بنگلہ دیش تنازعہ: یہ تاریخی بوجھ اتار پھینکنے کا وقت ہے... جواہر سرکار
نریندر مودی کے ہندوستان نے تب بھی آنکھیں پھیر لی تھیں جب شیخ حسینہ نے 2009 سے 2025 کے درمیان وزیر اعظم کے طور پر بدعنوان آمرانہ طرز حکمرانی کے اسی پیٹرن کو دہرایا۔

5 اگست 2024 کو شیخ حسینہ کا زوال ایسا واقعہ تھا جس کے بارے میں سب پہلے ہی کہہ رہے تھے، سوائے نئی دہلی کے اُن ’سرکاری آپریٹرز‘ کے جو اپنے دبنگ ایجنڈے پر قائم رہے۔ ’چیف ایڈوائزر‘ کے طور پر محمد یونس کی قیادت میں عجلت میں بنائی گئی عبوری حکومت نے حالات کو مزید بگاڑ دیا اور بنگلہ دیش میں ’دہشت کی حکمرانی‘ شروع ہو گئی۔ تقریباً 400 پولیس اسٹیشن جلا دیے گئے۔ اے آئی سے تقویت یافتہ سرچ نتائج بتاتے ہیں کہ ’اگست 2024 سے اب تک ہجوم کے تشدد میں 600 سے زیادہ اموات، انتقامی تشدد میں 250 اموات اور 40 غیر عدالتی ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔‘ یقیناً ان میں کچھ ہندو بھی تھے، لیکن متاثرین میں اکثریت مسلمانوں اور عوامی لیگ کے حامیوں کی تھی۔
ایسے وقت میں ہندوستان کا غصہ پر مبنی بیان بازی کے بجائے ضبط اور سمجھ داری پر مبنی سفارت کاری کا سہارا لینا زیادہ فائدہ مند ہو سکتا تھا۔ اپنے غصہ کو ہر حال میں جائز ٹھہراتے ہوئے ہندوستان نے سہولت کے ساتھ اس حقیقت کو نظر انداز کر دیا کہ ملک میں اقلیتوں کو نشانہ بنانا ایک قومی مشغلہ بن چکا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان میں 100 سے زیادہ مسلمانوں کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا (صرف 2025 میں ہی ہجوم کے تشدد میں 25 مسلمانوں کی موت ہوئی)۔
ہندوستان میں بنگلہ دیش مخالف جو غصہ پھیلا، اسے مجموعی طور پر سکھائے پڑھائے میڈیا نے ہوا دی۔ برسراقتدار دائیں بازو کی ہندو پارٹی کی غیر ذمہ دار سوشل میڈیا پوسٹس میں واضح طور پر نہ صرف بنگلہ دیش اور بنگلہ دیشی مسلمانوں کے خلاف بلکہ ہندوستان میں طویل عرصہ سے رہنے والے بنگلہ بولنے والے شہریوں کے خلاف بھی نفرت پھیلائی گئی۔
18 دسمبر 2025 کو شریف عثمان ہادی کی موت (دو موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں کی فائرنگ میں) کے بعد ہندوستان مخالف جذبات کی نئی لہر شروع ہوئی۔ 2024 کی طلبا بغاوت کے سرکردہ رہنما اور ہندوستانی بالادستی کے کھلے ناقد ہادی کے تند و تیز بیانات 2026 کے انتخابات سے پہلے خاصے مقبول ہو رہے تھے۔
1947 کے تشدد نے اُس وقت کے مشرقی پاکستان سے ہندوؤں کی ہندوستان ہجرت کو بڑھاوا دیا، جس کے باعث وہاں ہندو آبادی 28 فیصد سے گھٹ کر 8 فیصد رہ گئی۔ تاہم ان میں بہت سے ہندوؤں اور بنگالی مسلمانوں نے بھی بہتر معاشی مواقع کی تلاش میں ہجرت کی تھی۔ پھر بھی، سرحد کے دونوں طرف زہریلے عناصر کو نفرت میں ڈوبا رہنے کے لیے باقاعدہ ’خوراک‘ درکار ہوتی ہے۔ لہٰذا، ہندوستان کو ہر زیادتی یا اشتعال پر ردِعمل سے گریز کرنا چاہیے۔
بنگلہ دیش کے ووٹرس نے ابھی اپنے پتّے نہیں کھولے ہیں اور ہندوستان نے اب تک باضابطہ طور پر پڑوس میں اپنا واحد دوست ’کھویا‘ نہیں ہے۔ کوئی بھی مزید غلطی نہایت مہلک اور طویل المدت نتائج دے سکتی ہے۔ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بہت سے بنگلہ دیشی مسلمانوں کو بنگالی ہندو ’بھدرجن‘ کے خلاف جائز تاریخی شکایت ہے، جنہوں نے برطانوی راج کے 2 صدیوں کے دوران استحصالی زمینداری سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور تعلیم تک پہلے اور بہتر رسائی کے باعث سرکاری ملازمتوں پر قبضہ کر لیا۔
