مہاتما گاندھی کو برا بھلا کہنا بی جے پی کی عادت میں شامل

Getty Images
Getty Images
user

تنویر احمد

متنازعہ بیانات دے کر خود کو خبروں میں بنائے رکھنا بی جے پی لیڈروں کے لیے مشغلہ بنتا جا رہا ہے۔ نام نہاد ہندوتوا ذہنیت رکھنے والے لیڈران اپنے بیانات دیتے ہوئے اس بات کا بھی خیال نہیں رکھتے کہ وہ اپنی سیاست کو چمکانے کے لیے کسی باوقار شخصیت کے وقار سے کھلواڑ کر رہے ہیں۔ بی جے پی ممبر پارلیمنٹ کامکھیا پرساد تاسا کے ذریعہ 22 اکتوبر کو آسام میں دیا گیا بیان بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ انھوں نے مہاتما گاندھی اور جواہر لعل نہرو جیسی شخصیت اور ان کے اصولوں کو ہی کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’کانگریس نے اتنے سالوں میں لوگوں کے دماغ میں نہرو-گاندھی کا کچرا بھر دیا ہے اور اب کسی دوسرے اصول کے لیے جگہ نہیں چھوڑی۔‘‘ حیرت کی بات یہ ہے کہ جس تقریب میں انھوں نے یہ بیان دیا وہاں آسام کے وزیر اعلیٰ سروانند سونووال بھی موجود تھے لیکن وہ خاموش رہے۔ حالانکہ کانگریس لیڈران اور کارکنان نے کامکھیا پرساد کی سخت تنقید کرتے ہوئے ان کے خلاف کئی مقامات پر مظاہرے کیے اور ایف آئی آر درج کرتے ہوئے بی جے پی ممبر پارلیمنٹ کی گرفتاری کا مطالبہ بھی کیا ہے لیکن آر ایس ایس، وی ایچ پی اور ہندو مہاسبھا جیسی تنظیموں کی سوچ کو فروغ دینے والی بی جے پی کوئی کارروائی ہونے دے تب نہ۔

ویسے گاندھی اور نہرو کے خلاف متنازعہ بیان دینے اور ان کی بے عزتی کرنے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی آر ایس ایس، وی ایچ پی اور بی جےپی لیڈران خبروں میں بنے رہنے اور خود کو ہندوؤں کا مسیحا ثابت کرنے کے لیے ایسا کرتے رہے ہیں۔ ان میں امت شاہ، وجے گوئل، سادھوی پراچی، ساکشی مہاراج، کیلاش وجے ورگیہ، آچاریہ دھرمیندر، انل وِز جیسے متعدد لیڈران شامل ہیں۔ یقیناً آپ کو بی جے پی سربراہ امت شاہ کا وہ بیان یاد ہوگا جب اسی سال جون میں انھوں نے ایک تقریب کے دوران مہاتما گاندھی کو ’چتُر بنیا‘ کہہ کر ان کا مذاق اڑایا تھا۔ اسی طرح مئی 2017 میں مرکزی وزیر وجے گوئل نے کہہ دیا کہ ’’نریندر مودی ملک کے دوسرے گاندھی ہیں۔‘‘ دلچسپ بات یہ ہے کہ کامکھیا پرساد مہاتما گاندھی کو کچرا کہہ رہے ہیں، اس طرح تو نریندر مودی بھی کچرا ہی قرار پائیں گے۔

اب ذرا وشو ہندو پریشد سے وابستہ سادھوی پراچی اور بی جے پی ممبر پارلیمنٹ ساکشی مہاراج جیسے فائر برانڈ لیڈروں کے بیان بھی دیکھیے جو مہاتما گاندھی کے وقارکو کس طرح مجروح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مارچ 2015 میں بہرائچ کی ایک تقریب میں زہر افشانی کرتے ہوئے سادھوی پراچی نے کہا کہ ’’ملک کو آزادی مہاتما گاندھی کے تکلی کاتنے سے نہیں ملی بلکہ ساورکر، بھگت سنگھ، رام پرساد بسمل جیسے مجاہدین کی قربانیوں کی وجہ سے ملی۔‘‘ اتنا ہی نہیں سادھوی نے مہاتما گاندھی کو انگریزوں کا ایجنٹ تک قرار دے دیا۔ کچھ اسی طرح کا بیان بی جےپی لیڈر کیلاش وجے ورگیہ نے بھی دیا اور کہا کہ ’’ملک کو آزادی سابرمتی کے سنت نے نہیں بلکہ مجاہدین نے دلائی۔‘‘ ساکشی مہاراج نے ان سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے نومبر 2016 میں ایک بیان دیا جس میں کہا کہ ’’مہاتما گاندھی نے ملک کو تقسیم کروایا اور خون خرابہ بھی کرایا۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہہ ڈالا کہ ’’فاروق عبداللہ اور مہاتما گاندھی ایک ہی باپ کی اولاد ہیں۔ دونوں کو ہی ملک تقسیم کرنے میں مزہ آتا ہے۔‘‘ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس طرح کے بیانات اکثر و بیشتر دیے جاتے رہے ہیں جو کسی بھی محب وطن کا خون کھولا دے، لیکن بی جے پی نے کبھی اس پر قدغن لگانے کی کوشش نہیں کی۔ بلکہ یہ کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا کہ وہ اس طرح کے بیانات سے محظوظ ہوتی ہے۔

