گجرات میں شمالی ہندوستانیوں پر حملے ملک کو کہاں لے جائیں گے؟

گجرات کے وزیر داخلہ یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ گزشتہ چار پانچ روز کے دوران بہار اور اترپردیش کے لوگوں پر حملے ہوئے ہیں اور حکومت اس کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔

By سید خرم رضا

گزشتہ ہفتہ وزیراعظم نریندر مودی کی ریاست گجرات میں ایک معصوم بچی کے ساتھ ہوئی عصمت دری کے واقعہ کے بعد ریاست میں جو حالات پیدا ہوئے ہیں وہ ملک کی سیاست کو بہت بری طرح متاثر کر سکتے ہیں ۔ اس غیر انسانی عمل کے بعد مقامی گجراتیوں میں بہار، اتر پردیش اور مدھیہ پردیش کے مزدور طبقہ کے خلاف جو غصہ بھڑکا ہے اس نے اس طبقہ میں ایک ایسا خوف پیدا کر دیا ہے کہ اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں یہ مزدور طبقہ گجرات چھوڑکر بھاگنے پر مجبور ہے ۔ دونوں عمل فطری ہیں ، معصوم بچی کے ساتھ ہوئی عصمت دری پر غصہ بھڑکنا اور غصہ کے نتیجے میں ہونے والے حملوں سے مزدوروں میں خوف پیدا ہونا ، لیکن یہاں دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اس طبقہ پر غصہ صرف اس لئے ہے کیونکہ اس طبقہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے یہ غیر انسانی فعل انجام دیا ہے اور دوسرے طبقہ پر غصہ اس لئے کیونکہ اس ایک شخص کے فعل کی سزا پورے ایک طبقہ کو دینا چاہتے ہیں ۔

سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس سارے عمل میں گجرات حکومت کہاں کھڑی ہے۔ ہم اس ریاست کی حکومت کے بارے میں بات کر رہے ہیں جس کو سال 2014 میں پورے ہندوستان میں ایک ماڈل ریاست کے طور پر فروخت کیا گیا تھا۔ سال 2014 میں وزیر اعظم اور ان کی پارٹی نے جس ریاست کے ماڈل کو پورے ملک میں انتخابات کے دوران بیچا تھا وہ یہی ریاست ہے جہاں عصمت دری جیسا غیر انسانی عمل بھی ہوتا ہے اور جہاں غریب مزدوروں پر حملے کر کے ان کو ریاست چھورنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس ماڈل ریاست کی حکومت کے پاس اس کا کوئی حل بھی نہیں ہے ، حل کے نام پر پولس کے ذریعہ غلط بیانی۔ اتنے بڑے واقعہ میں پولس نے محض 342 افراد کو گرفتار کیا ہے اور کئی علاقوں میں پولس کی گشت بڑھا دی ہے ۔ اس سارے مسئلہ کی سنجیدگی اور اپنی نا اہلی پر پردہ ڈالتے ہوئے پولس افسران کا کہنا ہے کہ جو مزدور طبقہ گجرات چھوڑ کر جا رہا ہے اس کی وجہ خوف نہیں بلکہ تیوہار ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ پولس افسران اس بیان سے کس کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔واضح رہے کہ گجرات کے وزیر داخلہ یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ گزشتہ چار پانچ روز کے دوران بہار اور اتر پردیش کے لوگوں پر حملے ہوئے ہیں اور حکومت اس کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔

شمالی ہندوستان کے لوگوں کے خلاف جس اندا ز سے پورے گجرات میں نفرت بھرے پیغامات پھیلائے جا رہے ہیں اور ان پر حملے کئے جا رہے ہیں اس کی وجہ سے ملک کی ایک ریاست گجرات کے خلاف جو نفرت بڑھ رہی ہے اس کا اندازہ شائد مرکز اور خود وزیر اعظم کو نہیں ہے۔ ملک کی سیاست پر اس سارے معاملہ کے دو تین بڑے اثر پڑنے والے ہیں ۔ اس کا پہلا اثر تو گجرات کی معیشت پر پڑے گا ۔ بہار، اتر پردیش اور مدھیہ پردیش سے آنے والا یہ مزدور طبقہ گجرات معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے ۔ جس بڑے پیمانے پر یہ طبقہ گجرات سے خوفزدہ ہو کر بھاگ رہا ہے اس سے تیوہار کے موقع پر گجرات کی صنعت اور معیشت پر بہت برا اثر پڑے گا اور وہاں کی چھوٹی صنعتیں تو پوری طرح بیٹھ جائیں گی۔ اس کا دوسرا اثر یہ ہوگا کہ بہار ، اتر پردیش اور مدھیہ پردیش سے تعلق رکھنے والے یہ مزدور بے روزگار ہو جائیں گے اور اپنی بے روزگاری کا غصہ کہیں نہ کہیں نکالیں گے ۔ اس کا اثر یہ ہوگا کہ ان لوگوں میں گجراتیوں اور بی جے پی کے خلاف نفرت بڑھے گی ۔ یہاں یہ بات غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ملک کے وزیر اعظم کا تعلق اسی گجرات ریاست سے ہے ۔ یہ مزدور طبقہ جن کے رشتہ دار، پڑوسی وغیرہ راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بھی مزدوری کرتے ہیں وہ لوگ وہاں گجرات حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کریں گے۔

واضح رہے کہ ان تینوں ریاستوں میں بی جے پی بر سر اقتدار ہے۔ ان ریاستوں کے بعد اس کا اثر عام انتخابات پر بھی سیدھا پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس کے رہنما سنجے نروپم نے وزیر اعظم کو دو ٹوک الفاظ میں انتباہ کیا ہے کہ وزیر اعظم کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کل ان کو وارانسی میں ووٹ مانگنے بھی جانا پڑے گا۔

شمالی ہندوستان کے لوگوں پر ہونے والے حملوں کا ایک اثر یہ بھی ہوگا کہ اگلے چار ماہ تک یہ مزدور گجرات واپس نہیں جائیں گے جس کی وجہ سے گجرات کی معیشت برباد ہو جائے گی ، نتیجہ گجرات کے مڈل کلاس طبقہ میں جو غصہ پیدا ہوگا اس سے بی جے پی کو عام انتخابات میں نقصان اٹھانا ہوگا کیونکہ اس مڈل کلاس کا غصہ بی جے پی پر ہی نکلے گا۔

مہاراشٹرمیں شیو سینا بھی پہلے شمالی ہندوستان کے لوگوں کے خلاف ایسا کرتی رہی ہے اور اس کا نقصان وہاں کی معیشت پر پڑا ۔ گجرات میں ایسا ہونے کا سیدھا مطلب ہے کہ مختلف ریاستوں کے لوگوں کے درمیان نفرتیں پیدا ہونا ۔ اگر شمالی ہندوستان کے لوگوں کو گجرات چھوڑ کر جانے پر روکا نہیں گیا تو اس نا اہلی کا سیدھا نقصان بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کو انتخابات میں تو ہونے والا ہے ہی، لیکن اس سے ملک کی معیشت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بھی زبر دست نقصان ہوگا۔