بہت سے ہندوستانیوں کو شکایت ہے کہ بنگلہ دیشی اپنی آزادی کے لیے ہمیشہ کے مقروض نہیں رہے۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ بنگلہ دیشیوں نے خود پاکستان اور اس کی فوج کا سامنا کرنے میں کتنی قربانیاں دیں۔ یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ بین الاقوامی تعلقات میں ہمیشہ احسان مند رہنے جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر ویتنام اب چین کے ساتھ دشمنوں جیسا برتاؤ کرتا ہے، حالانکہ چین ہی نے امریکہ کے ساتھ طویل جنگ میں اس کا سب سے زیادہ ساتھ دیا تھا۔ اس کے علاوہ، جیسا کہ کارپمین کے ڈراما ٹرائینگل کے نفسیاتی ماڈل سے ظاہر ہوتا ہے، ایک وقت کے بعد بچانے والے کے کردار کو اصل مسئلہ حل کرنے والے کے بجائے موردِ الزام ٹھہرانے کے زاویے سے دیکھا جانے لگتا ہے۔
ہندوستان نے جنوری 1972 میں ڈھاکہ پر (غیر موجود) مجیب الرحمن کو مسلط کر کے پہلی بڑی غلطی کی، اور اسی عمل میں ضیاء الرحمٰن جیسے لوگوں کو نظر انداز کر کے ناراض کر دیا، حالانکہ دراصل انہی لوگوں نے زمین پر پاکستان کی گولیوں کا سامنا کیا تھا۔ مکتی باہنی کو 16 دسمبر 1971 کو ڈھاکہ میں ہندوستانی فوج کے سامنے پاکستانی فوج کے ہتھیار ڈالنے کا گواہ بننے سے الگ رکھے جانے کی توہین آج بھی چبھتی ہے۔ اس کے بعد ہندوستان نے مجیب کی بڑھتی آمریت اور مبینہ بدعنوان حکومت کا ساتھ دیا، جبکہ 75-1974 میں سیلاب اور قحط نے بنگلہ دیش کو تباہ کر دیا تھا۔ سرکاری اندازوں کے مطابق مرنے والوں کی تعداد تقریباً 27 ہزار تھی، جبکہ آزاد مطالعات کے مطابق یہ تعداد 15 لاکھ تک ہو سکتی ہے۔
ہندوستانیوں کو اس حقیقت سے ناواقف رکھا گیا، اسی لیے مجیب کی ناکامیوں کے لیے ہندوستان کے خلاف نفرت انگیز غصہ کے تحت بنگلہ دیش میں مجیب کے مجسموں اور یادگاروں کو نقصان پہنچائے جانے پر ہندوستانی حیران ہیں۔ نریندر مودی کے ہندوستان نے تب بھی آنکھیں پھیر لیں جب حسینہ نے 2009 سے 2025 کے درمیان وزیر اعظم کے طور پر بدعنوان آمرانہ طرزِ حکمرانی کے اسی پیٹرن کو دہرایا۔ پچھلے 3 انتخابات صاف طور پر دھاندلی زدہ تھے، لیکن ہندوستان کے الیکشن کمیشن کی جانب سے بھیجے گئے مبصرین نے ہر بار آزاد اور منصفانہ انتخابات کی شاندار رپورٹ دی۔
جس بات نے بنگلہ دیشیوں کو اور زیادہ تکلیف پہنچائی، وہ یہ تھی کہ شیخ حسینہ نے ایسے شخص کے سامنے سر جھکا دیا جسے مسلمان اور آزاد دنیا ناپسند کرتی ہے۔ وہ اس وقت دنگ رہ گئے جب انہوں نے ہندوستان کے چہیتے سرمایہ دار گوتم اڈانی کو فائدہ پہنچانے کے لیے 2015 میں جھارکھنڈ کے گوڈا میں اپنے 1600 میگاواٹ کے کوئلہ پلانٹ سے بجلی برآمد کرنے کے لیے 1.7 ارب ڈالر کی ڈیل پکی کروائی۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ وزیر اعظم اور ان کے وزیر خارجہ نے پردے کے پیچھے کام کر کے 163 صفحات پر مشتمل یکطرفہ بجلی خرید معاہدہ کرایا، جس کے تحت بنگلہ دیش کو ہر سال اڈانی کو 4.55 ارب ڈالر دینے ہوں گے، چاہے بجلی سپلائی ہو یا نہ ہو۔
ایک رکن پارلیمنٹ کے طور پر میں نے وزیر خارجہ کے سامنے اڈانی کی جانب سے لاگت اور قیمت میں ہیر پھیر کر کے زیادہ منافع کمانے کا مسئلہ اٹھایا تھا۔ انہوں نے گول مول جواب دیا، لیکن حسینہ کے دور حکومت میں ہونے والی عوامی تحریکوں نے اڈانی کو قیمتیں کم کرنے پر مجبور کر دیا۔ معروف بنگلہ دیشی ماہر معاشیات دیب پریہ بھٹاچاریہ کا اندازہ ہے کہ حسینہ کے دور میں سالانہ 16 ارب ڈالر باہر گئے۔ حسینہ کے کتنے مخالفین پولیس تشدد میں مارے گئے، اس کی کوئی اطلاع نہیں۔
