بابری مسجد کا مقدمہ نَازک مرحلے میں... سہیل انجم

کچھ باشعور لوگ کوشش کر رہے ہیں کہ ایسا معاہدہ کیا جائے کہ مسلمانوں کے لیے کوئی باعزت راستہ نکل آئے اور امن و امان کو بھی کوئی خطرہ نہ پہنچے۔ اگر ایسا ممکن ہو جائے تو اس سے بہتر کوئی بات نہیں ہوگی۔

تصویر اے آئی این ایس
تصویر اے آئی این ایس

سہیل انجم

ایودھیا میں بابری مسجد کی تعمیر تاریخی شہادتوں کے مطابق بابر کے سپہ سالار میر باقی نے1528 میں کرائی تھی اور اس کا نام انھوں نے بابری مسجد رکھا تھا۔ کچھ دنوں تک تو کوئی مسئلہ نہیں اٹھا لیکن پھر ایک تنازعہ پیدا کر دیا گیا جو رفتہ رفتہ ملک کے ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان بہت بڑے فساد کی جڑ بن گیا۔ اس بارے میں زیادہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ کیسے پہلے بابری مسجد کے باہر چبوترے پر پوجا کی اجازت مانگی گئی اور پھر مانگ بڑھتی گئی۔

وہاں اجازت ملی تو پھر وہاں مندر بنانے کی اجازت مانگی گئی۔ پھر رفتہ رفتہ یہ کہا جانے لگا کہ جہاں مسجد واقع ہے وہاں پہلے رام کا مندر تھا جسے توڑ کر مسجد تعمیر کی گئی ہے۔ پھر یہ کہا گیا کہ مسجد کے مرکزی گنبد کے نیچے رام جی پیدا ہوئے تھے۔ پھر دسمبر 1949 کی ایک شب میں وہاں رام جی کی مورتی پرکٹ ہو جاتی ہے۔ پھر مسجد میں قفل لگا دیا جاتا ہے۔ پھر نماز پر پابندی لگ جاتی ہے۔ پھر عدالتی حکم سے قفل کھول دیا جاتا ہے اور وہاں اندر پوجا ہونے لگتی ہے۔

پھر مسجد کے باہر شلا پوجن ہوتی ہے۔ ا س کے بعد حالات کو یہاں تک پہنچا دیا جاتا ہے کہ بالآخر 6 دسمبر 1992 کو نام نہاد کارسیوکوں کی ایک جنونی بھیڑ اس مسجد کو منہدم کر دیتی ہے۔ فوری طور پر وہاں ایک عارضی مندر بنا دیا جاتا ہے اور تب سے اب تک وہاں پوجا ہو رہی ہے۔ اس درمیان مقدمہ بازی ہوتی رہی اور اسی درمیان الہ آباد ہائی کورٹ نے مسجد کی اراضی کو تین حصوں میں تقسیم کرکے دو حصہ ہندووں کو اور ایک حصہ مسلمانوں کو دینے کا فیصلہ سنا دیا۔

بہر حال مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے متنازعہ اراضی کی ملکیت کا مقدمہ اب سپریم کورٹ میں چل رہا ہے اور یومیہ سماعت ہو رہی ہے۔ اس سے قبل سابق چیف جسٹس جے ایس کھیہر نے ثالثی کرنے کی پیشکش کی تھی جو آگے نہیں بڑھ سکی۔ لیکن موجودہ چیف جسٹس رنجن گگوئی نے اس بارے میں ایک کمیٹی بنا دی جس کو ثالثی کا عمل مکمل کرانا تھا۔ لیکن کمیٹی ناکام رہی۔ اس کے بعد عدالت نے یومیہ سماعت کا اعلان کیا اور اب وہ سلسلہ اپنے حتمی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

اسی درمیان ایک بار پھر سپریم کورٹ کے سابق جج کلیف اللہ کی قیادت والی ثالثی کمیٹی نے عدالت سے کہا کہ پھر ثالثی کی بات اٹھی ہے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ چونکہ سماعت کافی آگے تک بڑھ چکی ہے لہٰذا اسے روکا نہیں جائے گا۔ البتہ اگر بات چیت چلتی ہے تو وہ چلتی رہے اور اسے خفیہ رکھا جائے گا۔ اسی کے ساتھ عدالت نے ایک وقت مقرر کر دیا اور کہا کہ ہندووں اور مسلمانوں کی جانب سے 18 اکتوبر تک اپنے دلائل مکمل کر لیے جائیں۔ اس کے بعد عدالت کو فیصلہ لکھنے کے لیے چار ہفتوں کا وقت درکار ہوگا۔

موجودہ چیف جسٹس 18 نومبر کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔ لہٰذا اگر اس سے قبل یہ مرحلہ مکمل نہیں ہوا اور کوئی فیصلہ نہیں سنایا گیا تو یہ پوری کارروائی بے معنی ہو جائے گی اور اسے از سر نو شروع کرنا پڑے گا۔ ظاہر ہے اس سے عدالت کا بہت زیادہ وقت برباد ہوگا اور سرمایہ بھی صرف ہوگا۔ لہٰذا عدالت کی کوشش ہے کہ 17 نومبر سے قبل اس مقدمہ کا فیصلہ سنا دیا جائے۔

