سیاسی

طنز و مزاح: سال 2019 میں مودی جی اور ان کے بھکتوں کے آئیں گے برے دن!

یہ سال دراصل طے شدہ مدت کے لئے کنٹریکٹ ملازم ہے، کنٹریکٹ ختم، کام ختم، اس کی توسیع کوئی مودی، کوئی ٹرمپ، کوئی پتن بھی نہیں دے سکتا، نہ توسیع دے سکتا ہے، نہ ہی درمیان میں انہیں کوئی بھگا سکتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا

وشنو ناگر

کوئی آئے بغیر مانے ہی نہیں تو اس کا خیر مقدم کرنا ہی پڑتا ہے لیکن وہ جائے گا ہی جائے گا، جس کا ایک سال پہلے ہم نے بھرپور استقبال کیا تھا تو اسے رخصت کرنے کا بھی فرض بنتا ہے، تو آئیے صاحبان 2019، کو اسی طرح خوش آمدید کہتے ہیں، جس طرح 2018 کا خیر مقدم ہم نے کیا تھا۔ جائیے صاحب 2018، آپ کوخوش آمدید کرچکے ہیں تو اب آپ رخصت بھی ہو جائیے، 2019 کے استقبال کے لیے براہ مہربانی، آپ اپنی رخصت کی پارٹی سمجھ لیجیے، یہی جو اب آپ کے ساتھ ہو رہا ہے ایک سال بعد 2019 کے ساتھ بھی ہوگا اور یہی 2020 کے ساتھ بھی اور یہی سلسلہ چلتا رہے گا۔

یہ سال دراصل طے شدہ مدت کے لئے کنٹریکٹ ملازم ہے، کنٹریکٹ ختم، کام ختم، اس کی توسیع کوئی مودی، کوئی ٹرمپ، کوئی پتن بھی نہیں دے سکتا، نہ توسیع دے سکتا ہے، نہ ہی درمیان میں انہیں کوئی بھگا سکتا ہے، ان پر کسی تاناشاہ، کسی پاگل حکمراں کی اچھی بری حکمرانی نہیں چلتی ہے۔ کوئی ڈاکٹر، کوئی علاج، کوئی تحقیق ان کی عمر نہ بڑھا سکتا ہے، نہ ہی کوئی کم کر سکتا ہے۔

بہرحال 2019 جی کو خوش آمدید کہتے ہیں، جو لوگ نہ آپ کا استقبال کریں گے، نہ ہی رخصت کریں گے، ان کی زندگی میں بھی آپ آکر اور پھر جا کر ہی رہیں گے، ہم تو آپ کا خاص طور پر خیر مقدم کرتے ہیں كيونکہ یہ انتخابی سال ہے، ویسے مودی جی آپ کے آنے سے زیادہ خوش نہیں ہوں گے، مطلب یہ کہ وہ بہت اداس ہوں گے کیونکہ انہیں لگ رہا ہوگا کہ سال 209 میں بھی جا سکتے ہیں۔

اچھا ہے، وہ سابق وزیر اعظم کے قابل کوئی بنگلہ ابھی سے ڈھونڈنا شروع کر دیں، ویسے بھی اس زمانے کے وہ جھولے والے فقیر ہیں تو واستو (ارکیٹیکچر) کے مطابق ہی اپنا بنگلہ لیں گے، چونکہ وہ اکیلے ہی رہتے ہیں اور اکیلے ہی رہیں گے چونکہ ان کے پاس صرف تھیلہ ہی ہو گا تو اکیلے آدمی کو رہنے اور اپنے فقیری جھولے کو رکھنے کے لئے بنگلہ تو بڑا ہی چاہیے ہوگا۔ وہ ہر حال میں منموہن سنگھ اور پرنب مکھرجی کے بنگلے سے بڑا ہونا چاہیے اور شاندار بھی، اور 10 آر سی آر یعنی 10، لوك كليان مارگ کے قریب ہی ہونا چاہیے، تاکہ وہاں دوبارہ شفٹ ہونے کا خواب تو دیکھ ہی سکیں۔

اور اگر یہ ممکن نہ بھی ہو تو اتنا تو طے ہے کہ انہیں اڈوانی جی کے بنگلے کے قریب تو اپنا بنگلہ بالکل نہیں چاہیں گے ورنہ وہ آ کر چڑھائیں گے کہ ’’آئیے مودی جی، ’مارگ درشک منڈل‘ کے اجلاس میں ہم-آپ ساتھ ساتھ چلیں! آپ میری گاڑی سے چلیں گے؟ ویسے میں تو آپ کی گاڑی سے بھی چل سکتا ہوں، ارے ہاں آپ کو مارگ درشن منڈل میں تو جگہ مل ہی گئی ہوگی، اگر نہیں تو آپ کہیں تو میں آپ کے لئے کوشش کروں‘‘۔

دکھی تو مودی جی کے چھوٹے بھائی امت شاہ بھی کم نہ ہوں گے، سوچ رہے ہوں گے کہ ہار گئی پارٹی تو دہلی میں رہ کر بھی کیا کریں گے اور احمد آباد جاکر بھی کیا کریں گے؟ اور اگر جسٹس لويا کا بھوت جاگ گیا تو اس سے کس طرح مقابلہ کریں گے؟ اکڑ کر چلنے اور بگڑے ہوئے بچے کی طرح بولنے کی جو عادت پڑ چکی ہے، اس کا کیا کریں گے اور اگر بغیر اکڑ کے چلیں گے تو کس طرح لگیں گے اور اگر بنا اكڑے چلنا نہ آیا تو دن بھر کیا گھر میں بیٹھے رہیں گے؟ نہ بنانے کے لئے ان کے پاس کوئی حکمت عملی ہو گی اور نہ مارنے کے لئے گھر میں مکھیاں، تو کیا کریں گے وہ، وقت کس طرح کاٹیں گے اور ماریں گے کسے؟۔

ویسے جیٹلی جی تو کہہ دیں گے کہ "میں تو وکیل ہوں، پہلے اڈوانی جی کا وکیل تھا، پھر مودی جی کا ہوا اور اب نیرو مودی، میہل چوکسی کا ہو جاؤں گا، او مہاراج جی، ہمیں کیا فرق پڑے گا!

سب سے بڑی مشکل بھکتوں کی ہوگی، بھگوان نہیں رہے گا تو بھکت، بھکتی کس کی کریں گے! ویسے بھگت اپنا وجود خطرے میں دیکھ کر کوئی نیا مندر، کوئی نیا دیوتا ڈھونڈ ہی لیں گے، کیونکہ بھکت، بھکتی کے بغیر تو رہ نہیں سکتے، حالانکہ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ نیا دیوتا کیا آسانی سے انہیں مل پائے گا؟ ہے بھگوان، انہیں ان کا کوئی نیا بھگوان دلا دینا، کچھ دن تو یہ يوگی جی کی بھکتی کرکے اپنا گزارا کر لیں گے، لیکن صرف چند دن، مودی جی تو مودی جی ہیں، لگتا ہے بھکتوں کے بھی برے دن اب آ رہے ہیں، اب رام بھجن کر بھائی کہ تیرا تھیلہ ہو گیا ہے پرانا۔