جنتا دل یو نے ایم ایل سی بنا دیا۔ اس ریلی کا وقت بھی کافی اہم ہے کیونکہ 16 اپریل کو ہی نامزدگی کی آخری تاریخ تھی۔ اور یہ سب اس وقت ہوا جب کہ امارت شرعیہ کے سربراہ اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی یہ دعویٰ کرتے نہیں تھک رہے تھے کہ اس ریلی کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اتنا ہی کافی نہیں تھا کہ اس ریلی کی صدارت کر رہے ولی رحمانی نے برسرعام ریلی کو کامیاب بنانے کے لیے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور مقامی انتظامیہ کا شکریہ بھی ادا کیا۔

ان دو واقعات نے ان مسلمانوں کو بہت مایوس کیا جو اپنا وقت، پیسہ اور توانائی خرچ کر کے اس ریلی میں پہنچے تھے۔ ریلی ختم ہونے پر انھیں یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ آخر ان کے ساتھ دھوکہ کیوں کیا گیا۔ ابھی یہ کسی کو نہیں پتہ چلے گا کہ نتیش کمار اور ولی رحمانی نے ایک دوسرے کی مدد کی یا نقصان پہنچایا۔ لیکن سرسری طور پر تجزیہ کرنے سے یہ تو صاف پتہ چل گیا کہ نتیش کمار نے امارت شرعیہ کا استعمال اپنے فائدے کے لیے ضرورکیا۔

نتیش کمار کے ذریعہ خالد انور کو اپنی پارٹی کی طرف سے ایم ایل سی امیدوار بنائے جانے سے امارتِ شرعیہ کی معتبریت پر سوالیہ نشان تو لگ ہی گیا ہے۔ کیا یہ ساری باتیں کسی خاص تحفے کے لیے کی گئی تھی اور وہ بھی اتنی جلدی؟ ولی رحمانی نے ایسے موقع پر نتیش کمار کی پیٹھ تھپتھپائی ہے جب انھیں اس کی سخت ضرورت تھی۔ خصوصاً بہار میں نتیش کی این ڈی اے میں واپسی کے بعد ہوئے فسادات کے ضمن میں کسی مسلم لیڈر کا ان کے ساتھ آنا کافی اہم ہے۔ اس ریلی سے نتیش کو مسلمانوں کے درمیان اپنی خراب شبیہ کو بہتر بنانے کا موقع حاصل ہوا۔ اسی کے مدنظر ریلی میں جنتا دل یو نے اپنا میڈیکل کیمپ لگایا تھا۔ شہر میں جگہ جگہ لگے ہورڈنگ-بینر بتا رہے تھے کہ سیاسی پارٹی کس طرح اس ریلی میں آنے والے مسلمانوں کا استقبال کر رہی تھیں۔ خاص طور سے جنتا دل یو کے ہورڈنگ تو ہر طرف تھے۔

اس ریلی سے حکومت بہار کو گاندھی میدان کے قریب اقلیتوں کے لیے جاری یا شروع کیے گئے منصوبوں کی تشہیر کا بھی خوب موقع ملا۔ ایک طرف ریلی میں جنتا دل یو اور اس کے لیڈران گلے مل رہے تھے اور دوسری طرف مقررین یکے بعد دیگرے مسلم پرسنل لاء کے نام پر نریندر مودی کی کھل کر تنقید کر رہے تھے۔

اس ریلی سے پہلے مسلمانوں نے اس کی ضرورت پر سوال اٹھائے تھے۔ ان کو اندیشہ تھا کہ اس ریلی سے پولرائزیشن کو فروغ ملے گا۔ لیکن ان سب کے درمیان انھیں قطعی اندازہ نہیں تھا کہ ساری چیزوں کا براہ راست فائدہ نتیش کمار کو ملے گا۔ ریلی میں پاس ہوئے قرارداد میں مسلمانوں، ایس سی-ایس ٹی، او بی سی اور دوسرے اقلیتی طبقات کے ایشوز کو اٹھایا گیا، لیکن حال کے دنوں میں بہار میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات پر خاموشی اختیار کی گئی ۔

قرارداد میں کٹھوعہ اور اُناوّ عصمت دری کے ملزمین کو سخت سزا دینے کا مطالبہ تو کیا گیا لیکن اورنگ آباد، بھاگلپور، روسڑا اور بقیہ مقامات پر ہوئے فسادات کا تذکرہ تک نہیں ہوا ۔ اور یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب امارتِ شرعیہ بنیادی طور پر بہار کا ہی مذہبی و سماجی ادارہ ہے۔ کئی سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ دراصل اس ریلی کے بہانے نتیش کمار نے ولی رحمانی سے اپنی اس بے عزتی کا بدلہ لیا ہے جو انھوں نے تقریباً ساڑھے پانچ سال قبل کی تھی۔

22 نومبر 2012 کو پٹنہ کے شمس الہدیٰ مدرسہ کی ایک تقریب میں نتیش کی موجودگی میں ہی ولی رحمانی نے بہار حکومت کی اس بات کے لیے تنقید کی تھی کہ حکومت نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی برانچ کے لیے کشن گنج میں جگہ مہیا نہیں کرائی۔ نتیش کے قریبیوں کا کہنا تھا کہ جس لہجے میں رحمانی نے یہ بات کہی تھی اس سے نتیش کمار بے حد خفا تھے۔ اور، آج امارتِ شرعیہ کے امیر یہ سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ نتیش کمار ان کی تعریف کر رہے ہیں یا بدلہ لے رہے ہیں اور ان سب کے درمیان نتیش کمار کے ماسٹر اسٹروک کھیلنے کے بعد تین طلاق کا کہیں دور دور تک تذکرہ ہی نہیں ہوا۔

سب سے زیادہ مقبول