یوں تو بظاہر یہ بہت عام سی بات لگتی ہے کہ ایک مقدمے کا فیصلہ ہوگا لیکن اگر اس کے پورے تنازعے کو دیکھیں اور اس بارے میں ملک کے ہندووں اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو دیکھیں تو کہنا پڑے گا کہ یہ مقدمہ نازک مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور اس کا فیصلہ اگر ہوا تو اس کے وسیع نتائج بھی برآمد ہوں گے۔ ہندووں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ بابری مسجد رام مندر توڑ کر بنائی گئی اور اب یہ بات ہر ہندو کے ذہن میں بیٹھ گئی ہے۔ اس کو کوئی نکال نہیں سکتا۔ اس لیے اگر رام مند رکے حق میں فیصلہ نہیں آیا تو ہندووں کے جذبات بری طرح مجروح ہوں گے اور مشتعل بھی ہوں گے۔

اور اگر فیصلہ مسلمانوں کے حق میں نہیں آیا تو ان کے بھی جذبات مجروح ہوں گے اور مشتعل بھی ہوں گے۔ گویا دونوں صورتوں میں حالات بہت نازک شکل اختیار کرنے والے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہاں ایک مندر کا وجود ہے جہاں چوبیس گھنٹے پوجا ارچنا ہو رہی ہے۔ وہ ایک ایسی حقیقت بن گئی ہے کہ اب اسے مٹایا نہیں جا سکتا۔ اس لیے اگر کوئی دوسری صورت پیدا ہوتی ہے تو اس پر عمل کرنا یا کروانا جوئے شیر لانے سے بھی مشکل ہوگا۔ کیا کوئی ہندو اس بات کو تسلیم کر لے گا کہ اس جگہ پر مسجد بنانے کا آرڈر ہو اور اگر ہو تو کیا وہاں مسجد بنانے کی اجازت دی جائے گی۔ یہ بات بالکل ناممکن سی ہے۔

لیکن اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ وہ یہ کہ اگر مسجد کے حق میں فیصلہ ہوا تو فسادات کے بھڑکنے کا اندیشہ ہے اور اگر مندر کے حق میں ہوا تو اس کی کیا گارنٹی ہے کہ بعض ہندو تنظیموں کی جانب سے جگہ جگہ شوبھا یاترا اور وجے جلوس نہ نکالا جائے۔ ان تنظیموں سے وابستہ نوجوان مسلم علاقوں میں موٹر سائیکلوں سے جلوس لے کر نہ جائیں۔ اگر ایسا ہوا تو کسی نے ایک پتھر بھی پھینک دیا تو فساد رکھا ہوا ہے۔

یہ بھی آسان نہیں ہوگا کہ ہندو تنظیموں کے کارکنوں کے اشتعال انگیز نعروں کو مسلم نوجوان صبر و برداشت کے ساتھ سنتے رہیں۔ وہ کوئی رد عمل ظاہر نہ کریں۔ اور پھر اس صورت میں پورے ملک کے مسلمانوں کی جو حوصلہ شکنی ہوگی اس کا بھی کچھ غلط نتیجہ برآمد ہو سکتا ہے۔ گویا دونوں صورتوں میں ملک کے امن و امان کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔ ا س کی بھی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ بابری مسجد ملنے کے بعد دیگر مسجدوں پر دعویٰ نہ کیا جائے۔

لہٰذا کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ دونوں فریقوں میں کوئی معاہدہ ہو جائے۔ ظاہر ہے اب اگر کوئی معاہدہ ہوگا بھی تو مسلمانوں کو بابری مسجد سے دستبردار ہونا ہوگا۔ کیونکہ اب وہاں پر مسجد کی تعمیر ناممکن ہے۔ اس کے آس پاس بھی مسجد نہیں بن سکتی۔ اگر بن بھی جائے تو وہاں نماز ادا کرنے کون جائے گا۔ اور اگر کوئی گیا بھی تو ہمیشہ اس کی جان کو خطرہ لگا رہے گا۔

اس لیے کچھ باشعور لوگ یہ کوشش کر رہے ہیں کہ کوئی ایسا معاہدہ کیا جائے کہ مسلمانوں کے لیے کوئی باعزت راستہ نکل آئے اور ملک کے امن و امان کو بھی کوئی خطرہ نہ پہنچے۔ کیا ایسا ممکن ہے۔ اگر ممکن ہو جائے تو اس سے بہتر کوئی بات نہیں ہوگی۔ ورنہ فسادات کے اندیشے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور فسادات میں ظاہر ہے مسلمان ہی مارے جائیں گے۔

Published: 22 Sep 2019, 10:10 PM