درباری صحافت سے معیشت کی بدحالی ندارد... نواب علی اختر

اگر اس موقع پر بھی ہندو-مسلم کا راگ الاپتے ہوئے ملک کی فضاء کو درہم برہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کے لئے یقینی طور پر زرخرید میڈیا اور حکومت نواز انتہا پسند افراد ذمہ دار ہوں گے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

نواب علی اختر

تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل جس وقت سے ملک میں کورونا وائرس کی وباء نے سراٹھایا ہے، عام آدمی سب سے زیادہ پریشان اور مشکلات کا شکار ہے۔ اس دوران سماجی سطح پر ایک دوسرے کی مدد کرنے اور لوگوں کی تکالیف کو دور کرنے کے رجحان کو تقویت حاصل ہوئی ہے، عوام کی آپس میں مدد کے رجحان میں اس بات کا کوئی احساس نہیں تھا کہ کون کس مذہب سے یا کون کس ذات سے تعلق رکھتا ہے۔ تاہم درباری صحافت نے تبلیغی جماعت کے اجتماع کو جس انداز سے ایک الگ ہی رنگ دے کر پیش کیا اور سماج میں فرقہ پرستی کا زہر گھولنے کا کام کیا اس کی وجہ سے سماج میں ایک طرح سے لکیر پیدا ہونے لگی ہے۔ لوگ سبزی جیسی ضروری اشیاء خریدنے کے لئے بھی اب ہندو اور مسلمان کرنے لگے ہیں۔

ایسے وقت میں جب ساری دنیا میں کورونا وائرس نے کہرام مچایا ہوا ہے ہندوستان بھی اس سے متاثر ہے، فرقہ پرستی کا کھیل کھیلنا یا اس کی حوصلہ افزائی کرنا ملک کے مفاد میں نہیں ہوسکتی بلکہ یہی اصل ملک دشمنی ہے۔ ہندوستان نے سبھی مذاہب کے ماننے والوں اور سبھی ذات پات سے تعلق رکھنے والوں کے تعاون کے نتیجہ میں ہی لاک ڈاون کو کامیاب کیا ہے۔ عوام کے تعاون کی وجہ سے ہی کورونا کی وباء کو شدت کے ساتھ پھیلنے سے روکنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اگر اس موقع پر بھی ہندو مسلم کا راگ الاپتے ہوئے ملک کی فضاء کو درہم برہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کے لئے یقینی طور پر زرخرید میڈیا اورانتہا پسند افراد ہی ذمہ دار ہوں گے اور جو لوگ بے لگام زہر افشانی کر رہے ہیں وہ بھی اپنی ذمہ داری سے بری قرار نہیں دیئے جاسکتے۔


عالمی وبا کے دوران عام لوگوں کے مسائل سے چشم پوشی کرکے تنگ نظر میڈیا نے جو رویہ اختیار کر رکھا ہے وہ ہرگز ایک جمہوری ملک کے حق میں نہیں ہے۔ اس میڈیا کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ لاک ڈاؤن کے سبب ملک کی معیشت کس حد تک تباہ ہو رہی ہے اور عام لوگ کس طرح فاقہ کشی پرمجبور ہو رہے ہیں۔ ویسے تو ساری دنیا میں معاشی انحطاط کی بات ہو رہی ہے لیکن ہندوستان کے زیادہ متاثر ہونے کے اندیشوں کو بھی بے بنیاد نہیں کہا جاسکتا۔ مختلف گوشوں سے ملک کی معیشت کے تعلق سے اندیشے ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ کچھ گوشوں کا کہنا ہے کہ کورونا سے نمٹنے کے لیے حکومت نے جو اقدامات کیے ہیں وہ درست تو ہیں لیکن ان میں تاخیر کی گئی ہے جس کی وجہ سے حالات خراب ہوئے، اس کے علاوہ حکومت نے قبل از وقت معیشت پر اس کے اثرات کو کم سے کم کرنے پر بھی کوئی توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے ملک کی معیشت کے لئے صورتحال انتہائی سنگین ہوگئی ہے۔ ایسی حالت میں معاشی سرگرمیوں کے لئے مخصوص منصوبہ بندی ضروری ہے۔

خاص بات یہ ہے کہ مزدوروں کی حالت سب سے زیادہ خراب ہے۔ بیشتر مزدور ایسے ہیں جو اپنی ریاست اور اپنے شہر سے دور ہیں۔ وہ روزگار کی تلاش میں شہر اور ریاست سے دور آئے تھے تاکہ اپنے لئے اور اپنے افراد خاندان کے لیے روٹی حاصل کرسکیں لیکن ایسا نہیں ہو پا رہا ہے۔ تارکین وطن جو مزدور ہیں انہیں سب سے زیادہ پریشانی ہو رہی ہے اور ان میں تعمیراتی مزدوروں کی بھی اکثریت ہے۔ تعمیرات کو سارے ملک میں بند کردیا گیا ہے، کچھ ریاستوں میں صرف سرکاری پروجیکٹ پر کام ہو رہا ہے۔ ایسے میں یہ مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں۔ ان کے لئے حکومتوں کی جانب سے راحت اور مختلف امدادی پیکیج کا اعلان تو کیا گیا ہے لیکن بیشتر معاملات میں ان مزدوروں تک کوئی راحت نہیں پہنچ پائی ہے۔


ترقی یافتہ ملکوں میں فاقہ کشی یا بھوک سے اموات کم ہوتی ہیں لیکن وبا نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا ہے۔ ان ملکوں میں جہاں غربت ہے یا ایسے ممالک جو ترقی پذیر کہلاتے ہیں جیسے ہندوستان میں وبا کا سب سے زیادہ برا اثر ملک کے غریب عوام پر ہوتا ہے۔ گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے لاک ڈاؤن کے دوران ہندوستان کے غریب عوام کے چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں۔ بے سہارا بے یار و مددگار ورکرس فاقہ کشی کا شکار ہو کر تڑپ رہے ہیں۔ ہندوستان کی طرح کئی ملکوں کو کورونا وائرس کے بعد لاک ڈاؤن کی وجہ سے پیدا ہونے والے بھوک کے مسائل سے بھی نمٹنا ہے۔ ہندوستان کو ایک طرف کورونا وائرس کی روک تھام کو یقینی بنانا ہے تو اس کے ساتھ معیشت کی تباہی سے بھی نمٹنا ہے۔

ندوستان میں کورونا وائرس کا زیادہ تباہ کن اثر نہیں ہوا ہے۔ یہ ملک ہولناک، تباہ کاریوں سے بڑی حد تک محفوظ ہے۔ لاک ڈاؤن کے بعد اموات اور متاثرین کی تعداد کو کم کرنے میں مدد ملی ہے۔ اس کے ساتھ ہی لاک ڈاؤن سے پیدا ہونے والی معاشی ابتری، غریبوں کی روٹی روزی چھین جانے اور فاقہ کشی نے صورتحال کو نازک بنا دیا ہے۔ حال ہی میں گجرات کے شہر سورت میں روزانہ کی روزی حاصل کرنے والے سینکڑوں مزدوروں کو آجرین سے پیسہ اور کھانا نہیں ملا تو یہ لوگ سڑک پر نکل آئے اور ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا۔ ایسے ہزاروں مزدور اپنے گھروں سے دور دیگر مقامات پر روزی کے لیے ٹھہرے ہوئے تھے، اب لاک ڈاؤن کے بعد یہ لوگ ایک ماہ سے پھنسے ہوئے ہیں۔ مزید 18 دن کے لاک ڈاؤن کے اعلان سے ان کی ہمت جواب دے گئی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