اس کے باوجود نریندر مودی کے ہندوستان نے یہ یقینی بنایا کہ حسینہ اقتدار میں برقرار رہیں۔ اس سے حسینہ کے مظالم کے خلاف پیدا ہونے والا غصہ ہندوستان کے خلاف نفرت میں بدل گیا۔ اسلامی دائیں بازو نے حسینہ کی برطرفی کا پورا فائدہ اٹھایا اور بڑی تعداد میں بنگلہ دیشیوں کو اپنی طرف کھینچا تاکہ ہندوستان سے حساب برابر کیا جا سکے اور ہندوستانی دائیں بازو کے ہندوؤں اور حکومت کی جانب سے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے خلاف مزاحمت کی جا سکے۔
اب آگے کیا؟ سب سے پہلے، ہندوستان کو شیخ حسینہ پر اپنا انحصار کم کرنا چاہیے۔ عوامی لیگ بنگلہ دیش میں پابندی کا شکار ہے، لیکن اب بھی سیکولر ووٹوں کا بڑا حصہ اس کے پاس ہے اور حسینہ کی بات ان کے لیے بہت معنی رکھے گی۔ حسینہ کو پارٹی کی سیاست سے اوپر اٹھنا چاہیے۔ اس وقت ملک بھر میں نیٹورک رکھنے والی واحد اور تاریخی طور پر منظم پارٹی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) ہے، جو عوامی لیگ کی سخت دشمن ہے اور اقتدار میں آتی جاتی رہی ہے۔
بی این پی کی بنیاد ضیاء الرحمٰن نے رکھی تھی اور 1981 میں ان کے قتل کے بعد ان کی اہلیہ بیگم خالدہ ضیاء نے پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی۔ وہ 2 بار وزیر اعظم رہیں۔ 31 دسمبر 2025 کو ان کی وفات سے ان کے بیٹے اور جانشیں طارق رحمٰن کے لیے ہمدردی کی ایک بڑی لہر پیدا ہوئی، جو ان کی وفات سے محض 6 دن پہلے لندن میں 17 سالہ جلاوطنی کے بعد بنگلہ دیش لوٹے تھے اور بی این پی کی قیادت اب انہی کے ہاتھ میں ہے۔
جماعت اسلامی کا عروج ڈرامائی رہا ہے۔ یہ ایک سخت ہندوستان مخالف، ہندو مخالف، پاکستان نواز دائیں بازو کی پارٹی ہے جس نے بنگلہ دیش کی جنگ آزادی میں غداری کی اور آزادی کے مجاہدین اور خواتین پر مظالم ڈھائے۔ اس نے پہلے بھی بی این پی کی مدد کی ہے، لیکن کبھی اقتدار میں نہیں رہی۔ اسلامی قوتوں اور ہندوستان مخالف کیمپوں سے ملنے والی فنڈنگ سے مالا مال جماعت نے اعلان کیا ہے کہ اب اس کا وقت آ گیا ہے۔ سابق طلبہ کارکنوں کی جانب سے یونس کی سرپرستی میں بنائی گئی نیشنل سٹیزنز پارٹی (این سی پی) کو زمینی سطح پر حمایت حاصل نہیں۔ جماعت کے ساتھ اس کے انتخابی اتحاد کے باعث کئی نوجوان رہنما، خاص طور پر خواتین، پارٹی چھوڑ چکی ہیں۔
بی این پی یا کسی بھی دوسری پارٹی کا ہندوستان مخالف ہونا تشویش کی اصل بات نہیں۔ یہ تو ہم نے خود پیدا کیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ بی این پی کا زمینی سطح پر مضبوط نیٹورک ہے، اس کے پاس قابل رہنما ہیں اور بیگم خالدہ ضیاء کی وفات کے بعد اسے ہمدردی کے ووٹ ملنے کا امکان ہے۔ اگرچہ بی این پی ہندوستان کی دوست نہیں رہی، لیکن طارق رحمٰن شاید واحد ایسے رہنما ہیں جو بنگلہ دیش کی مشکل سیاسی بساط پر بچی کھچی چیزوں کو بچا سکتے ہیں۔ اگرچہ بنگلہ دیش میں کوئی بھی پارٹی ہندوستان نواز نظر نہیں آنا چاہتی، لیکن دونوں ملک دشمن بن کر تو نہیں رہ سکتے۔
(مضمون نگار جواہر سرکار سابق نوکرشاہ اور راجیہ سبھا کے سابق رکن ہیں)
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