انتخابی نتَائج: مودی کا جادو اتر رہا ہے... سہیل انجم

ان انتخابی نتائج سے ایک بات واضح طور پر سامنے آئی ہے کہ اب مودی کا جادو اتر رہا ہے۔ اب عوام جذباتی باتوں کے جھانسے میں آنے والے نہیں۔ انھیں روزگار اور ملازمتوں سے مطلب ہے، ہاوڈی مودی سے نہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

سہیل انجم

مہاراشٹر اور ہریانہ کے اسمبلی انتخابات پر سب کی نظریں لگی ہوئی تھیں۔ حالانکہ یہ الیکشن بالکل یکطرفہ تھا۔ بی جے پی ہی میدان میں تھی۔ اس کے مد مقابل کوئی نہیں تھا۔ اگر کوئی تھا بھی تو بہت کمزور تھا۔ نہ وسائل، نہ حوصلہ۔ نہ جرأت نہ ولولہ۔ جو کچھ تھا سب بی جے پی کے پاس تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایگزٹ پول میں دونوں ریاستوں میں بی جے پی کی شاندار واپسی کی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔

لیکن جب نتائج سامنے آئے تو یہ قیاس آرائیاں دھری کی دھری رہ گئیں۔ بی جے پی اپنا سابقہ ریکارڈ دوہرانے میں ناکام رہی۔ نہ تو ہریانہ میں اسے اکثریت ملی اور نہ ہی مہاراشٹر میں۔ مہاراشٹر میں شیو سینا کے ساتھ اس کا اتحاد تھا۔ اتحاد کو تو اکثریت مل گئی لیکن بی جے پی کو بہت کچھ کھونا پڑا اور اب بھی وہ کلی طور پر اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہاں بلا روک ٹوک حکومت بنا لے۔ شیو سینا کے تیور اسے گھبراہٹ میں مبتلا کیے ہوئے ہیں۔

بی جے پی اور خاص طور پر وزیر اعظم نریند رمودی اور بی جے پی صدر امت شاہ نے اسے بھی قومی الیکشن بنانے کی کوشش کی تھی۔ چونکہ ان لوگوں کے پاس حقیقی ایشوز پر بات کرنے کے لیے کچھ ہے نہیں اس لیے پاکستان اور ساورکر کا راگ الاپا گیا۔ الیکشن سے ایک روز قبل پاکستان کے اندر فوجی کارروائی کروائی گئی اور نہ صرف بی جے پی اور حکومت کے ذمہ داران بلکہ آرمی چیف بھی اس کی تشہیر میں لگے رہے۔ فرضی راشٹرواد اور قومی سلامتی کے ڈھول پیٹے جاتے رہے۔ لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ!

صرف مہاراشٹر ہی میں نہیں بلکہ ہریانہ میں بھی اسمبلی الیکشن کو پارلیمانی الیکشن بنانے کی کوشش کی گئی۔ وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے ہریانہ میں بھی این آر سی نافذ کرنے کا احمقانہ بیان دیا۔ کہاں آسام اور کہاں ہریانہ۔ ہریانہ کی سرحد تو کسی دوسرے ملک سے متصل نہیں ہے تو پھر وہاں این آر سی کی کیا ضرورت۔ لیکن نہیں بی جے پی نے ضرورت پیدا کرنے کی کوشش کی تاکہ اس کی آڑ میں ہندووں اور مسلمانوں میں تفریق پیدا کی جائے اور انتخابی کامیابی کی فصل کاٹی جائے۔

کھٹر کے راگ میں یو پی کے وزیر اعلیٰ یوگی نے بھی راگ ملانے کی کوشش کی اور انھوں نے بھی ضمنی انتخابات میں کامیابی کے لیے این آر سی کو اچھالا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس بارے میں پولس سربراہ کے ذریعے احکامات بھی جاری کروائے گئے۔ لیکن یوگی کا یوگ بھی کسی کام نہیں آیا۔ یہاں تک کہ کملیش تیواری کا قتل بھی کوئی رنگ نہیں لا سکا۔