بہر حال، کچھ اور بیانات پر نظر ڈال لیتے ہیں۔ مئی 2014 میں وشو ہندو پریشد کے اہم لیڈر آچاریہ دھرمیندر نے نہ صرف مہاتما گاندھی کی قربانیوں کو فراموش کیا بلکہ ان کے لیے نازیبا الفاظ بھی استعمال کیے۔ انھوں نے کہا کہ ’’کوئی ڈیڑھ پسلی والا، بکری کا دودھ پینے اور سوت کاتنے والا شخص ہندوستان کا ’راشٹرپِتا‘ نہیں ہو سکتا ہے۔‘‘ کچھ اسی طرح کی گری ہوئی حرکت انل وِز نے بھی کی۔ رواں سال کے جنوری میں انھوں نے بیان دیا کہ ’’مہاتما گاندھی ایسا نام ہے کہ جس دن سے نوٹ پر چپکا ہے، اس دن سے نوٹ کی ویلیو گرنی شروع ہو گئی۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’کھادی گاندھی کے نام سے پیٹنٹ نہیں ہے اور کھادی کے ساتھ گاندھی کا نام جڑنے سے کھادی اٹھنے کی جگہ ڈوب گئی ہے۔‘‘ حالانکہ بعد میں انھوں نے اپنا یہ بیان واپس لے لیا لیکن ساتھ ہی ٹوئٹ پر یہ بھی لکھ دیا کہ ’’لوگوں کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے اس لیے بیان کوواپس لیا ہے۔ یہ میرا ذاتی بیان ہے۔‘‘ اَب انھیں کون سمجھائے کہ اس طرح کے بیانات صرف جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچاتے بلکہ اُس ہستی پر کیچڑ اچھالتے ہیں جس پر ملک کو اور دنیا کو ناز ہے۔

دراصل بی جے پی یا آر ایس ایس اور وی ایچ پی جیسی تنظیموں کا مقصد اس طرح کے بیانات سے ہندوستانیوں کا ذہن بدلنا اور ملک کی سنہری تاریخ کو بدل کر جھوٹ پر مبنی نئی تاریخ رقم کرنا ہے۔ مذکورہ تنظیموں کے لیڈران کے ذریعہ بار بار اس بات کا احساس بھی دلایا جا تا رہا ہے جس میں بابر، شاہجہاں، ٹیپو سلطان جیسے عظیم بادشاہوں کے خلاف بولنا، انھیں تاریخ کا بدنما داغ قرار دینا اور ان کے ذریعہ ہندوؤں کا قتل عام کرنے جیسی افواہ پھیلانا شامل ہے۔ لیکن کسی بھی ملک کی تاریخ کو بدلنا بہت آسان نہیں ہےاور وہ بھی تب جب عوام کو اپنے ملک کی تاریخ پر فخر ہو۔ لیکن ہمیں اس بات کا خیال ضرور رکھنا چاہیے کہ فرقہ پرست طاقتیں اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ گزشتہ 10 اکتوبر کو معروف صحافی راگنی نایک نے ’فرسٹ پوسٹ‘ ویب سائٹ پر اپنے مضمون میں بہت صحیح فرمایا ہے کہ:

’’آر ایس ایس-بی جے پی اور ان کے اہل کنبہ اپنےجھوٹ کے استعمال میں مصروف ہیں۔ ملک کی عظیم شخصیتوں کے ساتھ آر ایس ایس فیملی کا کھلواڑ اور اپنے دوئم درجے کے لیڈروں کو ملک پر لادنے کی ان کی کوشش پرانی ہے۔ لیکن معاملہ اب بہت سنگین ہے۔ یہاں مہاتما گاندھی کی شہادت پر سوالیہ نشان لگانے اور ناتھو رام گوڈسے کی شبیہ چمکانے کی، گاندھی جی کو غدار اور گوڈسے کو شہید قرار دینے کی اور ’نو وَن کلڈ گاندھی‘ کو حقیقی شکل میں پیش کرنے کی سازش صاف نظر آتی ہے۔‘‘اور یہ ایک خطرنا ک سازش ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 23 Oct 2017, 9:56 PM