کیجریوال کو شاہین باغ ضرور جانا چاہیے... اعظم شہاب

کیجریوال کا دعویٰ ہے کہ ان کی سیاست ملک میں قائم کیے گیے سیاسی مفروضوں سے آگے کی سیاست کرتی ہے، لہٰذا انہیں اب شاہین باغ جاکر اس مفروضے کو توڑنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اعظم شہاب

کسی یک طرفہ عشق فرمانے والے نامراد عاشق کی اس کیفیت کا اندازہ کیجیے کہ جب اس کی لاکھ کوششوں کے باوجود اس کی مطلوبہ کسی اور کی دلہن بننے والی ہو۔ اس بیچارے پر کیا کچھ نہیں گزرتی ہوگی۔ آج دہلی کے رام لیلامیدان میں اروند کیجریوال کی وزیراعلیٰ کے عہدے کی حلف برداری دیکھ کر میرے خیال سے بی جے پی اور خاص طور پر امت شاہ کی وہی کیفیت ہوئی ہوگی۔ جس کیجریوال کو روکنے کے لیے اسے دہشت گرد تک قرار دیا گیا، پولیس کا استعمال اپنے مفاد کے لیے کیا گیا، الیکشن کمیشن کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کیا گیا، کشمیر کے آرٹیکل 370 سے لے کر پاکستان تک کو انتخابی موضوع بنایا گیا۔ ای وی ایم کے بٹن سے شاہین باغ کو کرنٹ لگانے کی اپیل کی گئی، غداروں کو گولی مارنے کے نعرے لگوائے گئے یہاں تک کہ بی جے پی کے شکشت کھانے کی صورت میں دہلی والوں کے گھروں میں شاہین باغ کے لوگوں کو گھسا کر ان کی بہو بیٹیوں کو اٹھا لیجانے اور عصمت دری کرنے کا خوف تک دلایا گیا۔ وہی کیجریوال آج تیسری بار دہلی کے وزیراعلیٰ کی کمان سنبھال رہے ہیں تو ظاہر ہے کہ اسے روکنے والوں کے یہاں ماتمی کیفیت ہوگی ہی۔

دہلی الیکشن میں بی جے پی کی شکشت کے بعد امت شاہ نے اعتراف کیا کہ پاکستان، کشمیر وشاہین باغ جیسے موضوعات کی وجہ سے ان کی پارٹی ہاری ہے۔ اس میں کس حد تک سچائی ہے اس کا تجزیہ تو بڑے بڑے چناوی پنڈت ہی کریں گے، لیکن یہ ضرور سچ ہے کہ اس انتخاب کو جیتنے کے لیے بی جے پی نے اپنی پوری طاقت جھونک دی تھی۔ دہلی ایک مکمل ریاست نہیں بلکہ نصف ریاست ہے۔ کیونکہ اس کا نصف زمام کار مرکزی حکومت کے پاس ہے۔ اپنے پاس نصف رکھتے ہوئے بقیہ نصف کو جیتنے کے لیے بی جے پی نے ہر وہ جتن کی جو کسی بڑی سے بڑی ریاست کو جیتنے کے لیے کیا جاسکتا ہے۔ سام، دام، ڈنڈ، بھید کا ایسا کوئی پہلو نہیں تھا، جو استعمال نہ کیا گیا ہو۔

سب سے پہلے تو شاہ جی نے اس انتخابی مہم کو عملاً اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ انہوں نے تنہا 66 ریلیاں کیں، پورے ملک سے دو سو سے زائد اپنی پارٹی کے ممبرانِ پارلیمنٹ ومرکزی وزراء کو دہلی کی گلی کوچوں میں تعینات کیا۔ 8 ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو دہلی طلب کرکے ان سے ریلیاں کروائیں۔ یوپی کے وزیراعلیٰ اجے سنگھ بشٹ (یوگی) نے چاردنوں تک دہلی میں ڈیرہ ڈالے رہے اور کیجریوال پر شاہین باغ میں بریانی کھلانے کا شوشہ چھوڑا۔ ان سب کے باوجود اگر دہلی میں بی جے پی ہار گئی تو یہ کوئی معمولی ہار نہیں بلکہ یہ ایک ایسی ہار ہے جس کی گونج بہار و بنگال تک سنائی دے گی۔

یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ اب بی جے پی محض دو لوگوں میں سمٹ چکی ہے۔ ایک مودی اور دوسرے امت شاہ۔ پہلے یہ ڈھائی لوگوں کی پارٹی تھی، لیکن جیٹلی کے سورگ سدھارنے کے بعد اب یہ محض دو لوگوں کی پارٹی بن گئی۔ اس میں پہلے نمبر کا حال یہ ہے کہ جب اس نے یہ محسوس کیا کہ اس کے ترکش کے تمام تیر ضائع ہو رہے ہیں تو اس نے اپنی دو ریلیوں کے بعد ہی خاموشی اختیار کرلی، لیکن دوسرے نمبر کے صاحب کو اپنی کامیابی کا بہت زیادہ زعم تھا۔ ووٹنگ کے بعد ان کی پارٹی کے دہلی کے سربراہ نے تو یہاں تک دعویٰ کردیا تھا کہ وہ 48 سیٹیں جیت رہے ہیں۔ خود بی جے پی کے اندرون خانہ یہ بات دعوے کے ساتھ کہی جارہی تھی کہ اس بار 45 کے پار پہنچنے والے ہیں۔ ان سب دعوں کے باوجود اگر پوری پارٹی 8 تک سمٹ جائے تو یہ اس زعم کی ہار کے ساتھ اس چانکیہ کی بھی ہار ہے جس کے بارے میں رام مادھو نے کرناٹک میں حکومت سازی کی کوششوں کے دوران کہا تھا کہ I have Amit Shah۔ اس لیے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ دہلی میں بی جے پی کی ہار سے سب سے زیادہ نقصان امت شاہ کا ہوا ہے کیونکہ ان کی چانکیہ ہونے کی جو شبیہ گزشتہ 6 سالوں سے بی جے پی ڈیولپ کرنے میں لگی ہوئی تھی، وہ اب ختم ہوگئی۔

اب جبکہ اروند کیجریوال تیسری بار وزیراعلیٰ بن چکے ہیں، تو انہیں سب سے پہلے بی جے پی و دیگر پارٹیوں کے ذریعے قائم کیے گیے اس تصور کو توڑنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ اگر کوئی پارٹی یا لیڈر مسلمانوں کے ساتھ کھڑی ہو جائے تو وہ ہندو عوام سے ٹوٹ جاتا ہے۔ اسی تصور کے تحت الیکشن کے ایام میں اروند کیجریوال شاہین باغ نہیں گیے اور وہی نہیں بلکہ بی جے پی وکانگریس کا بھی کوئی لیڈر نہیں گیا۔ بی جے پی والے بار بار اروند کیجریوال کو شاہین باغ جانے کے لیے للکارتے رہے لیکن وہ خود بھی نہیں گئے۔ کیجریوال کا اس کے بارے میں یہ جواب تھا کہ چونکہ شاہین باغ کا احتجاج مرکزی حکومت کے بنائے ہوئے قوانین کے خلاف ہے، اس لیے مرکزی حکومت کے کسی ذمہ دار کو وہاں جانا چاہیے۔ لیکن شاہین باغ ہی نہیں بلکہ پوری دہلی کے عوام یہ اچھی طرح سمجھ رہے تھے کہ بی جے پی یا عام آدمی پارٹی کا کوئی لیڈر شاہین باغ کیوں نہیں جا رہا ہے۔ اس کی واضح وجہ یہ تصور ہے کہ جو بھی لیڈر یا پارٹی مسلمانوں کے ساتھ کھڑی ہوگی وہ ہندوؤں سے دور ہوجائے گی۔ کیجریوال کا دعوی ہے کہ ان کی سیاست ملک میں قائم کیے گیے سیاسی مفروضوں سے آگے کی سیاست کرتی ہے تو انہیں اب شاہین باغ جاکر اس مفروضے کو توڑنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ اس لیے بھی کہ سیاسی پارٹیوں کے ذریعے بنایا گیا مذکورہ بالا مفروضہ دراصل اس ملک کے اکثریتی طبقے کی راست توہین ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملک کے ہندو اس قدر عدم تحمل کے شکار ہیں کہ وہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ کھڑے ہونے والوں کو برداشت نہیں کریں گے اور وہ ہمدردی کے جذبے سے بالکل خالی ہیں۔ اس مفروضے سے ملک کے اتحاد و یکجہتی کا جس قدر نقصان ہو رہا ہے، اسی قدر یہ مفروضہ اپنی جڑیں مضبوط کرتا جا رہا ہے۔ اب جبکہ کیجریوال کامیاب ہوچکے ہیں تو ہم انہیں تیسری بار وزیراعلیٰ بننے پر مبارکباد دینے کے ساتھ یہ مشورہ بھی دیں گے کہ وہ شاہین باغ ضرور جائیں اور صرف شاہین باغ ہی نہیں بلکہ دہلی میں جہاں جہاں بھی احتجاج ہو رہے ہیں، جائیں اور ہندوؤں پر عدم برداشت کا لیبل لگانے والوں کو یہ بتائیں کہ دہلی کا ہندوو مذہب کے نام پر کوئی تمیز نہیں کرتا اور وہ سچائی کے ساتھ رہتا ہے۔

    Published: 16 Feb 2020, 7:11 PM