مہاراشٹر میں یہ جتانے کی کوشش کی گئی کہ این سی پی کے رہنما شرد پوار کی سیاست ختم ہو چکی ہے اور ہریانہ میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ کانگریس دفن ہو گئی ہے۔ لیکن شرد پوار اور کانگریس نے بی جے پی کو بتا دیا کہ وہ کسی غلط فہمی میں نہ رہے۔ نہ تو شرد پوار آوٹ آف ڈیٹ ہوئے ہیں اور نہ ہی کانگریس۔ اسی طرح ہریانہ میں بھی کانگریس زندہ ہے اور پوری قوت کے ساتھ زندہ ہے۔ بی جے پی کو 40 تو کانگریس کو 31 نشستیں ملیں۔ اگر کانگریس بے جان ہوتی تو کیا اسے اتنی نشستیں ملتیں۔

ہریانہ میں سابق وزیر اعلیٰ بھوپندر سنگھ ہڈا اور کماری شیلجا نے زبردست محنت کی اور ان دونوں کی محنت رنگ لائی۔ اسی طرح مہاراشٹر میں کانگریس کے کیڈر نے بے پناہ محنت کی جس کا نتیجہ اس شکل میں برآمد ہوا کہ بی جے پی انتخابی نتائج دیکھ کر ہکا بکا ہو گئی۔ یہ الگ بات ہے کہ اپنی جھینپ مٹانے کے لیے وزیر اعظم مودی اور بی جے پی صدر امت شاہ نے اسے عدیم المثال کامیابی قرار دے دیا۔

جس وقت بی جے پی صدر دفتر پر ریلی کا اہتمام کیا گیا تو بڑی تعداد میں بی جے پی کارکن جمع ہوئے۔ حالانکہ پہلے کے مقابلے میں ان کی تعداد کم تھی۔ لیکن ایک بات بطور خاص محسوس کی گئی کہ کسی کے چہرے پر رونق نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب امت شاہ بولنے آئے اور انھوں نے بھارت ماتا کی جے کا نعرہ لگانے کو کہا تو حاضرین نے کسی جوش کا مظاہرہ نہیں کیا۔ نتیجتاً امت شاہ کو کہنا پڑا کہ ہم کامیاب ہوئے ہیں ذرا زور سے نعرہ لگائیں۔ اس کے باوجود نعرے میں کوئی دم نہیں تھا۔

وہاں موجود راج ناتھ سنگھ کے چہرے پر کوئی رونق تھی اور نہ ہی جے پی نڈا کے چہرے پر۔ خود مودی اور شاہ کے چہرے اترے ہوئے تھے۔ مودی نے چھوٹی سی تقریر کرکے رخصت لے لی۔ ان کو بھی انتخابات میں شکست کا احساس تھا لیکن کارکنوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے انھوں نے اس کامیابی کو ”ابھوت پوروا“ یعنی عدیم المثال قرار دیا۔ اگر دونوں ریاستوں میں بی جے پی کو تن تنہا واضح اکثریت مل جاتی تو وہ اس جیت کو پتا نہیں کیا کہتے۔

ان انتخابات کے نتائج سے ایک بات بہت واضح طور پر سامنے آئی ہے کہ اب مودی کا جادو اتر رہا ہے۔ حقیقی مسائل کے انبار میں دبے عوام جذباتی باتوں کے جھانسے میں آنے والے نہیں ہیں۔ انھیں روزگار سے مطلب ہے۔ ملازمتوں سے مطلب ہے۔ معاشی استحکام سے مطلب ہے۔ ہاوڈی مودی سے نہیں۔ ہاوڈی مودی میں مودی نے کہا تھا کہ ہندوستان میں سب اچھا ہے۔ لیکن اب وہ سوچ رہے ہوں گے کہ کیا انھوں نے ٹھیک کہا تھا۔ ان نتائج نے بتا دیا کہ بی جے پی کے لیے سب اچھا نہیں ہے۔ عوام کے لیے تو پہلے ہی کچھ اچھا نہیں تھا’

Published: 27 Oct 2019, 9:11 PM