البغدادی کی ہلاکت سے کیا ختم ہو جائے گی اسلامک اسٹیٹ کی دہشت!

دنیا بھر میں دہشت پھیلانے والے اسلامک اسٹیٹ کا سرغنہ بغدادی ہلاک ہو گیا۔ امریکہ نے ڈی این اے وغیرہ سے جانچ کر اس کی موت کو صحیح ٹھہرایا ہے۔ تو کیا اب مان لینا چاہیے کہ دنیا سے دہشت کا خاتمہ ہو گیا؟

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

تسلیم خان

دنیا کا سب سے خونخوار اور موسٹ وانٹیڈ دہشت گرد ابو بکر البغدادی مارا گیا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے خود اس بات کی تصدیق کی۔ اسے دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس کے خلاف امریکہ کی بہت بڑی فتح تصور کیا جا رہا ہے۔ خبریں ہیں کہ نارتھ ویسٹ سیریا میں امریکی فوج کے کمانڈو کے نرغے میں آنے کے بعد بغدادی ایک غار میں گھس اور وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ دیکھ کر خود کو دھماکہ خیز مادوں سے اڑا لیا۔ اس میں اس کے تین بچے بھی مارے گئے۔

آخر کون تھا ابو بکر البغدادی؟

اسلامک اسٹیٹ کے لیڈر بغدادی کو دنیا کا سب سے خونخوار دہشت گرد مانا جاتا رہا ہے۔ امریکہ نے اسے تقریباً 8 سال پہلے عالمی دہشت گرد قرار دیتے ہوئے اس کے سر پر ایک کروڑ ڈالر یعنی تقریباً 70 کروڑ روپے کا انعام رکھا تھا۔

مانا جاتا ہے کہ بغداد کی پیدائش 1971 میں عراق میں ہوئی تھی۔ 2013 میں اس نے خود کو اسلامک اسٹیٹ کا خلیفہ اعلان کر دیا تھا۔ اس کے بعد 2014 میں وہ عراق کے شہر موصل کی النوری مسجد میں دیکھا گیا تھا، جہاں وہ رمضان کے موقع پر تقریر کر رہا تھا۔ اسی تقریر میں اس نے اسلامک اسٹیٹ کو خلافت اور خود کو اس کا خلیفہ یعنی سربراہ قرار دیا تھا۔ بغدادی کا یہ ویڈیو دنیا بھر میں سب سے زیادہ مشہور ہوا تھا، اور اسی سے اس کی تصویر دنیا کے سامنے آتی رہی ہے۔

آخر کیسے خونخوار دہشت گرد بن گیا بغدادی؟

سال 2014 کے شروع میں بغدادی نے اپنے دہشت گردوں کے ساتھ مل کر مغربی عراق پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد اگلے ایک ڈیڑھ سال میں اسلامک اسٹیٹ نے عراق اور سیریا میں زبردست دہشت گردی اور ظلم کا بازار گرم کیا۔ لوگوں کو قطار میں کھڑا کر کے ان کے سر جسم سے جدا کر دینے والا ویڈیو اسی دور میں سامنے آیا، جنھیں دیکھ کر پوری دنیا کانپ گئی تھی اور تمام ممالک کی حکومتوں نے اس کے خلاف گول بندی شروع کر دی۔

لیکن 2015 ختم ہوتے ہوتے اس نے عراق اور سیریا کے کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا، جن کی آبادی تقریباً سوا کروڑ تھی۔ ان لوگوں پر بغدادی نے ظالمانہ قانون نافذ کر دیا اور اسے شریعہ قانون بتایا۔ یہیں سے دنیا بھر کے تمام ممالک کے گمراہ اور برین واش کیے ہوئے لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور انھوں نے کسی طرح سیریا پہنچ کر اسلامک اسٹیٹ کے لیے جہادی کے طور پر کام شروع کیا۔ ان میں سے کچھ ایک ہندوستان سے بھی تھے۔

ان سب کی وجہ سے اسلامک اسٹیٹ نے تقریباً 30 ہزار دہشت گردوں کی فوج کھڑی کر لی۔ لیکن بین الاقوامی اتحادوں کی فوجوں نے جب مل کر اسلامک اسٹیٹ کے خلاف کارروائیاں شروع کیں تو بغدادی کی تنظیم کمزور پڑنے لگی۔ اسے سب سے زیادہ نقصان اتحادی لیڈروں کے ساتھ سیریا کے کردش پیشمیرا دہشت گردوں کے آنے سے ہوا۔

اس طرح اسلامک اسٹیٹ کا تانا بانا بکھرنے لگا، اور اس کے ہزاروں لڑاکے انڈر گراؤنڈ ہو گئے۔ حالانکہ ان لوگوں نے دنیا کے الگ الگ ممالک میں اسلامک اسٹیٹ کے نام پر کئی حملے کیے۔ ان میں سے 2015 کا پیرس حملہ اور 2019 کا سری لنکا حملہ سب سے بڑا مانا جاتا ہے۔

آخری بار کب نظر آیا بغدادی؟

اسی سال کچھ ماہ پہلے اسلامک اسٹیٹ کی میڈیا وِنگ الفرقان نے ایک ویڈیو پوسٹ کیا، جس میں بغدادی کو دکھایا گیا۔ جولائی 2014 کے بعد بغدادی کا یہ دوسرا ویڈیو تھا جو دنیا کے سامنے آیا۔ مانا گیا کہ اس ویڈیو کے ذریعہ اسلامک اسٹیٹ یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ وہ زندہ ہے اور اسلامک اسٹیٹ کا وجود برقرار ہے۔ اس ویڈیو میں بغدادی نے سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر ہوئے حملے کی ذمہ داری لی اور اسے سیریا کے البغض فاقانی میں اتحادی فوجوں کے ہاتھوں ملی شکست کا بدلہ بتایا۔ اس علاقے سے مارچ میں اسلامک اسٹیٹ کو کھدیڑا گیا تھا۔

کئی اخبارات، رسائل اور آن لائن میڈیا میں دہشت گردانہ معاملوں پر گہری نظر رکھنے والے صحافیوں کی رائے تھی کہ بغدادی کو صرف اسی لیے سامنے آنا پڑا تاکہ وہ بتا سکے کہ اسلامک اسٹیٹ ختم نہیں ہوئی ہے اور وہ اب بھی خلیفہ ہے۔ انڈین ایکسپریس میں صحافی رکمنی کلیماشی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ’’اس ویڈیو کے ذریعہ بغدادی نے بہت بڑا رِسک لیا تھا۔ کیونکہ اس سے پہلے تک بغدادی اپنی سیکورٹی کو لے کر بے حد محتاط اور مستعد رہتا تھا۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ اسلامک اسٹیٹ ٹوٹ رہی تھی، ایسے میں اسے اپنے ملی ٹنٹوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایسا کرنا پڑا ہو۔

تو کیا ختم ہو گئی دہشت گردی اور اسلامک اسٹیٹ؟

دھیان رہے کہ بغدادی کے مارے جانے اور اسلامک اسٹیٹ کے ختم ہو جانے کی خبریں لگاتار آتی رہی ہیں۔ جون 2017 میں روس نے دعویٰ کیا تھا کہ سیریا کے قریب رقہ میں کی گئی بمباری میں بغدادی مارا گیا۔ اس کے دو ہفتہ بعد ہی سیریا کی حقوق انسانی آبزرویٹری نے بھی تصدیق کی کہ بغدادی کا خاتمہ ہو گیا۔ لیکن 2019 میں سامنے آئے ویڈیو نے ان سارے دعووں کو غلط ثابت کر دیا۔

اس دوران امریکہ کی تمام ایجنسیاں اس کی تلاش میں مصروف تھیں۔ مانا جاتا ہے کہ بغدادی عراق-سیریا سرحد پر چھپا ہوا تھا۔ وہ نہ کسی الیکٹرانک ڈیوائس کا استعمال کرتا تھا اور نہ ہی کسی ایسے وسائل کا جس سے اس کی لوکیشن کا پتہ لگ سکے۔

بہر حال، بغدادی کے مارے جانے کی تصدیق ہو گئی ہے۔ تو کیا اس سے اسلامک اسٹیٹ ختم ہو گئی۔ سینئر صحافی کلیماشی کے مطابق ایسا نہیں ہے، کیونکہ اب اسلامک اسٹیٹ بھلے ہی بہت زیادہ علاقوں میں نہ نظر آتے ہوں، لیکن اسے ختم نہیں کہا جا سکتا۔ اسلامک اسٹیٹ کے ہزاروں ملی ٹنٹ سیریا اور عراق میں موجود ہیں، اس کے علاوہ مغربی افریقہ اور فلپائن میں بھی ان کی موجودگی ہے۔ ساتھ ہی ان کے پیر افغانستان تک پہنچ چکے ہیں۔ کل ملا کر بغدادی بھلے ہی مارا گیا ہو، لیکن اس کی دہشت اب بھی ختم نہیں ہوئی ہے۔

Published: 28 Oct 2019, 9:10 PM